ایک دن نواز شریف کے ساتھ


  • administrators

    ایک دن نواز شریف کے ساتھ – سوشل میڈیا کی نظر سے

    صبح آنکھ کھولی تو ادھ رڑکے کا ایک بڑا کولر بیڈ کے سرھانے منتظر تھا ، اس نعمت سے لطف اندوز ہوکر اللہ کا شکر ادا کیا ، اسکے بعد پانچ دفعہ گردن ادھر اور پانچ دفعہ ادھر اور پھر پانچ دفعہ اوپر اور پانچ دفعہ نیچے کرکے ورزش کی – اسی طرح دس دفعہ انگلیوں کو پھیلایا اور بند کیا، آخر امور مملکت کو چلانے کیلیئے بندے کا صحتمند ہونا بھی ضروری ہے ، اس زبردست ایکسرسائز کے بعد مینگو ملک شیک کے تین جگ تو بنتے ہی ہیں۔ اللہ کا شکر کرتےہوئے بستر سے باہر نکلے، نہا دھو کے تازہ دم ہونے کے بعد ناشتے کی میز پر آئے جہاں اللہ کے فضل و کرم سے نہاری، سری پائے، چکڑ چھولے ، حلوہ پوری ، تلوں والے کشمیری کلچے انصاف کے منتظر تھے ، ایک ایک کر کے ان سب کی سنی ۔ بیچ میں وقتاً فوقتاً لسّی کا دور چلتا رہا

    ناشتے سے فارغ ہوئے تو بلیک فون پنریندر مودی کا فون آگیا ، ان سے فوج کو زچ کرنے کے نت نئے طریقوں پر سیرحاصل گفتگو ہوئی اسکے علاوہ کاروباری معاملات زیر بحث آئے اور آخر میں انہیں سرحد پر ہلکی پھلکی گولا باری کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے بخوشی منظور کرلی ۔ مودی جی کے فون سے فارغ ہوئے تو اشرف غنی کا فون آگیا ان سے بھی فوج کو قابو رکھنے پر گفتگو ہوئی اور کابل میں ایک آدھ چھوٹا دھماکہ کرواکے ملبہ آئی ایس آئی پر ڈالنے پر اتفاق ہوا ۔ پھر طیب اردگان کا فون آگیا اور انہوں نے فوج کو نکیل ڈالنے کے اپنے تجربے کی رو سے کچھ ہدایات دیں اور کمیشن و کک بیک کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا ۔ روزانہ کی طرح آخری کال چین سے تھی جس میں بجلی اور اقتصادی راہداری میں کمیشن وغیرہ کے معاملات زیربحث آئے۔ اتنی عرق ریزی کے بعد چہار مغز، باداموں کا حلوہ تو یقیناً بنتا ہی تھا سو حق بحق داررسید کے مترادف اسے اسکے صحیح مقام تک پہنچايا ، لسّی کا بتانے کی تو ضرورت ہی نہیں ۔

    مقامی معاملات میں سب سے پہلا فون چھوٹے میاں صاحب کو کیا اور انکے ذریعے پنجاب پولیس کو کم از کم پانچ بندے پھڑکانے کی ہدایت کی تاکہ دھشت قائم رہے ۔ اسکے بعد خواجہ آصف، احسن اقبال ، خرم دستگیر، سعد رفیق، شاہد خاقان اور “پیدا” والی دوسری وزارتوں کو “پیداوار” بڑھانے اور ریکوریاں تیز کرنے کی ہدایات کیں ، خشکی والے اس کام کے دوران کدو کا حلوہ اور خشک میوہ جات کا لسّی کے ساتھ استعمال جاری رہا اسی دوران بلیک فون پر زرداری صاحب کافون آگیا ان سے مالی معاملات کےعلاوہ فوج کی ٹبری ٹیٹ کیئے رکھنے پر اتفاق ہوا ۔ اگلی کال الطاف حسین کی تھی ان سے بھی فوج کے بارے میں مخالفانہ تقریر کا مسّودہ زیربحث آیا ۔ الطاف بھائی کی باتیں سن کر تو اچھے خاصے بے حس انسان کو خشکی ہوجاتی ہے ، میاں صاحب تو پھر بہت ہی حساس طبیعت کے آدمی ہیں اسلیئے حمزہ شہباز کے فارم پہ علیحدہ سے پالی گئی خصوصی دیسی مرغیوں کے انڈوں کا حلوہ لسّی کے ہمراہ ضروری تھا سو کھایا گیا

    اب دفتر روانہ ہوئے رستے میں مولانا فضل الرحمان کو فون پر تحریک انصاف کی ایوان سے بیدخلی قرارداد کے مسّودے پر اعتماد میں لیا ، دفتر پہنچے تو راحیل شریف کی جانب سے “تھنگز ٹوڈو” کی تازہ فہرست موصول ہوچکی تھی اور وہ فون پر بات کے منتظر تھے انہیں کال ملاکرنئی ہدایات اور سابقہ امور میں تساہل پر سرزنش بھی شکریۓ کے ساتھ وصول کی ۔ اس بدمزگی کے بعد پیٹھے کا حلوہ ضروری ہوچکا تھا جسے لسّی کے ساتھ تناول فرمایا ۔ پھر ایاز صادق کو کال کرکے انہیں تحریک انصاف کی اسمبلی آمد کے بارے میں ہدایات جاری کیں ۔ اسکے بعد بلیک فون سے کچھ کالعدم تنظیموں سے رابطے کرکے انہیں فوج کو پھنسائی رکھنے کی حکمت عملی پر اعتماد میں لیا ۔ نجم سیٹھی سے کرکٹ کے مالی امور اور اپنے حصے پر گفتگو کی ۔ آئی بی کے سربراہ سے مختلف فوجی ، سیاسی اور صحافتی شخصیات کے فون ٹیپنگ کی صورتحال دریافت کی ۔

    اب ظہرانے کا وقت ہوچکا تھا اسلیئے ملحقہ ڈائننگ روم پہنچے جہاں سالم ہرن،خرگوش، مرغ مسلم،سری پائے، بریانی، ہریسہ ، گوشتابے، فیرنی اور شاہی ٹکڑوں کو باری باری اپنی توجہ کا مرکز بنایا اس دوران ایک ہاتھ لسّی والے ڈسپنسر پر رہا ۔

    اب قیلولے کا وقت ہوچکا تھا اسلیئے ملحقہ خوابگاہ کا رخ کیا ۔ چند گھنٹے آرام کے بعد شام کی چائے کا وقت ہوچکا تھا ۔ کشمیری نمکین سبز چائے طیب اردگان کے تحفے “بکلاوہ” اور لاہور کی خصوصی خطائیوں کے ساتھ نوش جاں فرمائی ۔ اس دوران گاڑی تیار تھی سو بیٹھ کر رہائشی حصے کی راہ لی ۔

    گھر پہنچ کر سب سے پہلے مطبخ میں جرمنی سے منگوائے گئے خصوصی لو ہیٹ برنر پر رکھے ہوئے “شب دیگ” کا معائنہ کیا ۔ اس دوران ملازم نے پودینے والی لسّی پیش کی ۔ صاحبزادے لندن میں اپنے دفتر پہنچ چکے تھےان سے کاروباری ومالی معاملات پرگفتگو فرمائی ۔ صاحبزادی کو بلا کر ان سے اربوں روپے کے سرکاری معاملات پر ان کی رائے لی ۔ اس دوران سوئیٹزرلینڈ سے پرسنل بینکر کا فون آگیا، اس سے اکاؤنٹ کی صورتحال معلوم کی ۔ میاں منشاء ، لکشمی متل اور جندل سے خوش گپیاں فرمائیں اور طعام گاہ روانہ ہوئے جہاں شب دیگ ہمراہ جملہ لوازمات (جو ظہرانے پر موجود تھے) کا تازہ ایڈیشن سرینگر سے آئے ہوئے خصوصی باورچی اعلیٰ اور اسکے لاہوری، امرتسری اور گوجرانوالوی معاونین کی کوششوں کا منہ بولتا ثبوت بن کر موجود تھا ۔ ان سب سے انصاف کے بعد خوابگاہ روانہ ہوئے۔

    خوابگاہ میں پہنچ کر خصوصی ہاٹ لائن سے خادم حرمین شریفین اور باراک اوبامہ کا اقتدار کا ایک اور دن بخیروعافیت گذرجانےپر شکریہ ادا کیا ۔باداموں والا دودھ پینے کے بعد بستر شاہی پر دراز ہوکر کشمیرہ کے نرم وملائم کمبل کو اوڑھ کر خواب و خرگوش کے مزے لوٹنے لگے

    نوٹ: اس مضمون میں پائی جانے والی بیشتر باتیں آپکو عجیب مگر تواتر سے سنی سنائی ملیں گی طالبعلم صرف انکو یکجا کرکے آپ کی بصارتوں کی نذر کرنے کا سزاوار ہے اسلیئے جو چیز بھی بری لگے اسکا تبرہ اسکے اصل موجد کی روح کو بھیجیئے ۔ پٹواری حضرات بھی اسکو مذاق کے طور پر ہی لیں اور مورچہ بند ہوکے چڑھائی کا فاسد خیال دل میں نہ لائیں