نیب ترقیاتی کاموں کی راہ میں رکاوٹ ہے: نواز شریف



  • وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے بہاولپور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے چیئرمین کے نوٹس میں لائیں گے کہ ناجائز مقدمات میں لوگوں کو پکڑنا درست قدم نہیں ہے۔

    وزیر اعظم نواز شریف نے بہاولپور میں اپنے پارٹی کارکنوں سےبات کرتے ہوئے کہا: ’ناجائز کیسز پر لوگوں کی عزتوں کو اچھالنا، اُن کو پکڑنا اور پھر کام نہ کرنے دینا درست نہیں ہے‘۔

    وزیراعظم نواز شریف نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں نیب کو اپنا کام زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کرنا چاہیے۔ ’وہ معصوم لوگوں کے دفتروں اور گھروں میں گھس جاتے ہیں اور وہاں جا کے تنگ کرتے ہیں۔ نہیں دیکھتے کہ یہ کیس صحیح ہے یا نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اُن کی حکومت کے کام کرنے کے راستے میں مختلف رکاوٹیں، پابندیاں اور قوانین ہیں اور اس کے علاوہ ایسے ادارے ہیں جو بیچ میں کھڑے ہوئے ہیں۔

    نیب پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ نیب والےغلط کیسز کی بنا پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔’میں چیئرمین نیب کے نوٹس میں یہ بات پہلے بھی لا چکا ہوں اور آئندہ اور بھی لاؤں گا کہ طریقہ درست نہیں ہے۔‘

    تجزیہ کار اور صحافی عامر متین سے جب پوچھا گیا کہ وزیراعظم کے اس بیان کا مقصد کیا تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’وزیراعظم پری ایمپٹ کر رہے ہیں۔ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ باتیں ہو رہی ہیں کہ اب احتساب کا رُخ پنجاب کی جانب ہو سکتا ہے۔ جسے روکنے کے لیے یہ بیان دیا گیا ہے۔‘

    سینیئر صحافی طلعت حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلم لیگ نواز میں نیب کے حوالے سے طویل عرصے سے غصہ جنم لے رہا تھا۔ پارٹی میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ نیب کے چیئرمین فوج کے ساتھ زیادہ قربت رکھتے ہیں اور فوج کے ساتھ بہت سے معاملات پر بات کرتے ہیں۔‘

    طلعت حسین کے بقول ’جب سپریم کورٹ میں میاں صاحب کے پرانے کیسز کی بات ہوئی تھی تو اس بات کو تقویت ملی کہ کوئی لمبی چوڑی کہانی بنائی جا رہی ہے جس میں بعض وزرا کے ذریعے وزیر اعظم یا اُن کے قریبی لوگوں پر ہاتھ ڈالا جاتا نظر آ رہا تھا۔‘

    یاد رہے کہ 7 جولائی 2015 کو قومی احتساب بیورو نے ملک میں بدعنوانی کے زیر تفتیش 150 مقدمات کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کروائی جس کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سمیت چار سابق وزرائے اعظم کےخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ماضی میں شروع کی جانے والی تفتیش مختلف مراحل میں ہے۔

    طلعت حسین نے مزید کہا کہ ’دھرنے کے بعد کے حالات میں یہ ساری صورتحال دب گئی مگر اب لگتا ہے کہ ملک میں خصوصاً خیبرپختوخوا میں جو کچھ احتساب کمیشن کے حوالے سے ہوا ہے اس سے معاملات بگڑے ہیں اور ڈر یہ ہے کہ کہیں اپوزیشن اس کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف محاذ نہ کھول لے۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/02/160216_nawaz_nab_tim?ocid=socialflow_facebook



  • لگتا ہے دم پر پیر آ گیا ہے



  • اور چوہدری نثارکی گ پ ل آگیا


    ھاھاھا


    یہ عربی ل نہیں ہے ، وہ توعربی ل ہے



  • NAB ney Li Jo Angrai

    Zardari, Sharif Baney Bhai

    ....



  • ترقیاتی کام

    Image and video hosting by TinyPic



  • نیب کا حملہ تو سندھ اور خیبر پختون خواہ کی حکومتوں پر ہوا ہے میاں صاحب کو کیا تکلیف ہے



  • Miyan Sahib said yesterday he has talked to NAB Chairman before. He can get in legal trouble for that. He is not supposed to approach Chairman NAB let alone acknowledging that blunder in press conference.

    At the same time, NAB is just another tool in the hands to military to reign in civilians.



  • وزیراعظم یکدم نیب کے خلاف کیوں ہو گئے؟

    پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکردگی پر کھلے عام تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد حزب اختلاف کے ان رہنماؤں کی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں، جو پہلے ہی نیب کی ’کارروائیوں‘ سے خائف تھے۔

    وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ان تحفظات کا اظہار ایک ایسے موقع پر کیا گیا، جب سندھ اور خیبر پختوانخوا کے بعد نیب کے احتسابی عمل کا رخ پنجاب کی جانب مڑ چکا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف وفاق اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں برسراقتدار جماعت مسلم لیگ ن کے قائد بھی ہیں۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم نے گزشتہ روز جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور میں ایک جلسے کے دوران نیب کو محتاط رہ کرکام کرنے کا انتباہ کیا تھا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے ان کے تحفظات دور نہ کیے تو ان کی حکومت قانون میں ترمیم کے حوالے سے سوچ سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے اس بیان کا ایک پس منظر گزشتہ ہفتے نیب کے چئیرمین قمر الزمان کا پنجاب میں نیب کے ضلعی دفتر کا دورہ بھی ہو سکتا ہے، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر نیب کے افسران کو صوبے میں بلاتفریق احتساب کرنے کا کہا تھا۔

    نیب کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیب سرکاری افسران کو حراساں کررہی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے امور کی انجام دہی میں خوف محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں یہ معاملہ کئی بار نیب چیئرمین کے نوٹس میں لایا ہوں، انہیں ہر صورت نوٹس لینا چاہیے، بصورت دیگر حکومت اس حوالے سے قانونی اقدامات کرسکتی ہے۔‘‘

    نیب ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے مختلف منصوبوں، ایل این جی کی درآمد، میٹرو بس، اورنج ٹرین اور ایل ڈی اے سٹی کی تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں۔

    اس کے علاوہ نیب نے رائیونڈ روڈ کی تعمیر اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں غیر قانونی بھرتیوں کے حوالے سے بھی شریف برادران کے خلاف زیر التوا مقدمات کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

    تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے کھلے عام نیب پر تنقید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیب کے پیچھے اس وقت کوئی ایسا ’طاقتور ادارہ‘ موجود ہے، جس کے سامنے وزیراعظم بھی بے بس ہیں۔ پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل وقت نیوز سے وابستہ اینکر پرسن اور سینئر صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ عام تاثر یہی ہے کہ اس احتساب کی مہم کے پیچھے فوج ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جب ملک کا وزیر اعظم کسی ادارے کی کارکردگی پر کھلے عام تحفظات اور اپنے غصے کا اظہار کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ادارہ اس سے بھی کسی طاقتور ادارے کی ایماء پر کام کر رہا ہے ورنہ وزیر اعظم خاموشی کے ساتھ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی بھی ادارے کو اپنی مرضی کے تابع لا سکتا ہے۔‘‘

    انہوں نے کہا کہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر نو ماہ بعد ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ لگتا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے ایک طرح سے اپنی ریٹائرمنٹ کی تاریخ کو بدعنوان عناصر کے احتساب کی ڈیڈ لائن کے طور پر مقرر کر رکھا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاستدان اپنا احتساب خود نہیں کر سکتے اس لئے یہ کام بھی فوج کو اپنے کندھے پر لینا پڑ رہا ہے۔ مطیع اللہ جان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ آئینی اور قانونی طور پر درست نہیں کہ فوج احتساب کرے لیکن لوگوں کو اس کی پرواہ نہیں اور وہ احتساب چاہتے ہیں اور تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ یہ کام بھی صرف فوج کر سکتی ہے۔‘‘

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک نئی طرح کی جمہوریت پرورش پارہی ہے، جہاں ماضی کے برعکس اب فوجی سربراہ سیاسی حکومت کے خلاف بغاوت کے بجائے اپنے اختیارات کا استعمال کرے گا۔

    دوسری جانب موجودہ صورتحال میں حزب اختلاف کی جماعتیں بظاہر وزیر اعظم کے نیب سے متعلق بیان پر تنقید کر رہی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نیب کے اختیارات میں کمی کے لئے آئینی ترامیم لاتی ہے تو یہ جماعتیں اس کا ساتھ دیں گی۔

    http://www.dw.com/ur/وزیراعظم-یکدم-نیب-کے-خلاف-کیوں-ہو-گئے/a-19053838