شادی کی عمر کا تعین اسلام کے خلاف ہے



  • حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی اُمور نے کم عمری کی شادی کے خلاف قانون میں ترمیم کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

    کم عمر کی شادیاں روکنے کے قانون میں ترمیم حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی رکن پارلیمان ماروی میمن نے جمع کروائی تھی۔ ماوری میمن نے کہا کہ ’شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے پر اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ یہ غیر اسلامی ہے اور یہ توہینِ رسالت کے زمرے میں آتا ہے تو ایسے میں پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے کیونکہ پھر بات کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔‘

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/201...ld_marriage_sr

    یہاں ماروی میمن سے سوال ہے کہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل میں بیٹھے کچھ مولوی غنڈوں...جن کے دل و دماغ آج بھی غاروں کے زمانے میں رہتے ہیں .... کی ایک دھمکی برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے ہے تو تمہیں کاغذی خانہ پوری کرنے کے لیے یہ ترمیم جمع کرانے کی کیا ضرورت تھی ...اگر اپنے آپ کو روشن خیال ، پروگریسو ، لبرل ، جدت پسند کہلوانا ہے تو کچھ ہمت ، حوصلہ اور بہادری بھی دکھانا ہوگی ....تم جیسے نام نہاد لبرل ...حقیقی لبرلز کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہیں ...یہ دو ٹکے کے مولوی جن کی عوامی طاقت الیکشن میں دو چار فیصد ووٹ لینے سے زیادہ نہیں ...وہ منتخب نمائندوں کو یہ بتائیں گے کہ انہیں کون سا قانون بنانا ہے اور کون سا نہیں ...توہین رسالت کی دھمکی آئی نہیں اور ہاتھ پیر پھول گئے .....اگر جان اتنی ہی پیاری ہے تو سیاست میں جھک مارنے کی کیا ضرورت ہے ..ڈوب مرو کہیں چلو بھر پانی میں

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت نے لڑکیوں کی کم عمری کی شادی کو رد کردیا ہے ...جب بھی کوئی خبر آتی ہے کہ فلاں علاقے میں ایک ساٹھ سالہ بوڑھے نے ایک ایک دس یا بارہ سالہ لڑکی سے شادی کرلی ہے تو پورے میڈیا میں شور مچ جاتا ہے ...لعن طعن کرنے والوں کی ایک لمبی لائن لگ جاتی ہے ..حالانکہ اگر پوچھا جائے کہ کیا یہ شادی غیر اسلامی ہے؟ جواب ہے نہیں ....تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس ساٹھ سالہ بڈھے پر چار لفظ بھیجنے والے کیا توہین رسالت کے مرتکب نہیں ہورہے؟

    کوئی ماں باپ ایسے نہیں جو اپنی آٹھ دس سالہ بچی کو کسی پچاس ساٹھ سالہ مرد کے عقد میں دیں ...معاشرہ بھی اسے غیر انسانی اور غیر اخلاقی تصور کرے گا ...تو اگر عملی طور پر پاکستانیوں کی اکثریت حضور کی اس سنت کو ترک کرچکی ہے تو پھر اسے قانون کی شکل دینے اور گنتی کے کچھ افراد کو اس فعل سے روکنے میں کیا مضائقہ اور ممانعت ہے؟

    پاکستان کے منتخب نمائندے جو اسلامی نظریاتی کونسل کے کچھ مولویوں کے آگے دو سیکنڈ میں ہتھیار ڈال جائیں ...ان سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ اباما ، پیوٹن ، یا ڈیوڈ کیمرن کے سامنے دو لفظ بھی بول پائیں گے ..پاکستان کے نام نہاد لبرلز پر ایک شعر یاد آتا ہے

    بزدلوں کی کمی نہیں غالب

    ایک ڈھونڈھ ہزار ملتے ہیں



  • ھھھھھھھا

    قرارکی جل گئی اورماروی کی باجے کی طرح بج گئی اورچوہیا بل میں گھس گئِ





  • Ali and Umar were marrying each other's daughters but Shias and Sunnis are still cutting throats even after 14 centuries.

    Height of stupidity.