Privitization of PIA



  • PIA is being privatized because Gov't has committed so to IMF. The primary reason is it's operating at loss and the assumption is that private sector can turn it around. Quite possible but at the cost of thousands laid off and benefits scaled down.

    PIA was among top ten and a model airline for many upcoming airlines in ME in 1960's. If I am not mistaken all those airlines Gulf, Etehad, Kuwait, Qatar even Air India are still state owned. To be profitable you don't have to shed the tag of state. In developed world it's easy to privatize because markets are mature. But in developing world states should be very careful selling state assets.



  • Yesterday Kashif Abbasi made very strong argument to Sheikh Waqas. Gov't's plea is they can't afford to subsidize PIA anymore then why did they start heavily subsidized metro bus? London metro gets 1.2 billion pounds of subsidy from British Gov't every year. Shouldn't they privatize that too?

    Seems like our state is only interested in strategic assets aka Jihadi mullahs not physical assets.

    -;)



  • Height of hypocrisy ...

    h ttps://www.youtube.com/watch?v=Vd6NL1QQFDY

    https://www.youtube.com/watch?v=Vd6NL1QQFDY



  • ’پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے‘

    پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ہڑتال کرنے والے ملازمین کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔

    مظفر آباد میں جمعے کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران اس بحران کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت قومی ایئر لائن کی ترقی چاہتی ہے اور ملازمین کی ہڑتال بلاجواز اور غیرقانونی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اصولوں اور قومی مفاد کے خلاف کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ مفاد پرستی کی سیاست کرنے والے عناصر نہیں چاہتے کہ پی آئی اے ترقی کرے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ملک میں صرف سیاست برائے سیاست نہیں ہونی چاہیے، مسائل کا حل بھی ہونا چاہیے۔‘

    دوسری جانب نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما سہیل بلوچ نے ڈی جی رینجرز سے آج ملاقات کی ہے جس میں دو ملازمین کی ہلاکت کی تحقیقات پر بات چیت کی گئی۔

    ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ڈی جی رینجرز نے انھیں دو ملازمین کی ہلاکت کے واقعے کی منصفانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    ادھر ادارے کی نجکاری کے خلاف کراچی میں پی آئی اے کے مرکزی دفتر کے باہر ملازمین کا احتجاج جمعے کو بھی جاری ہے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر ہونے والی ہڑتال کی وجہ سے لگاتار چوتھے دن پی آئی اے کے فلائٹ آپریشنز معطل ہیں۔

    ی آئی اے ملازمین کا احتجاج 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بل آنے پر شروع ہوا تھا۔

    ادارے کے ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا ہے کہ ’گیارہ دنوں میں پی آئی اے کو 2 ارب سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔‘

    جمعرات کو انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اب پی آئی اے کے اپنے فلیٹ میں شامل تمام طیارے پاکستانی ایئرپورٹس پر کھڑے ہیں اور کوئی بھر پرواز اڑان نہیں بھر رہی۔

    اس احتجاج میں دو دن قبل اس وقت شدت آئی تھی جب کراچی میں پی آئی اے کے دو ملازمین دورانِ احتجاج گولیاں لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔

    ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ان ہلاکتوں کے لیے رینجرز کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ رینجرز حکام اس الزام سے انکار کر رہے ہیں۔

    اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کراچی میں رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

    ہڑتال اور احتجاج کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہےاور جمعرات کو پی آئی اے کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ایسے تمام مسافر جنھوں نے مختلف روٹس پر پی آئی اے کے کنفرم ٹکٹ خرید رکھے ہیں انھیں مختلف فضائی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کے تحت سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    یہ 2011 کے بعد پہلی بار ہے کہ پی آئی اے کا تمام آپریشن مکمل طور پر معطل ہوا ہے۔

    2011 میں یہ آپریشن چار دن بند رہنے کے بعد اُس وقت شروع ہوا تھا جب حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے تمام مطالبات مان لیے تھے۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/02/160205_nawaz_pia_stirke_zs



  • ’نواز حکومت کا کیا کریں؟‘

    نواز شریف کی پہلی حکومت خود ان کے اس جملے نے گرائی ’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ اور پھر غلام اسحاق خان کے ساتھ ساتھ انھیں بھی جنرل (ریٹائرڈ) وحید کاکڑ کی ڈکٹیشن لینا پڑی۔

    نواز شریف کی دوسری حکومت چوہدری نثار علی خان اور ان کے بھائی افتخار علی خان کے اس مشورے نے گروائی کہ پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف بنا لیتے ہیں اردو سپیکنگ بندہ ہے، بندہ بن کے رہے گا۔

    اب نواز شریف کے تیسری دور میں کڑا باہمی مقابلہ ہے کہ ’کون پاؤں میں پہلے گولی مارے گا۔‘

    عمران خان کے ناکام دھرنے کے بعد نواز شریف، نثار علی خان، پرویز رشید اور ہم نواؤں کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح حزبِ اختلاف کو اپنے خلاف متحد کر لیا جائے۔ اب اگر پی آئی اے کا دودھ بھی حزبِ اختلاف کی بلی پینے کے بجائے پنجہ مار کے الٹ دے تو نواز شریف کی قسمت۔

    کیا آپ نے مسلم لیگ نواز کے علاوہ کسی اور جماعت کو دیکھا ہے جو برسرِ اقتدار آتے ہی ڈی ریل ہونے کی پرخلوص کوششیں شروع کر دے اور قسمت اسے ہر موڑ پر ہر بار پھسلنے سے بچاتی رہے؟

    مجھے معجزوں پر یقین نہیں مگر نواز شریف تو سامنے کی مثال ہیں۔ وہ اور ان کے نورتن مخالف سمت میں جاتے تیر کو بھی اڑ کے پکڑ کر اپنی جانب موڑنے کے فن میں یدِ طولی رکھتے ہیں۔

    بندہ کیلے کے چھلکے سے پھسلے تو اگلی بار احتیاط سے چلتا ہے مگر شریف حکومت کی نگاہیں ہر بار اسی چھلکے کو بے تابی سے ڈھونڈتی رہتی ہیں۔

    لہذا یہ سوچنا تو ممکن ہی نہیں کہ چلو اگلی بار مطلق العنان بننے کے شوق کو لگام دوں گا، اپنے پانچ پیاروں کے علاوہ کسی چھٹے کے مشورے پر بھی کان دھروں گا، کم نگہی کے باوجود اہم قومی فیصلوں پر وسیع النظری سے قدم جما کر عمل کروں گا، گڈ گورننس کے کلچر کو بلاامتیازِ رشتہ و تعلق و رسوخ و پیسہ پھیلانے کی کوشش کروں گا، جہاں پیار سے کام نکل سکتا ہو وہاں جٹ جپھا نہیں ماروں گا اور جہاں ڈنڈے کی ضرورت ہو وہاں مروت اور دباؤ میں نہیں آؤں گا ِ( مثلاً مولانا عبدالعزیز کیس)۔ نیز مکھی کو ایٹم بم سے مارنے کا نہیں سوچوں گا ( مثلاً ماڈل ٹاؤن لاہور، مثلاً جناح ٹرمینل کراچی تشدد کیس)۔

    آپ تینوں شریفانہ ادوار دیکھ لیں، اگر انداز و سوچ و عمل میں کوئی بنیادی فرق محسوس کریں تو اس فقیر کی بھی فوری تعلیم کیجیے۔

    ایسی حکومت کا کیا علاج جو سادہ اکثریت لے یا دو تہائی مگر اس کا احساسِ عدم تحفظ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔ جس پر عوام نے تین بار اعتماد کیا مگر عوام پر اسے ایک بار بھی اعتماد جیسا اعتماد نہیں ہوا۔

    ایسی حکومت جو ہر بار تعلیم و صحت اور نظامِ انصاف کی اصلاح کے تھینک لیس مگر طویل المیعاد فوائد کو ذہن میں رکھنے کے بجائے شو کیس منصوبوں پر اپنی مغلئی توانائی صرف کر دے اور پھر ان تاج محلاتی منصوبوں کے بوجھ سے اتنی ہانپ جائے کہ صحت، تعلیم و انصاف وہیں انہی حالوں پہ پڑے رہ جائیں اور ترکے میں بس وضاحتیں اور صفائیاں رہ جائیں۔

    ہاں مگر اس المیے کا کیا کریں کہ لیگی صرف مار رہے ہیں باقی تو مارنے کے بعد مردے کے کپڑے بھی اتار لیتے ہیں۔

    کچھ کے بارے میں سنا ہے اور کچھ کو دیکھا بھی ہے۔

    تو کیا فرد کا ہی نفسیاتی علاج ہوتا رہے گا؟ حکومتوں کا کب ہوگا؟

    وسعت اللہ خان

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/02/160205_nawaz_govt_wusat_analysis_rwa



  • But in developing world states should be very careful selling state assets....

    Sure for as long as they remain state assets.regardless of the reason why PIA is being privatized it should have been done a long time ago

    Comparison of metro bus and PIA is not valid as well

    PIA don't provide subsidized mass transit to the masses of people metro buses do. Example given above of London metro should also mention that same country doesn't have any national carrier. British airways is not a public company . Same goes with steel mills.



  • I thnk tranperent privatization of PIA, Railway and PSM will help.... Goverment of Pakistan have other mess to clean up

    why spend time and money on areas in better infrastucter, education and health sector...

    other option is to bring professionals from outside of pakistan to turn around luck.. but may be its too late

    and IMF / World bank not ready to give more "UDHAR" for fun.



  • Pakistan is a developing country with 200B GDP and 200M people. With our precarious law and order situation it's difficult to attract foreign investment. If we privatize state corporations hundreds of thousands will lose jobs. There will be more brain drain. The solution is what Miyan Sahib suggested in opposition, turn around the institutions not sell them out.

    When economy was tanking in 2009 all the business leaders and Republicans suggested one solution for US Auto industry - let them bankrupt. It's not gov't's jobs to interfere in open market. If we can buy cheaper cars from overseas why make them here in US. But President Obama didn't think like a businessman - he took decision like a Politician. He argued if we let auto industry die how many jobs will we leave perhaps in millions. He injected capital, bought majority shares and changed leadership. Within his first term auto industry in Detroit revived. Gradually Gov't pulls itself out.

    Miyan sahib should worry about hundreds of thousands losing job. I was listening to Khawaja Asif other day. He said there won't be any layoffs. At this point we have around 750 employees per plane. After privatization we will buy new planes and bring that 750 number down to 250 per plane. Why can't they do that w/o privatization? If they can borrow money for metro busses and orange lines why can't they to buy more planes? At one end they are killing PIA because Gov't can't subsidize anymore and on the other hand they are standing up new subsidized elephant metro. If Gov't is coming out of this transportation business why is it starting new ventures that will never be profitable? Just because they have the Sharif stamp on them?



  • "When economy was tanking in 2009 all the business leaders and Republicans suggested one solution for US Auto industry"

    GM is wrong example here. GM was profitable or atleast breaking even before the 2009 crisis. PIA on the other hand had been a government owned corporation since it's inception that has been running in grave losses for many years so comparison is baseless. Also had GM continued to be in loss for 15+ years as PIA had been, there is no way that US government would have continued the support. There is a limit to every thing

    "

    Pakistan is a developing country with 200B GDP and 200M people.

    "

    This is precisely why we cannot afford to spoon feed the incompetence of state run institutes

    " With our precarious law and order situation it's difficult to attract foreign investment.

    "

    True to a certain extant but in this case barely applicable. Issue with PIA sale is not security it is the workforce

    "

    If we privatize state corporations hundreds of thousands will lose jobs. There will be more brain drain. The solution is what Miyan Sahib suggested in opposition, turn around the institutions not sell them out.

    "

    We no. Total job loss, if there were to be would not be 100s of thousands only few 10s of thousands.

    No solution what so ever can be implemented , in case of PIA, where there are no massive layoffs. Drain is simply too much. PIA has no money to buy enough jets to reduce 800+/airplane work force (400+ HR assistants!!!!)to manageable level. Even in Government control only way to achieve is to let go large number of employees.

    "He said there won't be any layoffs. At this point we have around 750 employees per plane. After privatization we will buy new planes and bring that 750 number down to 250 per plane.

    "

    That is politician in Khawaja Asif talking. They need to atleast double the airplanes to come even closer to the proposed number. PIA dont have money to do such i dont believe that even after selling 26% they will be able to generate funds to do so.

    MCB and other banks are prominent example of increase productivity after the privatization . So is PTCL. Why were there no strikes. Only 26% of the shares were sold to Eteselat and PTCL is showing growth both in revenue and net profits. PTCL had a lot bigger employee base then PIA at the time of such sale



  • پی آئی اے کے 11 ملازمین برطرف، 165 کو اظہار وجوہ کے نوٹس

    پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان تصفیے کے ایک دن بعد پی آئی اے کے 11 ملازمین کو لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی پر ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔

    پی آئی اے کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی اور وضاحت کی کہ یہ 11 افراد دیہاڑی دار تھے۔

    اس کے علاوہ پی آئی اے نے لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی پر مزید ملازمین کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے ہیں جن کی کُل تعداد اب 165 سے زیادہ ہو چکی ہے۔

    اس سے قبل 8 فروری کو پی آئی اے نے 78 ملازمین کو لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی پر اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے تھے۔

    دوسری جانب پی آئی اے کی احتجاج کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور دوسری دو یونین کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر پی آئی اے کی انتظامیہ کو خط لکھا ہے۔

    اس خط میں استدعا کی گئی ہے کہ چونکہ معاملات وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں وزیراعظم کے نوٹس میں لائے جانے کے منتظر ہیں، اس لیے ملازمین کو جاری کیے جانے والے اظہارِ وجوہ کے نوٹس واپس لے لیے جائیں۔

    اس خط پر کیپٹن سہیل بلوچ چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی، صفدر انجم جنرل سیکریٹری سینیئر سٹاف ایسوسی ایشن، نصراللہ آفریدی کیبن کریو ایسوسی ایشن، ندیم قیصر سینیئر وائس پریزیڈنٹ ایئر لیگ اور عبیداللہ سیکریٹری جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دستخط ہیں۔

    پی آئی اے کی جوائنٹ ایکش کمیٹی نے گذشتہ روز پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف سے لاہور میں ملاقات کی جس میں وزیراعلیٰ نے انھیں اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ وہ اُن کے مطالبات وزیراعظم تک پہنچائیں گے۔

    پی آئی اے کے مختلف ذرائع کے مطابق مزید ملازمین کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کرنے اور مزید ملازمین کو فارغ کیے جانے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔

    پی آئی اے اور ہوابازی ڈویژن کے مختلف سینیئر اہلکاروں سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا مگر انھوں نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/02/160211_pia_sacked_11_tim