سعودی عرب ،تجارت بھارت سے قربانی پاکستان سے ؟



  • محمد بلال غوری

    بھارت کے عرب ممالک سے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔مشرق وسطیٰ میں حصول روزگار کے لئے مقیم 70 لاکھ بھارتی شہری سالانہ 70.39بلین ڈالر اپنے ملک بھجواتے ہیں۔ ان ترسیلات زر میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب میں کام کرنے والے 2.73ملین بھارتی شہریوں کا ہے جو ہر سال 40بلین ڈالر بھارت بھجواتے ہیں۔ دو طرفہ تجارت کے تناظر میں دیکھا جائے تو سعودی عرب بھارت کا چوتھا بڑا شراکت دار ہے ۔دو طرفہ تجارت کا حجم 39.4بلین ڈالر ہے ۔سعودی عرب بھارتی مصنوعات کی پانچویں بڑی منڈی ہے ۔سعودی عرب کو معدنیات ،کیمیکلز،اسٹیل ،الیکٹرک مصنوعات اور گوشت کی فروخت سے بھارت ہر سال 11.2بلین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔سٹیٹ بینک آف انڈیا سمیت سینکڑوں بھارتی کمپنیاں سعودی عرب میں کام کر رہی ہیں۔ سعودی عرب جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 426بھارتی کمپنیوں کو جوائنٹ وینچر ےا سول انٹر پرائزز کے طور پر کام کرنے کے لیئے لائسنس جاری کئے گئے ہیں ۔سعودی عرب کی بھارت پر نوازشات کی بھی کچھ کم نہیں۔ گزشتہ پندرہ برس کے دوران سعودی عرب نے بھارت میں 53.37 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔بھارت نے قومی سلامتی کے حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے کئی معاہدوں پر بھی دستخط کر رکھے ہیں جن کے تحت سعودی عرب نے ممبئی حملوں میں مطلوب ابو جندل کو بھارت کے حوالے کیا ۔مگر اس کے باوجود بھارت نے ایران سے کشمکش کے تناظر میں سعودی عرب کی حمایت نہیں کی کیونکہ سعودی عرب کی طرح ایران سے بھی بھارت کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ بھارت ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔ بھارت ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے افغانستان کو سمندر تک رسائی دینا چاہتا ہے تاکہ افغانستان پاکستان پر انحصار کرنا چھوڑ دے اور اس کی گود میں جا بیٹھے۔ےمن اور شام میں دونوں ممالک کے درمیان پراکسی وار کا سلسلہ ہو ےا پھر حالیہ کشیدگی کا معاملہ ،بھارت نے کسی ملک کی سالمیت کے دفاع کا وعدہ تو کیا ثالثی کا عندیہ بھی نہیں دیا۔کیونکہ سیاست کی طرح ریاست کے سینے میںبھی دل ہوتا ہے نا جذبات،ریاست کی آنکھیں تو ہوتی ہیں مگر ان میں کوئی دید ہوتی ہے ناں شرم و لحاظ ،بس اپنے ملک کے مفادات پر نظر ہوتی ہے۔اگر ریاستیں اس بے رحمانہ اصول کے کھونٹے سے نہ بندھی ہوتیں تو ایران اور سعودی عرب برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے مسئلہ کشمیر پر بھارت کے بجائے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ عالمی تعلقات ملکی مفادات کے تابع نہ ہوتے تو پاک چین دوستی ہمالیہ سے زیادہ بلند،سمندر سے زیادہ گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہرگز نہ ہوتی۔چنانچہ اس نازک گھڑی میں بھارت نے غیر جانبدار رہنے اور محض یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ہم سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری کی خواہش رکھتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کچھ گروہ اور جماعتیں ہی نہیں ،حکومت بھی خم ٹھونک کر میدان میں آگئی ہے۔ حالانکہ تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد بھارتیوں کے مقابلے میں آدھی ہے اور پاکستان کو بھیجی جا رہی ترسیلات زر بھی اسی حساب سے کئی گنا کم ہیں ۔سعودی عرب ہماری محبتوں اور عقیدتوں کی سرزمین تو ہے مگر یہ محبت سراسر خسارے کا سودا ہے کیونکہ 39.4بلین ڈالر کی بھارت سعودی دوطرفہ تجارت کے مقابلے میں پاکستان اور سعودی عرب کی دو طرفہ تجارت کا حجم صرف 4.7بلین ڈالر ہے ۔اس تجارت میں بھی ہماری شراکت آٹے میں نمک کے برابر ہے کیونکہ 4.7بلین ڈالر کی تجارت میں سے 4.29بلین ڈالر کی مصنوعات ہم سعودی عرب سے در آمد کرتے ہیں اور بر آمدات کا حجم محض 0.456بلین ڈالر ہے۔ریاستیں جب کڑے وقت میں اپنا وزن کسی کے پلڑے میں ڈالتی ہیں تو اس تائید و حمایت کے عوض خاطر خواہ فوائد حاصل کیئے جاتے ہیں ۔ہم سے تو بھارت اچھا جس نے سعودی عرب اور ایران کی دوستی سے ثمرات سمیٹے اور اب بھی اس انداز میں اپنا دامن چھڑایا کہ دونوں سے تعلقات برقرار ہیں ۔ہم تو اپنے مہربانوں سے یہ بھی نہ کہ پائے کہ حضور !ہم آپ کی سالمیت اور دفاع کی خاطر مر مٹ تو جائیں مگر آپ بھی تو اپنی اداﺅں پر غور فرمائیں ۔آپ ایک ہندو اکثریتی ملک سے سالانہ 259.01 ملین ڈالرکا گوشت خریدتے ہیں،حالانکہ حلال گوشت کے معاملے میں پاکستان زیادہ اعتماد کے لائق ہے ۔آپ کسی اور ملک کو ترجیح دینے کے بجائے اپنی سالانہ ضرورت کے پیش نظر نو لاکھ ٹن پولٹری گوشت ہم سے خرید لیں تو ہم غریبوں کی دال روٹی چلتی رہے ۔آپ کو جنگی کھلونے جمع کرنے کا بہت شوق ہے ،دفاعی سازو سامان کی تیاری میں ہم بھی کسی سے پیچھے نہیں ،کبھی مناسب سمجھیں تو ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے فرمانروا ذاتی تعلقات بڑھانے کی بجائے اس موقع پر ان 4000 پاکستانیوں کے لیئے کوئی عرضی پیش کرتے جو وہاں جیلوں میں سڑ رہے ہیں ۔ان میں کئی ایسے قیدی بھی ہوں گے جنہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ہو گا مگر اکثریت ان بے گناہوں کی ہے جو اپنے کفیل کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے پر جیل جا پہنچے ۔وہاںکام کرنے والے پاکستانیوں کو جس تذلیل و تحقیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،یہ تو آپ وہاں سے آنے والے کسی پاکستانی سے ہی پوچھیں کہ قبر کا حال مردہ ہی بہترجانتا ہے۔ مجھے آئے روز وہاں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ایسی ای میلز موصول ہوتی ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے۔کاش ! بات چیت کے دوران معزز کرم فرماﺅں سے دست بستہ گزارش کی گئی ہوتی کہ عربی ہوں ےا عجمی ،سب کی کفالت کا ذمہ پروردگار نے اٹھاےا ہے ۔اگر مناسب سمجھیں تو وہاں مقیم پاکستانیوں کو کفیل کے شکنجے سے آزاد کر دیں تاکہ ان کی 80فیصد آمدن ہڑپ نہ کی جا سکے ۔

    http://humsub.com.pk/1194/bilal-ghauri/