Mubarak Hooooo!



  • Image and video hosting by TinyPic

    Mubarek Ho by Saleem Safi - Jang, 19th January 2016



  • کسی نے بھی 'خیر مبارک' نہیں کہا ' تو سوچا میں ہی کہ دیتا ہوں - خیر مبارک ہوووووووووو



  • سلیم صافی کا اتنا تو حق بنتا تھا ' اتنی محنت کر کے تیکھا کالم لکھنے کا



  • Adnak sahib

    Belated Khair Mubarak. I hope this column in not an exaggerated emotional representation of something that could be true. If it is not and is mostly true Saleem Safi is pointing towards something that could cause serious issues for the federation in future. It also points towards the limited capabilities and foresight of so called other leaders.



  • hypocrite jee

    Had the CPEC project been transparent, it would have been brought to the knowledge of general public with a map of the roads. But it is not so, which means that there is something fishy.

    As a layman, what I can see is that the CPEC should be the shortest possible road between Gwadur and Kashghar. I, the layman, made a map of shortest possible route as follows:

    Image and video hosting by TinyPic

    On this route, road already exists, thus developing this as CPEC will cost far less than making new and longer roads. The only problem with this route is that it will not pass through the 'RAJDHANI'. Comments of Sardar Akhtar Mengal about being new 'Nationalist' carry weight.

    For the benifit of major cities of Pakistan, link roads to the said CPEC will be a better option.



  • It is one of those rare occasions When I liked Salim Safi's Column .



  • ’وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو دھوکہ دے رہی ہے‘

    پاکستان کے صوبے خیبر پِختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں قائم مرکزی حکومت چین، پاک اقتصادی رہداری منصوبے پر صوبے سے مسلسل دھوکہ کررہی ہے۔

    پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ان پر غداری کا الزام لگانے والے خود ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ملک سے ’ غداری‘ ثابت ہوگئی ہے۔

    وہ جمعرات کو پشاور پریس کلب کی نو منتخب کابینہ سے حلف لینے کے سلسلے میں منعقدہ تقریب حلف برداری سے خطاب کررہے تھے۔

    وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ چین پاک راہداری منصوبے پر کئی ماہ تک واویلا کے بعد بھی وفاقی حکومت نے ان سے ایک بار پھر دھوکہ کیا اور مغربی روٹ جس پر صوبے کی طرف سے زور دیا جارہا تھا کہ اسے سب سے پہلے تعمیر کیا جائے، وہ بنیادی طور پر اس منصوبے کا حصہ ہی نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ چینی سفیر نے انھیں گذشتہ روز ایک تقریب میں صاف الفاظ میں بتا دیا تھا کہ مغربی روٹ چین پاک راہداری منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔

    ’ہمیں غدار کہنے والے اس ملک کے حکمرانوں نے خود ایسے اقدامات اٹھائے اور چھوٹے صوبوں کے حقوق کچھ اس انداز سے ہڑپ کیے جس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وہ خود اس ملک کے ساتھ غداری کررہے ہیں اور اصل میں وہ ہی غدار ہیں۔‘

    وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ’اگر صوبے کی حقوق کے لیےجائز آواز اٹھانا غداری ہے تو وہ یہ غداری بار بار کرتے رہے گے۔‘

    ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ چین پاک راہداری منصوبے کے لیے مختص تمام رقم پہلے ہی تقسیم کی جا چکی ہے اور خیبر پختونخوا کو اس میں کچھ حصہ ملنے والا نہیں۔ تاہم وہ اس کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔

    پرویز خٹک نے اس بات کی وضاحت کی کہ وہ مشرقی روٹ کی ترقی کے خلاف نہیں، لیکن اس منصوبے میں چھوٹے صوبوں کا جو حصہ بنتا ہے وہ ان کو بغیر کسی تاخیر کے ملنا چاہیے۔

    ان کے بقول: ’ہم کوئی ملک دشمن قوتیں نہیں کہ ہمیں طرح طرح کے طعنے دیے جارہے اور القاب سے پکارا جا رہا۔ لیکن اگر ہمیں ہمارے حقوق نہیں دیے گئے تو ہم پھر خاموش رہنے والے بھی نہیں۔‘

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ انھوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے جو بہت جلد وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملاقات کرے گی، لیکن اگر ان کے خدشات دور نہیں کیے گئے تو پھر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    اس سے پہلے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پشاور پریس کلب کی نو منتخب کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب میں صوبائی وزرا اور صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    خیال رہے کہ چند ماہ قبل دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے مرکزی حکومت پر چین پاک اقتصادی راہداری منصوبے میں ان کو نظر انداز کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے اس منصوبے پر شدید خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    خیبر پختونخوا میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے احتجاج بھی کیا گیا تھا جبکہ اس ضمن میں کل جماعتی کانفرنسوں کا انعقاد بھی کیا گیا۔ تاہم وزیراعظم کی طرف سے یقین دہانیوں کے بعد احتجاج کا سلسلہ ختم کیا گیا تھا۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/02/160211_cm_kpk_blames_pm_cpec_zh