Should Pakisatn send troops in Yamen



  • This is a burning question nowadays in Pakisatn, and i will say NO not at all, Pakistan should not take part in it and stay away from taking care of its own house,instead of poking nose in the external affairs of others.



  • You and me are not power base. The power lies with only one institution of Pakistan which you and me know very well.

    It is a billion dollar project dear. The power base knows how to convert a NO to YES.



  • It may be a billion dollar project NOW but the so called power base should consider the FUTURE, the future of the next generations.

    This is what we lack in the decision makers. They take their eye completely "off" of the future!



  • BEST OPPORTUNITY for Pakistan Military to take over Saudi Arabia and Yemen.

    TWO Sections of Brigade 10 could be dispatched to remove the Governments and impose MARTIAL LAW in Saudi Arabia and YEMEN.

    Pakistan Military is Great to perform such mission.



  • Javed Sheikh Saheb

    Indeed a very nice and wishful thinking. However, the problem is that ours are the slave to Saudi Kingdom, and not to Islam.



  • @ He Sikh

    Go back to bed and bottle. It is too early in the morning for you to say something sensible but then Do you Ever!!!!



  • This could be a good business opp; we should consider it seriously. All other countries are using IT/Manufacturing goods/Agriculture to boost their economy and since we have non of the above and our armed forces are well trained so why not use it for good cause.

    $1 Bill for on brigade is not a bad idea. Our army have experience in fighting / creating terrorist, hitting hard on citizens of any country/city be it Karachi or Dhaka....

    and having experience to run Fuji Foundation is plus

    PAK FAUJ Zindabad



  • جنگ خود لڑنے کی کیا ضرورت ہے

    سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے فوج مانگنے کے بعد ایک سوال اکثر لوگوں کے ذہن اٹھ رہا ہے کہ سعودی افواج کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہونے کے باوجود آخر پاکستان سے افواج بھیجنے کا کیوں مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    حالیہ برسوں میں سعودی عرب کی جانب سے اسلحہ برآمد کرنے کی شرع میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

    گزشتہ برس سعودی عرب چھ ارب ڈالر سے زیادہ کا اسلحہ خریدنے کے بعد اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں سرِفہرست تھا۔

    سعودی افواج جدید ابراہام ٹینکس، آپاچی اٹیک ہیلی کاپٹر اور ایف 15 جنگی جہازوں سے لیس ہے۔

    اتنے جدید اسلحے کی حامل افواج کو چند ہزار باغیوں سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔

    لیکن اگر دیکھا جائے تو اسی کی دہائی سے پاکستانی افواج کم یا زیادہ تعداد میں سعودی عرب میں موجود رہی ہیں۔

    اگرچہ اس کے پیچھے بہت سے دفاعی اور سیاسی عوامل ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں بہت کچھ لکھا بھی جا چکا ہے لیکن سعودی افواج کی اہلیت اور نفسیات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے براِہراست رابطے میں رہنے والے افراد سے بات کی جائے۔

    ریٹائرڈ کرنل امداد جن کا تعلق پاکستانی افواج کے شعبہ ائر ڈیفنس سے تھا سنہ 1982 اور 1983 میں سعودی عرب کے شہروں شرورہ اور خمیص میں اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے ہیں۔

    واضع رہے کہ اسی کی دہائی میں پاکستانی افسران سعودی افواج کی تربیت میں پیش پیش تھے اور اسی دور میں بہت سی نئی سعودی یونیٹس اور کنٹونمنٹس بنائے گئے تھے یا ان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک فوجی ہونے کے ناطے سے جو چیز میرے لیے بہت حیران کن تھی وہ سعودی فوجیوں کی آرام پسندی تھی۔‘

    کرنل امداد کے مطابق سعودی افواج اس وقت بھی جدید امریکی اسلحے سے لیس تھی لیکن ان میں ڈسپلن اور تربیت کا فقدان تھا۔

    ’اگرچہ ہمارے علاوہ امریکن فوجی بھی سعودی افواج کی تربیت کرتے تھے لیکن مجھے جلد ہی احساس ہوگیا کہ یہ فوج جنگ لڑنے کے لیے نہیں بنائی گئی ہے، اس زمانے میں بھی جب شمالی یمن کے ساتھ جب کشیدگی تھی تو سرحدی شہر نجران کے قریب پاکستانی ائر ڈفینس کے دستوں کو تعینات کیا گیا تھا، تاہم بات جنگ تک نہیں پہنچی۔‘

    کرنل امداد نے سعودی افواج کے بارے جو کچھ بتایا تین دہایوں پہلے کی بات ہے۔ آج کی سعودی افواج کے بارے میں جاننے کے لیے ضروری تھا کہ کسی ایسے فوجی افسر سے بات کی جائے جو حال ہی میں سعودی عرب میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہوں۔

    اس سلسلے میں پاکستان آرمی کے ایک افسر جو اس وقت سعودی عرب میں افواج کی تربیت کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی بات کر تے ہوئے بتایا ’پہلے تو میں آپ کو یہ بتادوں کہ اس وقت سعودی عرب میں یمن کی جنگ میں حصہ لینے کے لیے کسی پاکستانی دستے یا یونٹ کو تعینات نہیں کیا گیا‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں پاکستان کی افواج کے جوان اتنی تعداد میں موجود نہیں کہ انھیں جنگ کے لیے تعینات کیا جائے ’ملک میں جوانوں کے مقابلے میں پاکستانی افسران کی تعداد زیادہ ہے جن میں آرمی میڈیکل کور کے ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ جوانوں کے بغیر جنگیں نہیں لڑی جاتیں، جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی افواج یمن میں کسی سعودی فوجی کارروائی کا حصے ہیں وہ سراسر غلط فہمی کا شکار ہیں۔‘

    جب ان سے سعودی افواج کے بارے میں رائے پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا ’ان کی پاس جدید اسلحہ ہے کچھ چیزیں تو ایسی ہیں جو میں نے یہاں آکر پہلی بار دیکھی ہیں، ان کی تربیت ہمارے علاوہ امریکن اور فرانسیسی انسٹرکٹر بھی کرتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی فوجیوں میں ڈسپلن کی کمی ہے اگر ان کے ساتھ سختی کی جائے تو یہ کہتے ہیں اتنی سختی مت کرو ’ہم نے کون سی جنگ لڑنی ہے۔‘

    سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی فوج مانگنے کے مطالبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب اس سلسلے میں میری سعودی افسران سے بات ہوتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں پاکستانی فوج کا سعودی عرب کے لیے لڑنا تو سو فیصد گارنٹی ہے وہ اکثر کہتے ہیں کہ ’کیا آپ لوگ اسلام کی سربلندی کا حلف نہیں لیتے‘۔

    ان کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ سعودی سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فوج ان کی ہی فوج ہے اور شاہد وہ ایسا ہمارے ساتھ درینہ برادرانہ تعلقات کی بنا پر محسوس کرتے ہیں۔

    ’جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ سعودی فوج جنگ کے لیے تیار ہے تو وہ مجھے ایک عربی محاورہ سناتے ہیں جس کا ترجمہ ہے کہ جو کام آپ کے لیے کئی اور کر سکتا ہے تو اسے خود کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘

    ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ سعودی افواج کی تربیت دنیا کے ماہر فوجی انسٹرکٹر کم از کم گزشتہ 35 برس سے کر رہے ہیں شاہد ایک کام جو آپ ذہنی طور پر کرنے کے لیے تیار ہی نہیں اس کی چاہے آپ کتنی ہی تربیت لے لیں وہ بے سود ہے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/04/150408_saudi_army_atk



  • اتنی سختی مت کرو ’ہم نے کون سی جنگ لڑنی ہے۔‘

    Xx. Xxxxxxxx

    Instructor replies:

    Hum nay bhee konsi jang larnee hay

    We just have to surrender, for that v need to have guns in our hands. Otherwise how will v surrender.

    What a trainer.



  • Very realistic analysis Qarar sahib. As the saying goes "it is the man behind the gun that shoots". Saudi Arabia might procure the latest sophisticated warfare equipment but they lack the will to learn how to use them.

    Recent example is Saudis were making air strikes on Saleh men in Yemen. Two of the jet fighters fell in Arabian Sea without being hit by any shell or even a bullet. US Naval ships patrolling in the Gulf Sea rescued those bailed out Saudi pilots.



  • السلام علیکم

    یک دلچسپ امر یہ ہے کہ سعودی افواج کی تربیت دنیا کے ماہر فوجی انسٹرکٹر کم از کم گزشتہ 35 برس سے کر رہے ہیں شاہد ایک کام جو آپ ذہنی طور پر کرنے کے لیے تیار ہی نہیں اس کی چاہے آپ کتنی ہی تربیت لے لیں وہ بے سود ہے۔

    بالکل صحیح بات لکھی ہے انہوں نے کہ ذہنی طور پہ لڑنے کیلیے تیار نہیں وہ لیکن ذہنی طور پہ عیاشیاں کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ ذہنی طور پہ ۹ یا ۱۰ شادیاں کرنے کیلیے تیار ہوتے ہیں اور بیرون ملک آکے ہزاروں ڈالر شاپنگ پہ اڑانے کیلیے تیار رہتے ہیں۔ چلو جنگ کرنے کیلیے تیار نہ سہی لیکن کہیں جنگ ہورہی ہو تو اس کو رکوانے کیلیے بھی ذلیل کوششیں نہیں کرتے، کسی بھی اسلامی ملک پہ حملہ ہورہا ہو تو سب سے آخر میں او آئی سی یا عرب لیگ کو جاگ آتی ہے، جب لیبیا میں ہسپتالوں کو اور معصوموں کو نشانہ بنایا جارہا تھا تو یہ بے غیرت عرب حکمران ہیلری کلنٹن کے ساتھ فوٹو شوٹ کروارہے تھے۔ یہ ہے ان ذلیلوں اور عیاشوں کا مکروہ کردار جس کے بارے میں سوچ کے اور دیکھ کے ہر باضمیر انسان کا خون کھولنے لگتا ہے۔۔۔

    اور پاکستانی فوج کی تو مثال ہی نہیں ملتی انہوں نے بڑی طاقتوں کیلیے ملیشیا کا کردار بڑی اچھی طرح ادا کیا ہے۔ ہر چیز کو بیچا ہے اپنی ائیر بیسس سے لے کے پندرہ ماہ کے بچے تک یہ ہے ان کی اوقات۔ جس کو دیکھ کے انسان کا خون کھولنے لگتا ہے۔۔۔۔۔



  • Why they Saudis would fight, when they can arrange hired

    fighters like Pakistani army flesh to fill their cannons,

    In fact PK govt should cleraly tell them," Go and fight you with your allies,", when and where you fought for us-?



  • افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    جو راۓ دہندگان يمن کے معاملے پر امريکی حکومت کے موقف کو ہدف تنقید بنا رہے ہيں اور سعودی حکومت کے ليے ہماری حمايت کو کسی بھی طور جاری واقعات کے ليے "محرک" يا فيصلہ کن عنصر قرار دے رہے ہيں، انھيں اپنی سوچ پر نظرثانی کرنا چاہیے کيونکہ اس تمام معاملے ميں ہمارا کردار محدود ہے جس ميں ہمارے فوجيوں کی براہراست مداخلت بھی شامل نہيں ہے۔

    اور وہ مبصرين جو اس غير پختہ سوچ کی تشہير کر رہے ہيں کہ يمن ميں افراتفری اور بے چينی کی فضا کسی بھی طور ہمارے مفاد ميں ہے، انھيں چاہيے کہ ان اعداد وشمار کا جائزہ ليں جو گزشتہ چند برسوں کے دوران يمن ميں امن اور استحکام کے حصول کے ضمن ميں ہماری جانب سے وسائل کی فراہمی اور امداد کو اجاگر کرتے ہيں۔

    ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کر دوں کہ سال 2013 ميں امريکی حکومت کی جانب سے يمن کو 256 ملين ڈالرز کی امداد فراہم کی گئ، اور اس سے قبل سال 2012 ميں يمن کے ليے 356 ملين ڈالرز کی امداد مختص کی گئ تھی۔ سال 2011 ميں يمن ميں جاری ارتقائ عمل کے آغاز سے امريکہ کی جانب سے يمن کو فراہم کی جانے والی کل امداد 600 ملين ڈالرز ہے۔

    يقينی طور پر ہم يہ وسائل اور تعاون يمن کو فراہم نہيں کرتے اگر ہم پر لگاۓ جانے والے الزامات کے مطابق خطے اور ملک ميں تشدد سے ہمارے مفادات کا تحفظ ہو رہا ہوتا۔

    موجودہ صورت حال ميں بھی جبکہ ہم سعودی حکومت کی جانب سے فوجی مداخلت کے اقدام کو سپورٹ کر رہے ہيں، ہم اس بات پر يقين رکھتے ہيں کہ يمن کی صورت حال کے حتمی تصفحيے کے ليے صرف فوجی کاروائ ہی واحد حل نہيں ہے۔ اور ہم جی سی سی کے قائدين کے ساتھ مل کر مسلۓ کے ديرپا حل کے ليے سياسی مذاکرات کے عمل کو سپورٹ کرتے رہيں گے۔ تاہم ہم سعودی خدشات کو بھی سمجھ رہے ہيں، خاص طور پر اس صورت حال ميں جبکہ حوتيوں کی جانب سے سياسی مذاکرات کے عمل ميں تعميری کردار ادا نہيں کيا گيا۔ اس تناظر ميں ہم سعودی حکومت کی جانب سے اٹھاۓ جانے والے اقدامات کی حمايت بھی کر رہے ہيں اور ان اقدامات کی ضرورت کا ادراک بھی رکھتے ہيں۔

    حتمی تجزيے ميں يہ ناقابل ترديد حقيقت نظرانداز نہيں کی جانی چاہيے کہ فوجی مہم جوئ کی ذمہ داری حوتيوں کے سر ہے۔ جہاں تک امريکی حکومت کا تعلق ہے تو ہم ان اقدامات کا ساتھ دے رہے ہيں جو سعودی عرب، جی سی سی اور ديگر فريقين نے صدری ہادی کی درخواست اور يمن کی قانونی حکومت کے حق ميں اٹھاۓ ہيں۔

    تاہم اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں رہنا چاہيے۔ يہ اتحاد سعودی حکومت کی قيادت اور ان کی رہنمائ ميں تشکيل ديا گيا ہے۔ ہم زمين پر جاری فوجی کاروائ کی نا تو سربرائ کر رہے ہيں، نا اس کو کنٹرول کر رہے ہيں اور نا ہی اس ضمن ميں احکامات جاری کر رہے ہيں۔

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu



  • And WHO asked you????



  • so what other options saudi arabia has? turkey, usa and israel?(haha) uk maybe?(good luck trying to convince ed miliband to go into a war if labour wins on 7th may). so pakistan is the only remaining friend.



  • ہم زمين پر جاری فوجی کاروائ کی نا تو سربرائ کر رہے ہيں، نا اس کو کنٹرول کر رہے ہيں اور نا ہی اس ضمن ميں احکامات جاری کر رہے ہيں۔

    طاہر ہے یمن سے کونسا تیل نکلتا ہے جو ہم خواہ مخواہ پرائی جنگ میں خوار ہوں۔ البتہ اگر یمن میں بھی عراق کی طرح تیل کے وسیع ذخائر ہوتے تو پھر بات الگ تھی۔



  • Good to ponder about the subject but the Butts and the Bedouins won't give a d@mn.



  • @سلیمان ڈار

    <div class="bbcode_quote">

    <div class="bbcode_quote_head">Quote:</div>

    <div class="bbcode_quote_body">

    طاہر ہے یمن سے کونسا تیل نکلتا ہے جو ہم خواہ مخواہ پرائی جنگ میں خوار ہوں۔ البتہ اگر یمن

    میں بھی عراق کی طرح تیل کے وسیع ذخائر ہوتے تو پھر بات الگ تھی۔
    </div>

    </div>

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    عراق جنگ پر امريکی حکومت ماہانہ کئ بلين ڈالرز خرچ کر رہی تھی۔ اگر ان اخراجات کا مقابلہ عراق ميں تيل کی مجموعی پیداوار سے لگايا جاۓ تو يہ حقيقت سامنے آتی ہے کہ عراق پر امریکی حکومت کے اخراجات عراق کی مجموعی پيداوار سے کہيں زيادہ ہيں۔ لہذا معاشی اعتبار سے يہ دليل کہ عراق پر حملہ تيل کے ليے کيا گيا تھا، بے وزن ثابت ہو جاتی ہے۔ يہ بھی ياد رہے کہ عراقی حکومت تيل کی پيداوار کے ذريعے ہی ملک کی معيشت چلا رہی ہے

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu



  • عراق جنگ پر امريکی حکومت ماہانہ کئ بلين ڈالرز خرچ کر رہی تھی۔

    Mr. A F Shan

    For once would you tell us Why?

    And no Aaayen Baayen Shayen. If you do not have a logical answer, then it is better for you not to comment and revert to your Propaganda Shelter!!!



  • افشاں

    پوری دنیا میں تیل کس کرنسی میں بکتا ہے؟

    پتا نہیں آپکے ابو جی نے آپکو یہ بتایا ہے یا پھر بتانے کی اجازت دی ہے کہ نہیں لیکن میں آپکو بتاتا ہوں۔

    پوری دنیا کا تیل امریکی دھونس اور دھاندلی کے باعث صرف ڈالر میں بکتا ہے اور جسکو بھی تیل چاہیے اسے بدلے میں ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ جسکا فائدہ براہ راست امریکی حکومت اور اسکے توسیع پسندانہ عزائم کو ہوتا ہے۔ تیل کے باعث جب ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے تو امریکی حکومت خوب دبا کر نوٹ چھاپتی ہے جسے پھر وہ ٹرئژری بلز کے ذریعے نیلام کرتی ہے۔ اب آپکو یہ تو پتہ ہی ہو گا کہ آپکے ٹرئژری بلز کے سب سے بڑے خریدار کون ہیں؟ جی ہاں یہی تیل پیدا کرنے والے سارے خلیجی ممالک اور چین جاپان وغیرہ۔

    یوں آپکے خزانے ادھار کے ڈالروں سے بھر جاتے ہیں اور پھر آپ ان ڈالروں کے بل پر دوسرے کمزور ملکوں پر جو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے اپنی فوج ظفر موج کے ذریعے جھوٹے الزامات لگا کر چڑھ دوڑتے ہیں۔ پھر آپ ان ملکوں کو اربوں ڈالر کا اپنا ناکارہ اور فالتو اسلحہ بیچ کر باقی کا حساب کتاب بھی پورا کر لیتے ہیں۔ یوں آپکی دھونس بھی چلتی رہتی ہے، آپکا ناکارہ اسلحہ بھی بک جاتا ہے اور اس سے وابستہ لوگوں کا کاروبار بھی چلتا رہتا ہے۔

    ویسے یہ کافی اچھا اور منافع بخش کاروبار ہے۔ ہے نا؟؟