دودھ کی بوتل



  • This originally appeared on www.nokejoke.com

    ماشاءاللہ سے منا بڑا ہو رہا تھا۔ اب دودھ کی چھوٹی بوتل اس کا پیٹ نہ بھرتی۔ غٹاغٹ پی جاتا اور مزید کے لیے غل مچاتا۔ ابا اماں کی نیند خراب ہوتی سو ہوتی، منا بھی بے آرام ہوتا۔ تس پر منے کے ابا نے سوچا دودھ کی بڑی بوتل لانا چاہیے، جو ایک ہی بار سیر کر دے۔

    تو جناب نئی بوتل آ گئی۔ قد کاٹھ میں بڑی، پہلے سے موجود بوتلیں ٹھنگنی لگنے لگیں۔ رنگ بھی ایسا دل پذیر گویا گلاب کی پنکھڑی ہو۔ بڑے چاؤ سے اس میں دودھ ڈالا گیا اور بوتل منے کے حوالے کی گئی۔ لیکن اس بے چارے کو نئی مشکل آن پڑی۔ چھوٹی بوتل تو وہ آرام سے پکڑ لیتا تھا، یہ قابو میں ہی نہ آوے۔ ہاتھ اوپر رکھے تو پیندا جھک جاوے، پیندے سے پکڑے تو ہاتھ نہ جمے۔ دودھ پینے میں دقت ہوئی تو منا کسمسانے لگا۔ ابے نے سوچا، لے بھئی منے تو بھی کیایاد کرے گا، بوتل پکڑ لی تاکہ منا آسانی سے پیوے۔

    منے کو تھوڑا آرام تو ملا، لیکن کچھ ہی دیر میں دوبارہ ٹھنکنے لگا۔ پریشانی ہوئی کہ ماجرا کیا ہے۔ ٹھنکنا باقاعدہ رونے میں تبدیل ہوا تو ابا اور اماں دونوں کے ہاتھ پیر پھولے۔ یقیناً اس کے پیٹ میں درد ہو گا۔ فٹ سے گرائپ واٹر چمچی میں ڈالا اور منا غٹ سے چٹ کر گیا۔ ذرا دیر کو سکون ہوا، لیکن پھر وہی رونا دھونا۔ شاید پہلے مقدار درست نہ دی تھی، گرائپ واٹر کی ایک اور چمچی انڈیل دی۔ تھوڑے لمحوں کا سکون اور پھر ریں ریں۔ ارے کہیں بخار نہ ہو؟ جھٹ سے پیناڈول کے قطرے بھی ٹپکا دیے۔ منے کا رونا پھر بھی بند نہ ہوا۔ کہیں کان میں درد نہ ہو؟ مالش کی گئی لیکن نالش ختم نہ ہوئی۔ پریشانی سوا ہوئی تو اسپتال جانے کا قصد ہونے لگا۔ منا لیٹتا تھا، دودھ کی بوتل پکڑتا تھا اور پھر بے چین ہو کر رونے لگتا تھا۔

    اچانک ابے کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا۔ اس نے بوتل لے کر الٹائی۔ دودھ کا قطرہ بھی باہر نہ نکلا۔ غور سے دیکھا تو معلوم ہوا، نئی بوتل کی نپل میں سوراخ ہی نہیں۔

    اے لو! اتنی سی بات تھی۔ دودھ تو منے کے منہ میں جا ہی نہ رہا تھا۔ فوراً نپل بدل کر بوتل منے کو دی تو وہ آرام سے پینے لگا۔ سارا رونا دھونا موقوف ہوا۔ کچھ ہی دیر میں آرام سے سو بھی گیا۔

    منے کے ابا کو عقل آئی۔ کئی بار مسئلہ بالکل معمولی سا ہوتا ہے۔ اور اس کا حل بھی سامنے ہی موجود ہوتا ہے، لیکن ہم بوتل کی نپل پرکھنے کے بجائے اسپتال کی طرف بھاگ پڑتے ہیں۔