Sabeen Mahmood killed



  • I don't know her. Never heard of this name before.

    She was an activist , held a program on Baluchistan with mama qadeer and others. So she was a traitor.

    In the best interest of this country she was killed by target killers. Everyone knows who these target killers r.

    Those who claim that taget killing stopped in karachi, should anwser now.







  • رسائی کے لیے لنک

    مواد پر جائیںرسائی میں مدد

    سائن ان

    بی بی سی سائٹ پر صفحات

    فہرست

    Urdu navigation سیکشن

    لے اب گولی کھا

    وسعت اللہ خان

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    6 گھنٹے پہلے

    شیئر

    پچھلے ایک ہفتے سے سبین محمود اسی غیر یقینی میں مبتلا تھی کہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں ’ان سائلنسنگ بلوچستان ٹیک ون‘ کی منسوخی کے بعد کیا کراچی کے دی سیکنڈ فلور (ٹی ٹو ایف T2F) میں ٹیک ٹو ہو بھی پائے گا ؟ مگر مرنے سے پندرہ منٹ پہلے سبین بہت خوش تھی کہ یہ سب کامیابی سے ہوگیا۔

    دراصل یہ نشست دو گھنٹے چلنی تھی۔ پہلے گھنٹے میں وائس آف مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر، فرزانہ بلوچ اور میر محمد علی تالپور کو بات کرنا تھی اور سوال و جواب کا سیشن ہونا تھا۔اگلے گھنٹے میں سبین کا خیال تھا کہ میڈیا کو کٹہرے میں لایا جائے اور کم ازکم تین صحافی یا لکھاری اس سیشن میں یہ بتائیں کہ بلوچستان کے تعلق سے میڈیا کی کیا مجبوریاں ہیں۔ ٹیک ٹو سے دو روز قبل ایک اور سیمینار شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے دوسرا صحافی ذاتی مجبوری کے سبب بیک آؤٹ کرگیا۔چنانچہ تیسرے صحافی یعنی مجھے پہلے سیشن میں ہی ضم کردیا گیا۔

    ہال کچھا کھچ بھرا تھا۔ ڈھائی گھنٹے بعد بھی سوالات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ سبین یوں بھی خوش تھی کہ لمز نہ سہی ٹی ٹو ایف ہی سہی۔گویا

    سب پے جس بار نے گرانی کی

    اس کو یہ ناتواں اٹھا لائی

    سبین کی این جی او پیس نیش (گوشۂ امن ) نے گیارہ برس پہلے ایک کیفے، سستی کتابوں کے بک اسٹور اور تقریباتی ہال کو یکجا کرکے نہ نفع نہ نقصان کی بنیاد پر سماج میں بلا خوف و خطر گفتگو کی روز بروز تنگ ہوتی گنجائش سے جنم لینے والی گھٹن سے ستائے لوگوں کے لیے یہ گوشۂ عافیت کھول دیا۔

    شائد اظہار کے پیاسے لوگ بھی موقع کی تلاش میں تھے۔چنانچہ پچھلے گیارہ برس میں شائد ہی کوئی دن گذرا ہو جب ٹی ٹو ایف میں کوئی نہ کوئی ایکٹوٹی نہ ہو۔کبھی سیمینار، تو کبھی مصوری کی نمائش، تو کبھی تھیٹر، تو کبھی فلم بینی، تو کبھی شاعری، تو کبھی میوزک، تو کبھی کسی خاص مہمان کو سننے کی چاہ میں آنے والے اہلِ دل۔۔۔

    سبین محمود کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ اس نشست کی ایک تصویر

    بقول سبین کوئی تو ہو جو یہ سب کرے، یعنی ٹی ٹو ایف میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔مگر اس کچھ بھی ہوسکتا ہے کے گمان نے ہی سبین کی جان بھی لے لی۔

    جب لمز میں بلوچستان پر خاموشی توڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تب ہی سمجھ جانا چاہیے تھا کہ بلوچستان باقی پاکستانیوں کے لیے صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی اور دلی لحاظ سے بھی نو گو ایریا ہے۔یہ بارودی سرنگوں سے بھرا میدان ہے جس کے دماغ میں آپ اپنے رسک پر ہی گھس سکتے ہیں۔پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔

    ویسے آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا سبین اس لیے قتل ہوئی کہ سیمینار میں ایسی قابلِ اعتراض باتیں ہوئی ہوں گی جن کی تاب نہ لاتے ہوئے مجمع میں موجود کسی جذباتی نے موٹر سائیکل پر سبین کی گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے گولیاں برسا دیں؟

    جی نہیں۔ڈھائی گھنٹے تک سب خوش تھے۔کیا مہمان، کیا میزبان، کیا بھانت بھانت کے بوڑھے اور جوان، کرسیوں، سٹولوں اور فرش پر بیٹھی خواتین، پنجوں کے بل کھڑے طلبا و طالبات، کارپوریٹی پروفیشنلز، لکھاری، صحافی، شو بزنس والے سب خوش تھے کہ کسی نے تو بات کی، کہیں تو بات ہوئی، کچھ تو سننے کو ملا۔

    کسی مہمان مقرر نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو پہلے سے سب کو معلوم نہ ہو یا کہیں نہ کہیں شائع نہ ہو چکی ہو۔لاپتہ افراد، کوئٹہ تا اسلام آباد لانگ مارچ، بلوچستان کے بحران کا تاریخی پس منظر، وفاقی طرزِ عمل، بلوچستان میں شدت پسندی، میڈیا کی بے کسی یا سوچی سمجھی خاموشی، مسلح آپریشن کی نوعیت، آباد کاروں پر علیحدگی پسندوں کے حملے، بحران کا ممکنہ حل، صوبائی حکومت کی بے چارگی، بیرونی مداخلت وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ان میں سے کچھ بھی تو ایسا نہیں تھا جو میڈیا میں ٹنوں کے حساب سے شائع یا نشر نہ ہوا ہو۔ صرف اس بنیاد پر سبین قتل نہیں ہوسکتی۔

    سبین قتل ہوئی اس لیے کہ جب سب رفتہ رفتہ لائن پے آ رہے ہیں تو تو افلاطون کی بچی لائن سے باہر کیسے نکل رہی ہے؟ لے اب گولی کھا۔ اور تیرے مرنے پر بھی زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟

    دس بیس ہزار تعزیتی ٹویٹس، چار پانچ ہزار ریسٹ ان پیس ٹائپ فیس بک پیغامات، تین چار انگریزی اخباری مضامین، دو تین ٹاک شوز۔ نامعلوم افراد پر کٹنے والی ایک آدھ ایف آئی آر، لاہور، کراچی، اسلام آباد میں ’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘ کے مجرب مصرعے کے ہمراہ کچھ موم بتیاں اور پھول ۔۔۔بس؟

    اور کوئی طرم خان جس کے پیٹ میں درد اٹھ رہا ہو؟ نیکسٹ پلیز۔۔

    کہانی کو شیئر کریں شیئرنگ ک



  • #Namaloomafrad

    they are in all shape and form in pakistan....



  • they are in all shape and form in pakistan....

    Xxxxxxx. Xxxxxxxxx

    Most of them belong to agencia haramia of pakistania



  • Mumtaz Qadri is alive

    Sabeen Mahmood has been killed.

    This scenario could help you to understand the Two Nations Theory.



  • some people blame it is mqm thugs because they kill everyone who is working for interest in courntry, gulo ji towada ki khiyal hai,

    ویسے گلو بھی سیانا ہے تھریڈ لگا دیا کہ کوئی شک نہ جاۓ



  • یسے گلو بھی سیانا ہے تھریڈ لگا دیا کہ کوئی شک نہ ج

    2 Ferro

    Agencia haramia will now catch some innocent person, take a cofessional statement, leak the video and chutya like u will say c its done by mqm and talkshows willbe bashing mqm. The same old story,ppl of Karachi give it a damn fuk bcz any thing from agencia is fake, false and fabricated.



  • اب ایجنسیہ حرامیہ کہے گی کہ نہ ہمارے پاس ایسی گن ہوتی ہے اور نہ ایسی گولیاں ، اسلئیے یہ کسی اورنے ماری ہیں

    پھر پتلون اتارکے کہینگے کہ دیکھو نہ ہماری گولیاں ہیں اورنہ بندوق--اگر ہمارے پاس گولیاں ہوتیں تو بھارتیوں کو اکہترمیں نہ مارتے --لوگ کہینگے کہ یہ تو اتنے شریف ہیں کہ ملک دیدیالیکن دشمن پر بھی گولی نہ چلائی --ٹھاکرنے ہیہجڑوں کی فوج بنائی ہے



  • جو آج میں زد پہ ہوں تو یوں نہ خوش ہو

    ایجنسیاں کسی کی نہیں ، سول سوسائٹی بھی ڈسی جائیگی

    باقی پاکستان کی سول سوسائٹی کی تنگ نظری کو تو چھوڑیں

    کراچی کی سول سوسائٹی نے آج تک صدائے احتجاج اس بات پر بلند نہ کی جب اس شہر کے بیٹوں کو گرفتار کرکے انکی تشدد زدہ لاشیں انمیں نمک مرچ لگاکر اور تیزاب بھر کو جب سڑکوں پر پھینکدی جائیں تو انکے مردہ ضمیر میں جنبش نہیں ہوتی ، کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی

    سالوں گزر گئے لیکن ان بے حسوں کے ضمیر نہ جاگی--کبھی فلسطین میں ظلم پر اور کبھی برما میں مظالم پر کانفرنسیں کرتے ہیں لیکن انہیں اپنے شہر کے بیٹوں کے بے گوروکفن کی لاشیں نظر نہیں اتیں

    آج یہ سو دوسو آدمی جمع کرکے بلوچستان پر ایسی کانفرنس کریں ، جسکی اجازت لاہور میں نہ ملی تھی ، کرکے یہ سمجھہ رہے تھے کہ انکی بڑی واہ واہ ہوگی --انہیں شاید پتہ نہیں کہ بھیڑیوں کے منہ کو اتنا خون لگ چکاہے کہ وہ چند گھنتے بھی برداشت نہیں کرسکتے --اب کوئی اس شہر میں ایسی کانفرس کرے، پیغام بڑاواضح ہے

    اس شہر کی سول سوسائٹی اور لوگوں کا ایکدوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے --میں اس شہر کی سول سوسائٹی کے گھر کا بھیدی ہوں ، انکی اپنی دنیا ہے ، اپنے مفادات ہیں ، اس شہر مین کوئی خون کی ندیاں بہادے انہیں اسکی پرواہ نہیں

    ذرا سنیے طاہرہ عبداللہ کو جسکے منہ پر حسن نثار نے ، جنکا اس شہر سے تعلق نہیں ، ایساجوتاماراتھا کہ ساری عمر یاد رکھے گی --منٹ دس کے بعد کیپٹل ٹاک دیکھیں --لیکن اسکو پھر بھی شرم نہ آئی جو انسانی حقوق کا برقعہ اوڑھے دنیاکو بےوقوف بنارہی ہے ، لیکن اس شہر کے لوگوں کو انسانی حقوق کے چمپینوں کا خوب پتہ ہے

    https://www.youtube.com/watch?v=31Ubg3oqWTY

    WATCH AFTER MINUTE TEN



  • افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    http://s8.postimg.org/pbw5sad9h/1509101_894669497259876_6553123161672485893_n.jpg

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    http://s24.postimg.org/sulh4j7f9/USDOTURDU_banner.jpg



  • TRIPE!!!!!



  • http://jang.com.pk/jang/apr2015-daily/27-04-2015/u48422.htm

    I think we need to respect wishes of the mother.



  • Agreed!

    But Jang could have written an Editorial emphasizing this point. They simply published mother's statement. That is all.



  • رسائی کے لیے لنک

    مواد پر جائیںرسائی میں مدد

    سائن ان

    بی بی سی سائٹ پر صفحات

    فہرست

    Urdu navigation سیکشن

    جامعہ کراچی میں تالہ بندی کے باوجود بلوچستان پر بحث

    ریاض سہیل

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    2 گھنٹے پہلے

    شیئر

    دو سو سے زائد طلبہ اور طالبات نے یہ تقاریر سنیں، لیکن میگا فون کی عدم دستیابی کی وجہ سے سامعین کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا

    کراچی کی سب سے بڑے تعلیمی ادارے جامعہ کراچی میں سکیورٹی ناکوں اور آرٹس آڈیٹوریم کی تالہ بندی کے باوجود وائس فار مسنگ پرسنز کے چیئرمین عبدالقدیر بلوچ (ماما قدیر) اور ان کے ساتھی طالب علموں کو بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

    لاپتہ افراد اور سبین محمود کی یاد میں سیمینار احتجاجی اجتماع میں تبدیل ہو گیا۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کے احکامات پر صبح سے یونیورسٹی میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد تھی، جس کے باعث انسانی حقوق کمیشن کے نمائندوں اور کئی صحافیوں کو داخلی راستے پر روک دیا گیا۔ لیکن وائس فار مسنگ پرسنز کے چیئرمین ماما قدیر بلوچ، فرزانہ مجید، محمد علی ٹالپور اور کچھ صحافی اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    ’بلوچ مسنگ پرسنز اور معاشرے اور ریاست کا کردار‘ کے عنوان سے یہ پروگرام آرٹس آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا تھا لیکن اس کو تالے لگا کر بند کر دیا گیا، جس کے باعث یہ تقریب راہداری میں فرشی نشست لگا کر منعقد کی گئی، جبکہ مقررین کے لیے سیمنٹ کی کرسیوں کا انتظام کیا گیا۔

    وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین ماما قدیر بلوچ کا کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ریاستی زیادتیوں کا انحراف کرتے ہوئے اس کو بیرونی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی حالیہ مثال وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بیان سے ملتی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ بعض علیحدگی پسند رہنما بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ اگر وہ سچے ہیں تو پھر ان ثبوتوں کو بھارت اور دنیا کے دیگر ممالک کے سامنے کیوں پیش نہیں کرتے؟

    وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین ماما قدیر بلوچ کا کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ریاستی زیادتیوں کا انحراف کرتے ہوئے اس کو بیرونی مداخلت قرار دیا جارہا ہے

    قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ ’اگر بلوچستان کا مسئلہ بیرونی مداخلت اور بھارت کا پیدا کیا ہوا ہے تو پھر بلوچستان کے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے کا دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے اور بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں مصروف قیادت سے مفاہمت اور مذاکرات کی بات کیوں کرتے ہیں؟‘

    قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت بیرونی مداخلت کا نام لے کر خارجی اور اندرونی سطح پر بلوچستان کے مسئلے سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے تاکہ بلوچ قومی تحریک کو سفاکانہ ریاستی طاقت سے کچلنے کا جواز فراہم کیا جائے۔

    اس تقریب کا آغاز سبین محمود کی تصویر کے سامنے دیئے جلاکر کی گئی۔ لیکن مقررین کی تقاریر کا مرکزی نکتہ بلوچستان کی صورت حال رہی۔

    دو سو سے زائد طلبہ اور طالبات نے یہ تقاریر سنیں، لیکن میگا فون کی عدم دستیابی کی وجہ سے سامعین کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

    اس تقریب کے ایک مقرر میر محمد علی 1969 میں کراچی یونیورسٹی کے طالب علم رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سبین محمود کو اس لیے مارا گیا کیونکہ وہ دفاع کرتی تھیں اور یہ دفاع صرف بلوچوں کے لیے نہیں ہے بلکہ عیسائی اور دیگر مظلوم برادریوں کے لیے بھی ہوتا تھا۔

    تقریب کے ایک مقرر میر محمد علی کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سبین محمود کو اس لیے مارا گیا کیونکہ وہ دفاع کرتی تھیں اور یہ دفاع صرف بلوچوں کے لیے نہیں ہے بلکہ عیسائی اور دیگر مظلوم برادریوں کے لیے بھی ہوتا تھا

    ’دفاع پھیلنے والی بیماریوں کی طرح ہوتا ہے۔ حکمران ہم سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم دوسرے لوگوں کے ذہنوں کو بھی آلودہ نہ کر دیں اور وہ بھی حق کی بات نہ کریں۔‘

    جامعہ کے داخلی راستے سے لے کر آرٹس آڈیٹوریم کے باہر تک رینجرز کی موجودگی رہی، اور دو اہلکار وقفے وقفے سے اجتماع کا چکر بھی لگاتے رہے۔

    بی ایس او آزاد کے لاپتہ رہنما ذاکر مجید کی ہمشیرہ فرزانہ مجید کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت شدید تکلیف میں ہیں اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ بلوچستان کی تاریخ کا حصہ ہیں۔

    ’بلوچ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جبری گمشدگی بلوچوں کی قبضہ گیری کے خلاف مزاحمت کا عکس ہے۔ پاکستان اس وقت بلوچستان میں پانچ بڑے آپریشن کر چکا ہے جس میں بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں جبکہ اسی طرح ہزاروں کو اپنے آبائی علاقے چھوڑنے پڑے۔‘

    فرزانہ مجید نے کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ڈرایا دھمکایا گیا لیکن انھوں نے بے فکر ہو کر یہ مارچ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن کچھ تبدیل نہیں ہوا، جبری گمشدگیاں، تشدد شدہ لاشوں کی برآمدگی اسی طرح سے جاری ہیں جس طرح پہلے تھیں۔

    اس پروگرام کے منتظم ڈاکٹر ریاض احمد کا کہنا تھا کہ اسی یونیورسٹی میں کل کوئی بازاری قسم کا پروگرام ہو رہا ہو گا لیکن اس وقت یونیورسٹی انتظامیہ کو اخلاقیات اور اقدار کی کوئی پروا نہیں ہو گی۔ یہ تعلیم کی جگہ ہے اور تعلیمی ادارے کا کام اپنے ہال پانچ ہزار پر کرائے پر دینا نہیں ہوتا۔

    ڈاکٹر ریاض نے واضح کیا کہ وہ بلوچستان کی آزادی کے حمایتی نہیں ہیں۔ ’ہم نے یہ جلسہ کر کے بتا دیا ہے کہ ہم وہ بے حس پاکستانی نہیں ہیں جو بلوچستان میں پنجابی، اردو بولنے والے یا دیگر لوگوں کو مارتے ہیں۔ ہم بلوچوں کے درد میں برابر کے شریک ہیں۔‘

    کہانی کو شیئر کریں شیئرنگ کے بارے میں

    ای میل

    Facebook

    Twitter

    Google+

    WhatsApp

    واپس اوپر جائیں

    اسی بارے میں

    ’کہنے کی آزادی بہت مگر بعد کی محدود‘

    3 مئ 2015

    ’سبین کے قتل میں شدت پسند گروہ یا کالعدم تنظیم ملوث ہوسکتی ہے‘

    30 اپريل 2015

    پاکستانی فوج کی جانب سے سبین محمود کے قتل کی مذمت

    24 اپريل 2015

    لے اب گولی کھا

    25 اپريل 2015

    پاکستان کی مزید خبریں

    ’را پاکستان میں دہشت گردی کو شہ دے رہی ہے‘

    5 مئ 2015

    پورا مضمون پڑھیں ’را پاکستان میں دہشت گردی کو شہ دے رہی ہے‘

    انتخابی نشانات: لوگوں کے لیے تفریح، امیدوار پریشان

    9 گھنٹے پہلے

    پورا مضمون پڑھیں انتخابی نشانات: لوگوں کے لیے تفریح، امیدوار پریشان

    سابق سپیکر فہمیدہ مرزا بھی میدان میں اتر آئیں

    6 مئ 2015





  • Was it a coverup to the original crime, which just happened as she was dealing with the subject of Baluchistn.