روشن خیالی



  • روشن خیالی کی حقیقت کو سمجھنے سے پہلے ایک مثال کا جائزہ لے لیجئے، روشن خیالی کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ ایک ہندو اگر اپنے ضمیر کی عدالت میں ذات پات کی تقسیم کو درست نہ سمجھے اور چھوت چھات کا قائل نہ ہو، اس کی نظر میں تمام انسان برابر ہوں۔ حالانکہ یہ شخص ہندو دھرم کی مبادیات کا انکاری ہے، لیکن پوجا پاٹ سرانجام دیتا ہے، بتوں کے آگے سر جھکاتا ہے، تو ایک دوسرے کٹّر ہندو کی نظر میں اس کے تمام افعال قابل تحسین ہیں، لیکن ذات پات کی تقسیم سے انکار اس کے نزدیک دھرم کا اپمان کرنا ہے، اس کٹر ہندو کی نظر میں ایسا ہندو، ہندو دھرم کا مخلص پیروکار نہیں ہو سکتا اور اس کے نزدیک ایسا کرنا ہندو دھرم سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے۔

    ایک مسلمان کی نطر میں اس ہندو کے بقیہ تمام مذہبی افعال تو قابل تحسین نہیں، لیکن ذات پات کی تقسیم سے انکار اس کی نظر میں ایک قابل تحسین فعل ٹھہرے گا، وہ اس کے اس فعل کو سراہے گا، اور اس پر کاربند رہنے پر اس کی حوصلہ افزائی بھی کرے گا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ذات پات کی تقسیم ہندو مت میں ہندو اعتقادات کا حصہ ہے، ہندو مت کے مبادیات دین میں شامل ہے، اس لئے دیگر راسخ العقیدہ ہندووں کی نظر میں یہ ہندو کبھی مستحسن نظر سے نہیں دیکھا جائے گا، اور اس کے برعکس چونکہ ذات پات کی تقسیم سے انکار مسلمان کے کسی اعتقاد کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اعتقاد کے عین مطابق ہے، اس لئے ایک ہندو کی روشن خیالی سے اسے کوئی مسئلہ نہیں۔

    اس تحریر میں اسی بات کا جائزہ لینے کوشش کی گئی ہے کہ انسانی اعتقادات زیادہ اہم ہیں یا انسان دوست نظریات (خواہ ان کا تعلق کسی مذہبی اخلاقیات سے ہو یا نہ ہو) زیادہ اہم ہیں؟ انسان اعتقادات کیلئے ہے یا اعتقادات انسان کیلئے ہیں؟ اہمیت انسان کی زیادہ ہے یا اس کے اعتقاد کی؟ کیوں ایک راسخ العقیدہ انسان ہر حال میں اپنے اعتقادات کو ہی اہمیت دیتا ہے، اس کی سوچ کیوں صرف اپنے اعتقادات کے تقدس کے گرد ہی گھومتی ہے اور وہ اپنے اعتقاد کے خلاف کسی بہتر سوچ کے بارے میں سوچنے پر آمادہ ہونے کیلئے بھی تیار نہیں؟

    روشن خیالی درحقیقت عقیدہ کی قید سے آزاد ہو کر اپنے عقیدے میں بیان کی گئی اخلاقیات سے بہتر اخلاقی قدر سے واقف ہو کر اسے تسلیم کرنے اور اپنانے کا نام ہے۔ یہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کا نام ہے۔ یہ ایثار کا نام ہے، قربانی کا نام ہے، یہ کمتر سے بہتر کی طرف سفر کا نام ہے، یہ تقلید کی زنجیر توڑنے کا نام ہے، یہ روایت پرستی سے آزادی کا نام ہے، ایک قدم اور بڑھاتے ہوئے کہنے دیجئے کہ یہ گمراہی سے ہدایت پا جانے کا نام ہے۔ ایک روشن خیال انسان کے نزدیک عقیدے سے زیادہ انسانیت کی اہمیت ہوتی ہے، وہ اخلاقی قدریں اپنانے کیلئے مذہبی حدود و قیود کا مقید نہیں ہوتا، اسے اچھی اخلاقیات جو انسان دوستی پر مبنی ہوں خواہ مذہب سے حاصل ہوں یا مذہب کے باہر سے، انہیں اپنانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔روشن خیال معاشرے کے ہر طبقہ اور مکتب فکر کا فرد ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ اس کی مخالفت عموما مذہبی عناصر کی جانب سے کی جاتی ہے اس لئے روشن خیال لوگوں کوغلط فہمی کی بنیاد پر عام طور پر مذہب دشمن تصور کیا جاتا ہے۔

    ایسے روشن خیال ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں، ایسے افراد اپنے ہم مذہب لوگوں کے برعکس دیگر مذاہب کے متبعین کی نظروں میں عموماً ہیروز کا درجہ رکھتے ہیں، ہندو مت میں ستّی کے خلاف تحریک چلانے والا، اور ستّی پر قانونی پابندی عائد کرانے والا بھی ایک ہندو ہی تھا، عیسائیت میں پاپائیت کے علم بغاوت بلند کرنے والا، خالق و مخلوق کے درمیان پادری کی دلّالی کے خلاف آواز بلند کرنے والا بھی ایک عیسائی ہی تھا۔ کون صاحب عقل سلیم مسلمان ہوگا جو راجہ رام موہن رائے جس نے ستی کی رسم ختم کرائی، اور مارٹن لوتھر، جس نے پاپائیت کے چنگل سے عیسائیوں کو نجات دلائی، کی خدمات کو نہ سراہے گا؟ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز کے سامنے اپنے اعتقادات کو قربان کیا، ایک بہتر اخلاقی قدر کو ترجیح دی، راجہ رام موہن رائے ایشور کو مانتا تھا، مارٹن لوتھر خدائے ازلی پر کامل ایمان رکھتا تھا، لیکن ان دونوں کو اس بات کا یقین کامل تھا کہ اگر کوئی ایشور ہے، اگر کوئی خدا ہے تو وہ اس قدر ظالم اور سنگ دل نہیں ہو سکتا کہ اس قدر سنگدلانہ احکامات منوانے سے اسے مسرت و راحت حاصل ہوتی ہو۔

    ایسے روشن خیال افراد، مذہب اسلام کو بھی میسّر آ جائیں تو ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے۔ اگر کسی مسلمان کا ضمیر رجم کی سزا سے مطمئن نہ ہو،اس کی اخلاقیات پتھر مار مار کر کسی کی جان لینے کو گوارا نہ کرتی ہو، وہ جہاد کی سیاسی تشریح سے متفق نہ ہو، وہ مرتد کی سزا قتل کو انسان کی بنیادی آزادی کے خلاف سمجھتا ہو تو اس میں کیا برائی ہو سکتی ہے؟ اس سے معاشرے میں کون سی برائی یا فساد پھیلنے کا خدشہ ہے؟ زانی پر رجم کی مخصوص سزا نافذ کرنا زہادہ اہم ہے یا زنا کے اسباب کا سدِّ باب کرنا زیادہ ضروری ہے؟ کیا سروں پر حکومت قائم کرنا دلوں پر حکومت کرنے سے کسی طرح بہتر ہو سکتا ہے ؟ کیا ستّی کی رسم ختم ہونے سے ہندو معاشرے میں فساد برپا ہوا یا انسانیت کو سکھ کا سانس نصیب ہوا، کیا پاپائیت کا اقتدار ختم ہونے سے معاشرے کی بنیادیں ہل گئیں یا معاشرہ مزید مستحکم ہوا؟

    ایسا کیوں ہے کہ روشن خیالی کی روایت شکن سوچ، سوچنے والا مسلمان آج کے اس دور میں ہندووں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ہاں تو ہیرو بن جائے گا، لیکن مسلمان ایسے روشن خیال مسلمان کی جان کے درپے ہو جائیں گے؟ روشن خیالی نے دنیا میں بہتری کو ہی ترویج دی ہے، کیا مسلمان دنیا کے کسی ایک روشن خیال معاشرے کی نشاندہی کر سکتے ہیں کہ روشن خیالی ان کے اپنے معاشرے کیلئے وبال جان بن گئی ہو؟ اور وہ روشن خیالی کو اپنے معاشرے کیلئے تباہ کن تصور کرتے ہوئے روشن خیالی سے نجات کے متمنی ہوں۔

    مذہبی اعتقادات اور احکامات سے بغاوت سے کوئی مذہب مستثنیٰ نہیں ہے، مثلاً ہندو دھرم میں گوشت خور یا شاکا ہاری ہونا مذہبی اعتقاد اور حکم سے بغاوت ہے، لیکن ایسی بغاوت کو ہندو دھرم میں گوارا کر لیا جاتا ہے، اسی طرح شراب نوشی اسلام کے اعتقاد اور حکم سے بغاوت ہے، لیکن شراب نوشی کسی مسلمان کے اسلام پر اس قدر اثر انداز نہیں ہوتی کہ اسے اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے، بالفاظ دیگر ایک شراب نوش کو بھی اسلام میں گوارا کر لیا جاتا ہے، لیکن اس کے برعکس، کوئی ایسا نظریہ یا سوچ اختیار کرنے سے جس سے انسانیت کا بھلا ہو غور و فکر کرنے کے بجائے مذہبی ملّائیت فوراً متحرک ہو جاتی ہے اور اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی محرّک سوائے منفی سوچ کے اور کچھ نہیں ہے۔ اگر انسانیت کی فلاح ہی مذاہب کا بنیادی مطمع نظر ہے تو ہر ایسی روایت شکن سوچ کی جس سے انسانیت کی فلاح ممکن ہو مخالفت غیر معقول ہے، روشن خیال طبقہ، ایسی باغیانہ اور روایت شکن سوچ کو جسے وہ انسانیت کیلئے مفید تصور کرتا ہے ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے اور مذہبی طبقہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتا ہے۔ مذہب کے ذمہ داروں کو اپنی اس روش پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ عقل مند انسانوں نے انسانیت کیلئے مفید سوچ کو فوراً قبول کیا اور کی ترویج کیلئے کوششیں سر انجام دیں، اور مذہبی ملّائیت پہلے پہل تو اس کے خلاف کمر بستہ ہوتی ہے، پھر انسانی معاشرے میں اس سوچ کے اثر و نفوذ کے بڑھ جانے کے بعد نا صرف اسے قبول کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، بلکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ سوچ تو اس کے مذہب کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔

    http://realisticapproach.org/?p=6206





  • اگر انسانیت کی فلاح ہی مذاہب کا بنیادی مطمع نظر ہے تو ہر ایسی روایت شکن سوچ کی جس سے انسانیت کی فلاح ممکن ہو مخالفت غیر معقول ہے، روشن خیال طبقہ، ایسی باغیانہ اور روایت شکن سوچ کو جسے وہ انسانیت کیلئے مفید تصور کرتا ہے ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے


    ہیومن ویل بینگ بھی مذہب کی طرح ایک بلیف ہے . اگر روشن خیالی کی بنیاد ہیومن ویل بینگ ہے تو اس میں اور مذہب میں کیا فرق ہے ؟

    دونوں ہی بلیف پر قائم ہیں



  • آپ نے شائد مکمل مضمون پڑھے بغیر ہی تبصرہ کر دیا ہے، اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ روشن خیال افراد کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو سکتا ہے۔ اس مضمون میں مذہب کا روشن خیالی سے موازنہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ مذہب کے ایک نامناسب رویئے کو درست کرنے کی تجویز دی گئی ہے



  • روشن خیالی درحقیقت عقیدہ کی قید سے آزاد ہو کر اپنے عقیدے میں بیان کی گئی اخلاقیات سے بہتر اخلاقی قدر سے واقف ہو کر اسے تسلیم کرنے اور اپنانے کا نام ہے

    یہی تو اصل میں تمام فساد کی جڑ ہے ....ایک مسلمان کے لیے تو یہ تصور ہی حرام ہے کہ اسلام سے بہتر کوئی مذہب یا قرآن سے بہتر کوئی کتاب بھی موجود ہے ....یہ سوچ صرف مسلمانوں میں نہیں بلکہ ہندوؤں ، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں میں بھی پائی جاتی ہے...سب کے نزدیک ان کا اپنا مذہب اور صحیفے مقدم ہیں .......اسلام میں خاص طور پر شک کی رتی برابر گنجائش نہیں چھوڑی گئی ہے .........یہی وجہ ہے کہ جو مسلمان دوسرے مذاہب، دوسرے عقیدوں یا تہذیب و ثقافت سے متاثر ہوکر کسی اسلامی اصول کے مقابلے میں غیر اسلامی قانون یا روایت کو اچھا سمجھتے ہیں ان پر اکثر ارتداد کے فتوے لگتے ہیں ....میں نے دنیا گھومی ہے مگر ایک مذہب یا عقیدہ چھوڑنے پر قتل کی سزا کا تصور اسلام سے باہر کہیں نہیں پایا ...ایک مسلمان صرف مرتد ہوکر کر ہی روشن خیال بن سکتا ہے



  • @Mullah Phirki Saab

    Nice article!

    مذہبی اعتقادات اور احکامات سے بغاوت سے کوئی مذہب مستثنیٰ نہیں ہے، مثلاً ہندو دھرم میں گوشت خور یا شاکا ہاری ہونا مذہبی اعتقاد اور حکم سے بغاوت ہے، لیکن ایسی بغاوت کو ہندو دھرم میں گوارا کر لیا جاتا ہے، اسی طرح شراب نوشی اسلام کے اعتقاد اور حکم سے بغاوت ہے، لیکن شراب نوشی کسی مسلمان کے اسلام پر اس قدر اثر انداز نہیں ہوتی کہ اسے اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے، بالفاظ دیگر ایک شراب نوش کو بھی اسلام میں گوارا کر لیا جاتا ہے، لیکن اس کے برعکس، کوئی ایسا نظریہ یا سوچ اختیار کرنے سے جس سے انسانیت کا بھلا ہو غور و فکر کرنے کے بجائے مذہبی ملّائیت فوراً متحرک ہو جاتی ہے اور اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتی ہے۔

    If Hindu eats meat or Muslim drinks wine - they are hurting themselves in the eyes of the state and their punishment is minimal. But if somebody is challenging certain Philosophy like God didn't intend this way or that way - he is challenging the very foundation that political structure is standing on. He is threatning the powers that derive their strength from such dogmas. It is not surprising he is outlawed and face toughest punishments possible. Precisely the reason Article 6 (that never invokes) prescribes death punishment.



  • آرٹیکل میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ:

    ” روشن خیالی درحقیقت عقیدہ کی قید سے آزاد ہو کر اپنے عقیدے میں بیان کی گئی اخلاقیات سے بہتر اخلاقی قدر سے واقف ہو کر اسے تسلیم کرنے اور اپنانے کا نام ہے “

    اسلام میں لونڈیاں رکھنا غلام بنانا جائز ہے، اور اسلامی احکامات اور عقائد کے اعتبار سے اس میں کوئی خرابی نہیں بعد میں ایک اور اخلاقیات نے جنم لیا اور غلامی کو انسانیت کے خلاف قرار دے دیا گیا، تو اب اگر کوئی مسلمان غلامی کے احیاء کیلئے جدوجہد کرنا شروع کر دے تو کیا آپ اسے سپورٹ کریں گے ؟



  • Roshan Khayali is a biological blessing which guides a person to acknowledge a logical and rational universal truth to the best of satisfaction.

    A Roshan Khayal feels awkward in a situation when he/she is bound to compromise the social or cultural pressure.

    All humans are born with three major instincts,

    1. Conservative

    2. Progressive

    3. Centralist



  • Mullah Phirki

    آپ نے شائد مکمل مضمون پڑھے بغیر ہی تبصرہ کر دیا ہے، اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ روشن خیال افراد کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو سکتا ہے۔ اس مضمون میں مذہب کا روشن خیالی سے موازنہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ مذہب کے ایک نامناسب رویئے کو

    درست کرنے کی تجویز دی گئی ہے


    ملا پھرکی / پ چ اسکالر

    اپنے ہر روپ میں فرج کو الماری سمج کر خریدنے کی کوشش کر رہا ہے

    کاکول اسکول اوف روشن خیالی سے جب بھی ایک لفتا پاسنگ اوٹ پریڈ کر کے جب نچرل لفٹیں بنتا ہے تو اسے روشن خیالی کا دورہ پڑھ جاتا ہے

    آپ نے شائد مضمون پڑے بغیر لکھ دیا . کیا فرمایا ہے جناب نے

    مضمون میں روشن خیالی کے نام سے زبردست ہوائی فائرنگ کی گئی ہے .

    یہ "برائٹ تھوٹس " دال چنے کھانے کے بعد داغے گئے ہیں

    اپنے خیالات والے بونڈو اس بات سے لا علم ہیں کہ

    سٹوک فلاسفی کیا ہے ؟

    ہیومن ازم /انسانیت ازم کیا ہے اور اس آئیڈیا کا کیا تاریخی پس منظر ہے

    انقلاب فرانس کے بعد سوشل آرڈر کیسے چینج ہوا

    صنعتی انقلاب کے بعد کیا چینجز ہوئیں

    ہیومن رائٹس کا آئیڈیا کیا ہے اور اس کی ہسٹری کیا ہے

    ایک پینڈو جس کے گھر والے سخت ہو ماڈرن بننے کے لئے انگلش کا ایک گانا سن لے

    تو جدھر کوئی انگلش بول رہا ہو گا وہاں اپنا گانا لے کر پوھچ جائے گا

    جس پینڈو کو یہ نہیں پتہ کہ کون والی آئس کریم کے ارد گرد ٹشو پیپر آئس کریم کے ساتھ کھانا ہے کہ نہیں

    وہ انٹرنیٹ پر روشن خیالی کا پرچار شوروح کر دے گا

    باقی مجلس ساتش باہمی کے ممبران بھی واہ واہ کا شور مچا کر باقی کسر پوری کر دیں گے





  • روشن خیالی کا پہلا زینہ اپنے مذہب ، عقیدے اور تاریخ میں شامل قابل اعتراض تعلیمات اور واقعات کو رد کرنا ہے ....کتنے مسلمان ہیں جو یہ کہ سکتے ہیں کہ چھ سالہ بچی سے نکاح ناجائز تھا ....کسی یہودی عورت کے خاوند اور باپ کو قتل کرکے اسی رات اس عورت سے شادی کرکے سہاگ رات ماننا احسن اقدام نہیں تھا ...بنو قریظہ کو ملنے والی سزا بلکل غلط تھی .....ایک مرد کو چار چار بیویوں سے مزے کرنے کی اجازت ناانصافی اور غیر مساوات پر مبنی ہے...عورت کی گواہی آدھی نہیں ہے ....عورت کا جائداد میں حصہ مرد سے کم نہیں ہونا چاہئیے؟ اکا دکا کو چھوڑ کر کسی مسلمان میں اتنا حوصلہ نہیں کہ کھلے عام حضور تو کیا صحابہ کی کسی بات پر بھی تنقید کر سکے

    مجھے تو کوئی ایسا مسلمان نہیں ملا جو یہ کہتا ہو کہ غلامی ناجائز تھی اور ہے لونڈی بنانا غلط تھا اور ہے ........بلکہ اسی فورم میں موجود اکثر فنڈوؤں کا عقیدہ یہی ہے کہ خلافت قائم ہوجاتی ہے تو لونڈیاں ازخود حلال ہوجائیں گی



  • Murder of Salman Taseer was murder of Roshan Khyali.

    Most of Roshan Khyal, now feel scared to exercise Freedom of Expression.

    What we are discussing at this thread?



  • قرار صاحب

    مذہب ایک اکثریتی فیصلہ ہے کہ مقدس کو جانےکا راستہ کیا ہے ؟

    اگر آپ کو وہ راستہ پسند نہیں تو اس پر نہ جائیں . کوئی زبردستی نہیں ہے اور اگر آپ کے ساتھ زبردستی ہو پھر یہ کھلی بدمعاشی ہے . اس کا جواب سیچواشن دیکھ کر دیا جا سکتا ہے .

    جتنا مذہب کو میں نے پڑھا ہے اور جو ارگمنٹ مجھے اپنی ناقص عقل کو استعمال کر کے سمج آیا ہے وہ یہ ہے

    کہ مذہبی لوگ اپنے سے مختلف مذہب کے انسان کو انسان ہی نہیں سمجھتے

    وہ شائد یہ سمجتھے ہیں کہ انسان مذہبی صراط ال مستقیم کو فالو نہ کر کے انسان نہیں رہتا بلکہ جانور کی کیٹگری میں ا جاتا ہے

    اور جانور کے ساتھ جانور والا سلوک کیا جا سکتا ہے

    اس ریزننگ کے ساتھ کوئی مذہبی آدمی ہی اتفاق کر سکتا ہے

    جس بات کی طرف میں تمام روشن خیال حضرات کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ

    غیر مذہب انسان کو لیبل لگا کر جانور بنانا اور اس کی انسانیت اس سے چھینا ایک بلییف ہے

    انسانیت ایک بلیف ہے

    ہیومن رائٹس ایک بلیف ہے

    اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے ویلیو ججمنٹ ہے

    ایک آدمی جو لونڈیاں رکھ کر فضل ربی انجوے کر رہا ہے وہ بلیف کی وجہ سے ہے

    اسے اگر کوئی انسانیت کا سبق پڑھانے کی کوشش کرے گا تو وہ بھی ایک بلیف ہے



  • لوٹا صاحب .......صحیح ہے کہ بیلیف کسی نہ کسی ویلیو سسٹم پر قائم ہے مگر ایک بیلیف جو دوسروں کو افیکٹ کرتا ہے اس کو صحیح یا غلط کہا جاسکتا ہے ....سارے بلیف صحیح نہیں ہوتے ..اور یہ صحیح غلط مقامی نہیں بلکہ آفاقی کونٹیکسٹ میں ہوگا ......ایک بیلیف ہے کہ میں طاقت کے زور پر ہمسائے کے گھر پر قبضہ کرسکتا ہوں ...یہ صحیح ہے یا غلط؟ دوسرا بیلیف کہ رات کو اکیلا سفر کرنے پر عورت کا ریپ جائز ہے .......یہ صحیح ہے یا غلط؟



  • .......صحیح ہے کہ بیلیف کسی نہ کسی ویلیو سسٹم پر قائم ہے مگر ایک بیلیف جو دوسروں کو افیکٹ کرتا ہے اس کو صحیح یا غلط کہا جاسکتا ہے ....سارے بلیف صحیح نہیں ہوتے ..اور یہ صحیح غلط مقامی نہیں بلکہ آفاقی کونٹیکسٹ میں ہوگا ......ایک بیلیف ہے کہ میں طاقت کے زور پر ہمسائے کے گھر پر قبضہ کرسکتا ہوں ...یہ صحیح ہے یا غلط؟ دوسرا بیلیف کہ رات کو اکیلا سفر کرنے پر عورت کا ریپ جائز ہے .......یہ صحیح ہے یا غلط؟


    قرار صاحب

    ہمسائے کے گھر پر قبضہ کرنا ہے کہ نہیں

    اکیلی عورت کا ریپ کرنا ہے یا نہیں

    ١٠ سال کی بچی کے ساتھ رنگ رلیاں منانی ہیں یا نہیں

    کسی کی بیوی کو غلام بنا کر اس کا نکاح خود ہی منسوخ کر کے اس کے ساتھ ہنی مون ماننا ہے یا نہیں

    کسی کے بچے کو غلام بنانا ہے یا نہیں

    ان سب سوالوں کا کوئی آفاقی جواب نہیں ہے

    ہر صورت میں ریسوننگ/ سوچ کا استعمال ہوتا ہے

    اصل بلیف "ہیومن ویل بینگ " کا ہے اور "انفرادی حقوق " کا ہے جس سے موجودہ تہذیب کے گلوبل آئیڈیا نکلے ہیں

    دن کے آخر میں یہ بات یاد رکھنے والی ہے دونوں طرف کی ڈاکٹرائن کسی نہ کسی بلیف سے نکل کر ا رہی ہے



  • lota Saheb

    The doctrine of nature will fail if any of the two poles failed. Positive pole becomes ineffective if negative fails, and vice-versa. In the doctrine of religion is hidden a hidden motive i.e. power through creating fear and greed, whereby in the doctrine of non believers is hidden nothing i.e. everything is clear and based upon logic and fairness. Interestingly, as I said above, both are useless without each other. "No loses it's value without yes."