راولپنڈی کے رہائشی علاقے میں جاسوسی کے ایک بڑے مرکز کا انکشاف



  • اسلام آباد(سپیشل رپورٹ)راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر گلشن آباد کے رہائشی علاقے میں جاسوسی کے ایک بڑے مرکز کا انکشاف ہواہے۔ سکیورٹی فورسز آئی ایس آئی اور دوسرے خفیہ اداروں نے جاسوسی کے مرکز پر چھاپہ مار ا۔ جہاں سے ریڈار سمیت جاسوسی کے جدیدآلات برآمد کر کے15افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس جاسوسی کے مرکز کے قیام کے پیچھے بھارتی خفیہ ادارے ”را“ کا ہاتھ خارج از امکان نہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیاکہ انتہائی حساس علاقے میں قائم جاسوسی کے مرکز کے ذریعے جی ایچ کیو، دھمیال ائیربیس ،ضرارکیمپ اور اڈیالہ جیل کے علاوہ دیگر حساس تنصیبات کی جاسوسی کی جاتی تھی۔ یہاں سے اکثرو بیشتراعلیٰ فوجی افسران اور غیرملکی وفود کی بھی آمدورفت ہوتی ہے۔

    ضرارکیمپ میں مقیم اعلیٰ فوجی افسران اڈیالہ روڈ کو بھی آمدورفت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ جاسوسی مرکز گلشن آباد سیکٹر میں ایک پہاڑی پر تعمیر تین منزلہ عمارت میں قائم تھا۔علاقے کے مکینوں نے بتایاکہ کافی دنوں سے اس کوٹھی پرمشکوک لوگوں کی آمدورفت کاسلسلہ جاری تھا۔ ذرائع نے بتایا خفیہ ادارے کے لوگ گزشتہ چند ہفتوں سے اس عمارت سے ملنے والے سگنلز کو مانیٹر کر رہے تھے اور گلشن آباد میں اس عمارت تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے عمارت کوگھیرے میں لے لیااور آپریشن کرکے عمارت کے اندرسے ریڈار جاسوسی کے آلات اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث15افراد کو گرفتار کر لیا۔ سکیورٹی فورسز اگرچہ اس واقعہ کو صیغہ راز میں رکھ رہی ہیں مگرانتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئی ایس آئی اور دوسرے اداروں نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے گرفتار شدہ افراد سے ملنے والی معلومات کے تناظرمیں مزید کارروائی کاامکان ہے۔

    سکیورٹی فورسز ان خطوط پر تحقیقات کررہی ہیں کہ کیا یہ جاسوسی مرکز دہشت گردوں کے زیراستعمال تھا اور پیچھے کون لوگ ہیں۔ کیاان کامقصد کوئی بڑا ٹارگٹ حاصل کرناتھا۔ کیونکہ دھمیال ائیربیس سے اکثرو بیشتراعلیٰ فوجی افسران اور غیرملکی وفود کی بھی آمدورفت ہوتی ہے کیایہ ملک دشمن عناصراڈیالہ جیل پر نظر رکھتے تھے واضح رہے کہ ضرارکیمپ میں اعلیٰ فوجی افسران اڈیالہ روڈ کو بھی آمدورفت کے لئے استعمال کرتے ہیں تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔



  • i think after so many invasion like Kargel. Taliban Khalifat in Afghanistan indian are afraid that this time GHQ will send ghori missle. So they are in tension. What GHQ is now Plannig to take whole india



  • Fear saheb: Partly you are right. Such activities are reciprocal in enemy countries. India is not the only bad wisher of Pakistan. There are others. For example, more than India, USA and European Community is not happy with the CPEC. In fact, Pakistan is surrounded with multiple anti-state activities. AXACT has not been taken over by State authorities for issuing fake American and European universities' degrees. This nasty business is rampant in every country. The reason behind this bust is deep rooted. The second biggest hot news is NGOs activities in Pakistan and billions of dollars had been circulated through this "humanitarian" activities with no visible social uplift. And now this straight anti-state activities discovered and raided by security forces. All these discoveries are somehow inter-linked one way or the other.



  • Our enemy is Not Indian RAW but people with in us who for paltry gains, love to sit in Indian agents laps and betray this nation.



  • افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ہميں پاکستان کی جانب سے عالمی خيراتی تنظيموں اور ديگر اين جی اوز پر قدغنوں پر تشويش ہے۔ "سيو دا چلڈرن" ايک ايسی تنظيم ہے جس نے کافی عرصے سے انتہائ شفاف انداز ميں حکومت پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون سے فرائض سرانجام ديے ہيں۔ سيو دا چلڈرن نے پاکستان ميں 35 برس سے زيادہ عرصہ کام کيا ہے جس دوران صحت، تعليم اور غذائ تحفظ سے متعلق منصوبوں پر عمل کيا گيا اور اس کے مثبت اثرات چار لاکھ سے زائد بچوں اور ان کے خاندانوں تک پہنچے۔

    ہم حکومت پاکستان کے ايک جمہوری، معاشی طور پر متحرک اور محفوظ پاکستان کے فروغ کے اہداف ميں ان کے ساتھ ہيں۔ اس ہدف کے حصول کے ضمن ميں ہمارا زيادہ تر تعاون عالمی غير حکومتی اين جی اوز کے ذريعے معاشی امداد کی منتقلی پر مبنی ہے۔ يہ اين جی اوز مختلف شعبوں میں عمل درآمد کے ليے ہمارے شراکت دار کے طور پر کام کرتی ہيں۔

    ترقی سے متعلق مختلف منصوبوں ميں پاکستان کے عالمی شراکت دار ملک کے اندر عالمی اين جی اوز کے طريقہ کار سے متعلق شفاعيت کے ضمن ميں حکومت پاکستان کی ضروريات کا احترام کرتے ہيں۔ ہم اس بات سے بھی متفق ہيں کہ عالمی اين جی اوز کو متعلقہ قانونی اور انضباطی فريم ورک کے اندر رہ کر کام کرنا چاہيے۔ اسی ليے ہم حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہيں کہ وہ ايک شفاف طريقہ کار کو بطور معيار وضع کريں جس کے تحت سيو دا چلڈرن سميت عالمی اين جی اوز قانونی طور پر پاکستان ميں اپنا کام کر سکيں۔ عالمی اين جی اوز ترقی سے متعلق عالمی برادری کی ان کوششوں کا اہم حصہ ہيں جو وہ حکومت پاکستان کی مدد کے ضمن ميں کر رہی ہے تا کہ فعال اور بامعنی ترقی، حکومت سازی اور انسانی ہمدردی کی بنياد پر پاکستان کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے عمل کو سہل بنايا جا سکے۔

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    http://s24.postimg.org/sulh4j7f9/USDOTURDU_banner.jpg



  • Afshan sahiba: Would you please, after thorough checking of your official account, as to how and why 9 million dollar were given to Mr. Jehnagir Tareen or his NGO and do you have a track record where those moneys were spent on Pakistan's rural or urban areas "upliftment".



  • Aid money that comes to Pakistan for projects like child labor, education, health, food etc. go down the drain. The implementing agencies submit fake progress reports, false success stories of the projects just to save lucrative jobs for the higher ups of the implementing agencies only.



  • @adnak

    <div class="bbcode_quote">

    <div class="bbcode_quote_head">Quote:</div>

    <div class="bbcode_quote_body">

    Aid money that comes to Pakistan for projects like child labor, education, health, food etc. go down the drain. The implementing agencies submit fake progress reports, false success stories of the projects just to save lucrative jobs for the higher ups of the implementing agencies only.

    </div>

    </div>

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ کوئ پہلی بار نہیں ہے کہ آپ نے اس ايشو پر بات کی ہے. ہم نے وہ بيانات اور خدشات پڑھے ہیں جن ميں اس تاثر کو فروغ ديا جا رہا ہے کہ امريکہ کی جانب سے دی جانی والی امداد پاکستان ميں چند افراد کے جيبوں ميں جاتی ہے۔

    ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکی عہديداروں نے کئ مواقعوں پر پاکستانی حکومت پر واضح کيا ہے کہ ہميں ملک ميں موجود کرپشن پر تشويش ہے اور ہم اپنے امدادی پروگراموں سے متعلق کرپشن کے معاملات کی کڑی نگرانی کر رہے ہيں۔

    یو ایس ایڈ نے اپنے پروگراموں کو کرپشن سے دور رکھنے کے لئے سخت نگرانی کا بندوست کيا ہے جس ميں اینٹی فراڈ ہاٹ لائن بھی شامل ہے۔

    انسدادِ بدعنوانی ہاٹ لائن پر اس بات کی حوصلہ افزائ کی جاتی ہے کہ جس کسی کے پاس بھی يو ايس ايڈ کے تعاون سے جاری منصوبوں کے ضمن ميں کرپشن کے حوالے سے معلومات ہوں

    تو وہ امريکہ ميں يوایس ایڈ انسپکٹر جنرل کے دفتر ميں نمبر 080084700 پر اپنی شکایت درج کراسکتے ہیں۔

    http://islamabad.usembassy.gov/pr_0606122.html

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu



  • all is drama.lol.the biggest spy centers are in usa india embassy and they are fully protected by our GHQ.black water American agency men oam freely in Pakistan and their spying activities are overlooked because after all our most generals families are living in usa safe and sound,how can we take panga with usa