’میرے گیتا پڑھ لینے پر اتنی بحث کیوں؟‘



  • 12

    سالہ مریم صدیقی کو ہندوؤں کی مقدس کتاب ’گیتا‘ سے متعلق ایک مقابلہ جیتنے کے بعد ملنے والی شہرت تو پسند آ رہی ہے لیکن ان کے دل میں کئی سوالات بھی ہیں۔

    بھارتی شہر ممبئی کی رہنے والی مریم نے حال ہی میں گیتا پر ہونے والے ایک بڑے مقابلہ جیتا ہے جسے اسکان نامی ایک ادارے نے منعقد کیا تھا۔ اس مقابلے میں تین ہزار لڑکے اور لڑکیوں نے حصہ لیا تھا۔

    اس واقعے کے بعد بھارتی ٹیلی ویژن چینل، میگزین، اخبار اور دوسرے لوگ مریم سے مسلسل بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    تاہم مریم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پوچھا: ’میرا ایک سوال ہے آپ سے اور وہ یہ کہ جب کوئی گیتا یاد کر لیتا ہے ان سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے؟‘

    انھوں کا کہنا ہے: ’میں نہیں جانتی کہ کیا یہ سب اس لیے ہے کہ میں مسلمان ہوں یا پھر واقعی اس لیے کہ میں نے گیتا پڑھی ہے؟‘

    مریم سمجھتی ہیں کہ اگر وہ مسلمان نہ ہوتیں تو شاید انھیں اتنی توجہ نہ ملتی۔ ان کے ذہن میں ایک اور سوال بھی ہے۔ ’جب تمام مذاہب ایک جیسے ہیں تو صرف میرے گیتا پڑھ لینے پر اتنی بحث کیوں؟‘ گیتا پڑھنے کو بس ایک شوق قرار دینے والی مریم کا کہنا ہے کہ انھوں نے دوسری مذہبی کتابیں بھی پڑھی ہیں لیکن ان کے بارے میں سوال نہیں ہو رہے ہیں۔

    بھارت میں بی جے پی کی حکومت کے بعض وزرا ہندوؤں کی مقدس کتاب گيتا کے بعض اجزا کو سکول کے نصاب میں شامل کرنے کی بات کرتے رہے ہیں اور بعض رہنما تو یہ بھی مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اس کتاب کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔

    چند مقامی رہنماؤں کے اس معاملے پر بیان بازی کرنے سے متعلق مریم کہتی ہیں ’میں نے گیتا اس لیے پڑھی کیونکہ میں اپنے ماں باپ کو اس کا مطلب بتانا چاہتی تھی، سیاست میرامقصد نہیں ہے۔‘

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مسلمان نےگیتا پڑھی ہے تو اسے سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

    ان سے پوچھے گئے ایک سوال پر کہ کیا ان کے ایسے ہندو دوست بھی ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں؟

    اس پر ان کا کہنا تھا: ’میں ان کی زندگی کے متعلق تو کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن ہاں ابھی تک میرے کسی دوست نے کبھی قرآن کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش نہیں کی ہے۔‘ مریم کے ساتھ ان کے والد بھی موجود تھے جو خود ایک میڈیا کا ادارہ چلاتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اپنے بچوں کو انھوں نےمذاہب میں فرق کرنا نہیں سکھایا لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ روزمرہ کی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔

    ’لو جہاد‘ کے سوال پر ان کا کہنا تھا: ’میں جانتا ہوں کہ یہ ایک حقیقت ہے اور کئی لوگ ایسے ہیں جو مذہب کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔ لو جہاد اور تبدیلیِ مذہب جیسی چیزیں ہی تقسیم کا باعث ہیں اور وہ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان اپنے مطلب کے لیے لوگوں میں تقسیم پیدا کرتے ہیں۔‘

    اپنے والد کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مریم نے کہا: ’جب تمام مذاہب کی کتابیں ہمیں ایک جیسی باتیں سكھاتی ہیں تو پھر ہمارے ملک میں یہ فرقہ وارانہ فسادات کیوں ہوتے ہیں، یہ کون لوگ ہیں جو نفرت پھیلا رہے ہیں؟‘

    12

    سال کی اس بچی کے اس معصوم سے سوال کا جواب نہ تومجھے پتہ تھا کہ گیتا میں تھا یا نہیں، نہ اس کا جواب ان کےوالد کے پاس ہے اور مریم بات چیت کو ختم کر کے مجھے اسی سوال کے ساتھ چھوڑ کر چھوٹے بھائی کے ساتھ باہر نکل گئیں۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/04/150406_muslim_girl_geeta_quiz_zh



  • What's Islam's position on Muslims reading other religious books? Is it permissible?



  • In our college back home in Islamic studies the student who topped in our class with 46/50 was Christian. When teacher found out he topped the class even though he never attended the class he was curious like Mumbai's media. His answer was simple - it's just a book, I read it as a book and took exam - I didn't focus on if it contradicts my faith or not.



  • @Qarar

    "What's Islam's position on Muslims reading other religious books? Is it permissible?"

    1. You should have posted this thread in "Faith and Religion" and not in "Current Issues"

    2. You really want to know, do some research by yourself by posting this question to a Religious Scholar (there are many internet sites available)

    BUT, as usual you are being mischievous and stirrer and for these reasons I declare your post and thread as a total and utter TRIPE!!!



  • @Anjaan,

    You are not suggesting that 'tripe' posts belong to the 'tripe category', are you? man, try to respect your own religion, that wasn't nice...referring to the F&R section as a storage place for tripe topics.

    ;-)



  • Comprehension is your problem as well as of Joginder Singh.