اے خضر کچھ تو ہی کر۔



  • Image and video hosting by TinyPic

    بہت ہی پیارے خضر علیہہ سلام،

    ہر مسلمان بچے کی طرح میں بھی آپ کے نام سے سنِ شعور سے واقف کرایا گیا ہوں۔ سب سے پہلے میری نانی نے بتایا کہ آپ کو سمندروں اور دریاؤں کا انتہائی علم ہے۔ میں نے ایک سندھی لوک داستان میں یہ بھی پڑھا ہے کہ آپ سمندرں اور دریاؤں پر نظر رکھنے کے لیے مچھلی کو بطور سواری استعمال کرتے ہیں۔ آپ نے آبِ حیات پی رکھا ہے اور آپ بھٹکے ہوؤں کی رہنمائی کرتے ہیں۔

    چنانچہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ پاکستان کو دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ مگر نیچے سے اوپر تک آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے لہذا ندی نالے بھی دیکھا دیکھی اور سرکش ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے یہ پانچ چھ برس بعد بپھرتے تھے اب تو ہرسال ہی جان کو آجاتے ہیں۔ تاہم ہمارے حکمراں اس آبی شورش سے نمٹنے کے لیے بھی انھی طریقوں پر یقین رکھتے ہیں جو دہشت گردی سے نمٹنے میں استعمال ہو رہے ہیں۔ وہ دونوں کو قدرتی آفت ہی سمجھتے ہیں۔

    مثلاً سیلاب سے بچاؤ پر تدبر کے لیے مدبرین پہلا اجلاس تب طلب کرتے ہیں جب پانی سر پہ آجاتا ہے۔ ہر بار سیلاب کی آفت پر یوں حیرانی ظاہر کی جاتی ہے جیسے پہلی بار سابقہ پڑا ہو۔ حفاظتی بندوں پر بندوں کا گشت بڑھانے کی ہدایت جاری ہوتی ہے گویا یہ بندے سیلاب کو ہاتھوں سے ہی تو روک لیں گے۔

    یقین دہانی پہلے اور امداد بعد میں پہنچتی ہے اور کشتیاں بذریعہ ٹرک بھیجنے کے لیے پانی اترنے کا انتظار ہوتا ہے۔ ہمدردی جتانے والے سیاستدان و سماجی کارکن فلڈ فیسٹیول شروع ہوتے ہی گھٹنوں گھٹنوں پانی میں فوٹو کھنچوانے کے لیے بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ بعد میں گردن گردن پانی میں تصویر کھنچوانا ذرا مشکل ہوتا ہے۔

    سیلاب زمین پر آتا ہے مگر اس کی تباہ کاری کا جائزہ حکمران فضا سے لیتے ہیں۔ یہ ہوائی کام ایوب خان نے شروع کیا جو ان کے سب جانشینوں نے اسٹینڈرڈ آپریٹینگ پروسیجر کے طور پر اپنا لیا۔اگر ان کا طیارہ یا ہیلی کاپٹر کہیں اترتا بھی ہے تو ایسی خشک جگہ جہاں پانچ دس ہزار متاثرہ لوگ اور ان کے مددگار سب کام چھوڑ چھاڑ کے اکھٹے ہوسکیں۔

    Image and video hosting by TinyPic

    پھر ایک ننگے پوتنگے ہونق معصوم کو گود میں اٹھانے کی رسم ادا ہوتی ہے اور میگا فون ہاتھ میں پکڑ کے ہر سال کی طرح دھرایا جاتا ہے کہ حکومت آپ کے حال سے ہرگز غافل نہیں۔ پاکستان کو آپ پر ناز ہے۔ ہر ایک کو تباہ شدہ فصل کا معاوضہ ملےگا۔ نئے مکانات بنا کر دئیے جائیں گے، مالیہ اور قرضے کی قسط معاف کردی جائے گی۔

    جنھوں نے بند بنانے کے بجٹ میں خرد برد کی انھیں نہیں بخشا جائے گا۔اب تو خدا کے لیے تھوڑی سی تالیاں بجا دو تاکہ میرے ساتھ جو میڈیائی فوج آئی ہے اس کے آگے سرخرو ہوسکوں ۔

    پیارے خضر علیہہ سلام ! آپ تو جانتے ہی ہیں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ صرف پچھلے تین لگاتار سیلابوں میں ہی ملک کو 16 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوچکا ہے۔ اتنے ندی نالے ہوتے ہوئے بھی یہ ملک پانی کی قلت کے شکار ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ تواتر سے سیلاب آنے کے باوجود پاکستان کے پاس 30 دن سے زیادہ کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں۔ سیلاب نہ بھی آئے تب بھی ہر برس لگ بھگ 50 ملین ایکڑ فٹ سے زائد پانی آخری کھیت تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں جذب ہوجاتا ہے ، ہوا میں اڑ جاتا ہے یا چرا لیا جاتا ہے۔

    پیارے خضر ! حکومت کو اور بھی بہت ضروری کام ہوتے ہیں لہذا وہ بن بلائے سیلاب کو منہ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ آپ اسی سے اندازہ لگا لیجئے کہ جس اخبار میں یہ خبر چھپی کہ بارشوں اور طغیانی سے چترال تباہ ہوگیا اور جنوبی پنجاب کے پانچ اضلاع میں اب تک 25 فیصد فصلیں برباد اور دو لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔اسی اخبار میں یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اسلام آباد میں فحاشی کے اڈوں کے خلاف آپریشن کی براہِ راست نگرانی کررہے ہیں اور اب تک ایک چینی مالشیئے ، دس مشکوک خواتین ، 20 غیر ملکیوں اور سات ڈرائیوروں سمیت 42 افراد کو سو پولیس کمانڈوز نے حراست میں لے لیا۔آپریشن جاری ہے۔

    ان حالات میں اے خضرِ راہ تم ہی کچھ کرو اور اپنے منہ زور دریاؤں کو سمجھاؤ۔ ریاست تو سمجھنے سے رہی۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/07/150726_baat_sat_baat_wasut_sr



  • سیلاب سے آفت زدہ قرار ضلع چترال میں ہلاکیتں 31 ہوگئیں

    Image and video hosting by TinyPic

    خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں گذشتہ رات آنے والے سیلاب میں ایک بچی سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو سو سے زائد مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    گذشتہ روز موکہو میں آنے والے سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی کل تعداد 31 تک پہنچ گئی ہے۔

    یہ سیلاب بھونی روڈ پر واقع ریشون میں آیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق دو دکانوں اور چار مکانات مکمل تباہ ہوئے ہیں جبکہ دو سو مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیلابی نالہ آبادی کے بیچ سے گزرتا ہے جس سے عمارتوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

    ریشون میں صوبائی حکومت کی جانب سے قائم ایک چھوٹا بجلی گھر بھی واقع ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ بجلی گھر میں بھی پانی داخل ہوا ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    Image and video hosting by TinyPic

    بالائی چترال کی جانب جانے والے راستے اب تک بند ہیں۔ حکام بھونی روڈ پر ریشون اور آگے مستوج جانے والے راستے ٹریفک کے لیے کھول رہے ہیں۔ اس روڈ پر بلڈوزر کے ذریعے رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں۔

    فوج کے زیلی ادارے ایف ڈبلیو او کے اہلکار محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ لینڈ سلائڈنگ اور سیلاب سے سڑکوں پر پھیل جانے والی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

    انھوں نے بتایا کہ چترال سے ریشون تک کوئی 50 کلومیٹر کا فاصلہ ہے جبکہ صرف 15 کلومیٹر کے فاصلے میں سڑک پانچ سے چھ مقامات پر بند ہے۔

    ریشون کی جانب بڑی تعداد میں لوگ پیدل جا رہے تھے تاکہ وہاں جا کر اپنے رشتہ داروں اور لوگوں کی مدد کر سکیں۔

    بھونی روڈ پر ریشون سے پہلے لینڈ سلائڈنگ سے بند سڑک پر موجود ایک شخص عزیزالرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ریشون اپنے رشتہ دار کی مدد کے لیے جا رہے ہیں اور اسی طرح دیگر لوگ بھی کوششیں کر رہے ہیں کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داورں کے پاس پہنچ سکیں۔

    چترال سے مستوج جانے والے بھونی روڈ کے علاوہ وادی کیلاش اور گرم چشمہ کی جانب جانے والے راستے بھی ابھی تک بند ہیں کہیں لینڈ سلائڈنگ سے سڑکوں پر ملبہ پڑا ہے تو کہیں سیلابی پانی سڑکیں اور پل بہا کرلے گیا ہے۔

    چترال اور اس کے دیگر علاقے سنگلاخ پہاڑوں میں گھرے ہوئے ہیں ان پہاڑوں کی چوٹیوں پر پگھلنے والی برف اور بارشوں کا پانی پتھروں اور مٹی کے تودے لے کر اس قدر رفتار سے آتا ہے کہ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو بہا کر لے جاتا ہے۔

    ان علاقوں کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ اکثر ان مقامات پر زیادہ نقصان ہوا ہے جہاں ان سیلابی ندی نالوں کے قریب آبادیاں قائم ہیں۔

    سیلاب کے متاثرین اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بیشتر علاقوں میں امدادی سامان نہیں پہنچایا جا سکا۔

    لوگوں کا کہنا ہے کہ جو امداد ان تک پہنچ رہی ہے وہ انتہائی کم ہے۔ لوگ دور دراز علاقوں سے سامان لے کر پہاڑی راستوں سے لمبا سفر کرکے سامان لے جا رہے ہیں۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/07/150726_chitral_flood_update_zh





  • جس قوم کے لوگ زندوں سے زیادہ مردوں کو پکارتے ہوں وہاں یہی ہوتا ہے ، آج دو آدمی کہ رہے بھائیوں قیامت انی والی ہے حضور ناراض ہیں ہم سے الله بھی ناراض ہے اس لئے سیلاب آ رہے ہیں ... میں نے کہا خدا کوئی اچھا سا ڈیم کیوں نہیں بناتا ان دریاؤں پر ، کہنے لگے اگر اس نے بنا دیا پھر سیلاب آنا رک جایں گا اور اس کا نام کوئی نہیں لے گا ، اس لئے جن علاقوں میں غربت ، سستی ، کم چوری زیادہ وہاں سیلاب آنا کوئی بڑی بات نہیں



  • بہت خوب فیر صاحب کچھ بھی نہ کہا اور سب کچھ کیہ بھی گئے - پاکستان کی میڈیا اور عوام دونوں تباہ کاری کے مناظر دکھائیں اور سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام لگاتی رہیں

    مومن ہے تو تقدیر پر کرتا ہے بھروسہ

    کافر ہو تو تدبیر پہ کرتا ہے بھروسہ