Finally



  • So "Finally" we have light at the end of the tunnel. Finally

    What ten Pakistan Muslim Leagues, four Pakistan Peoples Party, five Jamiat Ulema Islam and scores of other parties including PTI, MQM, ANP, JI etc couldnt do, was attempted by Mirza Aslam Baig, Musharraf and even Dr. Abdul Qadeer and yet these strong men failed to make Pakistan a strong prosperous nation.

    In the end 162 parties (list of parties per link below) failed to make Pakistan move forward and have its citizens achieve prosperity, peace and justice.

    http://www.ecp.gov.pk/Misc/listPolParties.aspx

    But failure of 162 parties didnt defeat the will of our last hope. My friends, we have "Finally" a good news now. Finally saviour of our nation has decided to launch another party. Chief Justice Iftikhar sahib has decided to fight for us.

    http://tribune.com.pk/story/1017053/former-cjp-iftikhar-chaudhry-launches-political-party/

    Beats me to understand as to why a poor country requires over 150 political parties and why everyone is interested in establishing his or her own party, nominating himself or herself as the chief and promising to change the future of the poor down trodden people of this nation. Why cant they join another party and work as a member and bring change rather than creating another party.

    But them I am too dumb to understand these finer points.

    By the way, is this the final "Finally"?



  • A mediocre lawyer from a remote city of Pakistan got elevated to the supreme court based on the quota system and to rubber-stamp decrees promulgated by a dictator. He thought he must be a brilliant man to be chosen to lead the highest court of the land. Lucky for him, after his dismissal, political parties saw an opportunity to rally around him against Mush. But now he is a used cartridge, just like Aslam Baig. Nobody wants him. He'll soon find out his worth, and it won't be much.



  • کالم نگار | نصرت جاوی

    افتخار چودھری کا سیاسی بخار

    یہ واقعہ گزرے ابھی دس سال بھی پورے نہیں ہوئے۔ ایک ہوتا تھا چیف، نام تھا اس کا افتخار چودھری اور اس کے جاں نثار، بے شمار ہوا کرتے تھے۔ اپنے وقت کے بے تحاشہ طاقتور صدر کو اس نے خاموشی سے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا تھا۔ اسے عبرت کا نشان بنانے کے لئے ہماری تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے کسی چیف جسٹس کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت ایک فرد جرم تیار ہوئی۔ اس فرد میں درج الزامات کی صداقت کا ہمارے ملک کی دو طاقتور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہوں نے ایک باقاعدہ حلف نامے کے ذریعے اصرار کیا۔ ان دنوں آئی ایس آئی کے سربراہ، جنرل کیانی، نے حلف نامہ نہیں دیا مگر ان کے ایک طاقتور نائب نے کھل کر حکومتی مو¿قف کا ساتھ دیا۔

    وردی میں ملبوس ایک طاقتور صدر اور تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہ جب کسی شخص کے خلاف متحد ہوجائیں تو انجام تارامسیح کے ہاتھوں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی جیسا بھی ہوجایا کرتا ہے۔ افتخار چودھری مگر اس ضمن میں انتہائی خوش نصیب ثابت ہوئے۔ اپنے گھر سے پیدل ہی اپنے خلاف تیار ہوئی فردِ جرم کے دفاع کے لئے روانہ ہوئے تو وہاں ٹی وی کیمرے پہنچ گئے۔ ”ملزم“ راتوں رات ہیرو بن گیا۔

    ٹی وی کیمروں کے ذریعے افتخار چودھری کی اسلام آباد کی سڑکوں پر پولیس کے ہاتھوں تذلیل سے چند ہی روز پہلے اخباروں میں صرف ایک تصویر آئی تھی۔ جس دن وہ تصویر شائع ہوئی میں لاہور میں موجود تھا۔ ان دنوں آج ٹی وی سے وابستہ طلعت حسین نے بالآخر مجھے قائل کردیا تھا کہ اخبار کی دُنیا چھوڑ کر مجھے الیکٹرانک صحافت سے وابستہ ہوجانا چاہیے۔ 2007ءکو عام انتخاب کا سال ٹھہرادیا گیا تھا۔ فیصلہ ہوا کہ میں 50کے قریب قومی اسمبلی کے حلقوں میں کیمرہ لے کر جاﺅں اور لوگوں کو یہ دکھانے کی کوشش کروں کہ اس حلقے میں اصل جوڑ کن انتخابی پہلوانوں کے مابین ہوسکتا ہے اور وہ پہلوان اپنے حریف کو شکست دینے کے لئے کیا داﺅپیچ استعمال کرسکتے ہیں۔

    میں نے اس منصوبے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لئے ایک ایسا پروگرام تیار کرنے کا فیصلہ کیا جسے ٹی وی کی زبان میں Pilotکہا جاتا ہے۔ انتخاب اس پائلٹ کے لئے میں نے لاہور کے اس حلقے کا کیا جہاں سے چودھری اعتزاز احسن 2002ءکے انتخاب میں قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ روحیل اصغر شیخ انہیں اب شکست دینے پر تلے بیٹھے تھے۔ ان دونوں حضرات کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات دیرینہ تھے۔ دونوں بڑی محبت سے میرے ساتھ تعاون پر آمادہ ہوگئے۔ اگرچہ یہ بات طے نہیں ہوئی تھی کہ میرا تیارکردہ پروگرام آن ائر بھی جائے گا یا نہیں۔

    بہرحال اپنی ٹیم کے ساتھ جب میں لاہور کے زمان پارک میں واقعہ چودھری اعتزاز احسن کے ہاں پہنچا تو وہاں ایسا سناٹا طاری تھا جو کسی گھر پر کوئی بہت ہی بُری خبر سننے کے بعد چھاجایا کرتا ہے۔ میری جذباتی بہن بشریٰ اعتزاز ہذیانی کیفیت میں بار بار پنجابی میں مجھ سے ایک ہی سوال پوچھتیں کہ میں نے ”وہ“ تصویر دیکھی ہے یا نہیں۔ اعتزاز احسن کو اپنے جذبات پر قابو پانا آتا ہے۔ گلے لگاکر میرا خیر مقدم ضرور کیا مگر گرفت اور لہجے میں گرم جوشی نہیں تھی۔ ”بہت بُرا ہوا“ یہ فقرہ وہ بھی بار بار دہراتے چلے گئے۔ اپنے دل کو لگے دھچکے کے باوجود موصوف نے بڑی دلجمعی کے ساتھ میری ٹیم کے ہمراہ اپنے حلقے کا دورہ کیا۔ گھر لوٹ کر میرے سوالات کے ٹھیک ٹھاک جوابات بھی دئیے۔ اس کام سے فارغ ہوکر مگر اسلام آباد روانہ ہوگئے۔

    اس دن کے بعد سے وہ بے شمار جاں نثاروں والے چیف کے ”ڈرائیور“ ہوگئے۔ اعتزاز احسن کی بائیں نشست پر اتنہائی خاموشی سے بیٹھا چیف پھولوں کی بارش تلے شہر شہر جانا شروع ہوگیا۔ خلقِ خدا کا ایک ہجوم گھنٹوں اس چیف کا منتظر رہتا۔ تمام 24/7چینل اس سفر کا ہر پڑاﺅ اور لمحہ اپنی شیڈیولڈ نشریات کو روک کر مسلسل دکھاتے رہے۔

    برسوں کی غلامی کے بعد ہمارا میڈیا بالکل آزاد ہوچکا نظر آیا۔ حق وانصاف کی بالادستی بھی بالآخر پاکستان کا مقدر ہوتی نظر آنے لگی۔

    اس ملک کے نامی گرامی سیاست دانوں کے پاس عدلیہ کی آزادی کے نام پر چلائی اس تحریک کا حصہ بننے کے سوا کوئی چارہ ہی باقی نہیں رہا تھا۔ شک وشبے کے ساتھ صرف بے نظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمن دو ایسے رہ نما نظر آئے جو اس تحریک سے کچھ فاصلہ رکھے ہوئے تھے۔ لوگوں کو مگر اپنی بات سنانے کا ماحول انہیں ہرگز نہ ملا۔

    میرا ذاتی معاملہ بھی اس پورے قصے میں بہت عجیب تھا۔ افتخار چودھری کے انکار کے باعث شہری آزادیوں اور مکمل انصاف کے حصول کے لئے عوامی تڑپ کا بھرپور اظہار میرے لئے مسحور کن تھا۔ ان سب سے بڑھ کر بطور ایک کارکن اور کل وقتی صحافی میرے لئے آزادی کا وہ احساس زیادہ حوصلہ بخش تھا جو عدلیہ بحالی کی تحریک نے فراہم کیا تھا۔ ان دنوں اس ملک کے انتہائی طاقتور افراد اور اداروں کے بارے میں وہ سب کچھ Live TVپر کہہ ڈالا جو کبھی خلوت میں انتہائی بھروسے والے دوستوں کے سامنے بھی تمام عمر نہ کہہ پایا تھا۔

    آزادی کے اس خمار کے ساتھ ہی ساتھ مگر چند تلخ معلومات بھی تھیں جو بحیثیت رپورٹر مجھے ٹھوس ذرائع اور واقعات کے ذریعے ملی تھیں۔ افتخار چودھری کے ایک ہونہار فرزند ہوا کرتے ہیں ارسلان۔ تعلیم انہوں نے ڈاکٹر بننے کے لئے حاصل کی تھی مگر شوق چڑھ گیا ایف آئی اے میں بھرتی ہوکر تھانیداری فرمانے کا۔ امریکہ کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوچکی تھی اور اس کے لئے سہالہ میں تیار ہورہے تھے خصوصی سکواڈ۔ ایسے ہی ایک سکواڈ میں اسے بھرتی کروانے کے لئے ارسلان کے ”بااصول“ والد نے وہ سب کچھ کیا تھا جو ہمارے عام والدین کی اکثریت اپنے بچوں کی خواہش پوری کرنے کو کیا کرتے ہیں۔

    ذاتی طورپر مجھے صنعتوں کی نجکاری کا تصور آج بھی زیادہ پسند نہیں۔ پاکستان سٹیل ملز مگر میراثی کے گھر بندھا ہاتھی بن چکی ہے۔ پاکستانی ریاست اربوں روپے کے اصراف کے باوجود اسے ایک جاندار ادارہ بنا ہی نہیں سکتی۔ مشرف دور میں شاید اس کی نج کاری ایک مناسب فیصلہ تھا مگر افتخار چودھری نے ایسا ہونے نہ دیا اور قوم سے اس معاملے میں بے تحاشہ دادوتحسین سمیٹی۔

    پھر عدلیہ بالآخر بحال ہوگئی۔ مشرف بھی ایوانِ صدر سے رخصت ہوگئے۔ افتخار چودھری نے سپریم کورٹ کے بنچ نمبر 1پر عوامی طاقت کے بل بوتے پر لوٹنے کے بعد روزانہ رونق بہت لگائی۔ ٹی وی اور اخبارات میں اپنے ریمارکس کی بدولت چھائے رہے اور طاقت ور سیاستدانوں اور افسران کو روزانہ اپنے روبرو بلواکر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے ہمارا جی خوش کرتے رہے۔

    خلقِ خدا کو مگر انصاف کے حصول کی خاطر آج بھی برسوں انتظار کرنا اور در درجاکر بھیک مانگنا ہوتا ہے۔ اظہار کی آزادی بھی اب صرف اسمبلیوں میں بیٹھے ”چوروں اور لٹیروں“ کی تذلیل تک محدود رہ گئی ہے اور صحافت ان دنوں اتنی ہی ”آزاد“ ہے جتنی اس ملک میں ہمیشہ سے ہوا کرتی تھی۔ شوروغوغا تو بہت رہا مگر چیرا تو اِک قطرئہ خوں بھی نہ نکلا۔ ہر شے اس ملک میں افتخار چودھری کے باوجود ”آنے والی تھاں“ پر واپس آچکی ہے۔

    افتخار چودھری کا مگر حوصلہ ہے کہ اب بھی خود کو ”مسیحا“ تصور کئے بیٹھے ہیں۔ 25دسمبر 2015ءکو انہوں نے اپنی ایک سیاسی جماعت لانچ کردی ہے۔ اس لانچ کی خبر میڈیا میں لیکن اتنی ہی جگہ لے پائی جتنی فرض کیا میرے جیسا کوئی شخص اپنی ایک سیاسی جماعت کے قیام کے اعلان کے بعد حاصل کر پائے گا۔ ایسی بلندی اور ایسی پستی کے مناظر اپنی آنکھوں سے میں نے بہت ہی کم دیکھے ہیں۔ سمجھ آئی ہے تو بس اتنی کہ میڈیا کی بدولت ابھارا Hypeبالآخر بخار ہی کی طرح ہوتا ہے جو ایک دن اُتر جاتا ہے۔

    http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/30-Dec-2015/440597



  • @Hypocrite Sahib

    Beats me to understand as to why a poor country requires over 150 political parties and why everyone is interested in establishing his or her own party, nominating himself or herself as the chief and promising to change the future of the poor down trodden people of this nation. Why cant they join another party and work as a member and bring change rather than creating another party.

    Perhaps the reason is indirect elections. Everyone except MNA, MPA or Local Bodies rep is indirectly elected. President, PM, CM are indirectly elected by the votes of fellow MPs and Governors, Ministers etc are political nomination. If you compare that with US from school board members to local reps, state delegates, Congressmen, Senator, Kt. Governor, Governor, President - everyone is directly elected.

    Donald Trump didn't need to come as third party candidate, he is approaching voters directly and if they vote for him party establishment can't stop him. Eight years ago Democratic establishment rallied around Obama after Obama showed he enjoys more support than Hillary Clinton. The opportunity to go directly to voters help establish two party system.

    Dr. Qadeer, Aslam Baig, Musharaaf, Iftikhar Chaudhry kind of political parties are like some think tank or forum in US. General Petraeus can launch a think tank to voice his opinions but to run for President's office he can approach Democrats or Republicans voter directly bypassing party establishment altogether. If he garners enough support party establishment will come to him.

    In Pakistan people will have to approach Sharifs or Bhuttos or launch their own party. This indirect elections is the major reason even second tier leadership Atizaz and Nisar can never takeover Bilawal or Humza.



  • جتنی مقبولیت راحیل کو ہے اتنی کوتو کسی کوبھی نہیں ، سب سے مقبول سیاستدان انہترفی صد

    میں توکہتاہونکہ یہ پتلون اتارے اورلنگوٹ کس کرآجائے میدان سیاست میں = صرف کراچی میں اسکے اتنے بورڈ ہیں کہ پورے ملک میں کسی اورکے نہیں -سب کی ضبط کرادیگامیراجنرل--میراووٹ تواسی کا ہے



  • ایسی بلندی اور ایسی پستی کے مناظر اپنی آنکھوں سے میں نے بہت ہی کم دیکھے ہیں۔ سمجھ آئی ہے تو بس اتنی کہ میڈیا کی بدولت ابھارا Hypeبالآخر بخار ہی کی طرح ہوتا ہے جو ایک دن اُتر جاتا ہے


    Shirazi sahib

    Thanks for sharing the article. I enjoyed reading it and the last few lines really said a lot.



  • سب کی ضبط کرادیگامیراجنرل--میراووٹ تواسی کا ہے


    Gulraiz sahib

    You communicate a lot through your sense of humor and few sentences. You write well and I enjoy it.

    Your last comment is awesome (like many other comments of yours)



  • Hypocrite sb,

    آپکابہت بہت شکریہ

    جملہ کومزیدآگے بڑھاتاہوں کہ سب کی ضبط کرادیگامگراپنی بچالے گا، مگرایسی چیز کوبچانے کاکیافائدہ جسکی کوئی وقعت ہی نہ ہو

    میراتوہنسی سے پھوارہ چھوٹ گیا-میرے دوست نے کہاکہ میرے منہہ پر پھوارہ کیوں چھوڑتے ہو- جب میں نے پڑھاکہ انہترفیصد کی ریٹنگ یعنی سکسٹی نائین پرسینٹ--ٹکانے والے نے بھی خوب نشانے پر ٹکایاہے - رسی بھی نہ جلی اورسانپ بھی مرگیا --ان اکتیس کاپتہ نہ چلاکہ وہ کون تھے ، شایدوہ ہونگے جنہوں نے کراچی میں بورڈ لگائے ہونگے--بلدیاتی الیکشن کے بعد نجانے وہ بورڈ کہاں گئے ---شاید آپکویادہوکہ ایک زمانے میں ہراینٹ کے اوپرایوب کی نصویرہوتی تھی ، کراچی میں فوجی سے جتنی زیادہ نفرت اتنی ہی زیادہ تصویریں ---اکہترمیں انہوں نے پاکستان کے ساتھہ جوکچھہ کیااسکے بعد انکی توتصویرکی بھی کوئی قیمت نہیں



  • ریاست ہو گی پھر ماں جیسی ؟