مئیر لندن، کراچی، اوبامہ - تہذیبوں کا ٹکرائو



  • مسلمان بن گیا مئِیر ، مسلمان بن گیا لندن کا مئیر

    پاکستانی بن گیا ، پاکستانی بن گیا لندن کا مئیر

    خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں سارے بدبو دار -- جب اوبامہ جیتا تھا تو بھی یہ بدبو دار خوشی سے یونہی بغلیں بجا رہے تھے--بھاڑ میں جائے لندن کا مئیر ، چولہے میں جائے لندن کا مئیر-

    لیکن خود میرے شہر کراچی میں ۱۴۰ سیٹیں جیت کر بھی کراچی والا کراچی کا مئیر نہیں بن سکتا -تمام سیاسی جماعتیں اور بندوقچی ہر طرح کی رکاوٹیں ڈال رہے ہیں -- انہیں پتہ ہے کہ کچھہ نہ ہوتے ہوئے بھی کراچی کا مئیر شہر کی وہ ترقی کریگا کہ انکا باپ بھی کسی شہر کی نہیں کرسکتا -- بس یہی تو خطرہ ہے انکے سسٹم کو

    سنہ بانوے سے ان بندوقچیوں نے کراچی کے نہتے نوجوانوں کو مار مار کر ادھہ موا کیا ہوا ہے ، چمڑیاں ادھیڑ ادھیڑ کر تشدد زدہ لاشیں سڑکوں پر پھینک دیں لیکن کیا مجال ہے کہ لوگوں کے پایہء استقلال میں لرزش آئی ہو - آفتاب شہید کے بدن میں جسطرح کیلیں ٹھونک کر جسطرح اسے مارا یہ کوئی پہلا نہیں ہے پچھلے چند سالوں سے یہ کررہے ہیں ، پہلے طالبان کی صورت میں ، پھر گینگ وار میں اوراب سرکاری عقوبت خانوں میں ---یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں --وحشی ، درندے ، بھیڑیے اوربھڑوے

    -اوپر سے لال بجھکڑ زید حامد جیسا بھڑوہ اور کنجر کہتا ہے کہ رینجرز نے افتاب شہید کو ٹھیک مارا، --- ابے تخم خنزیر روز محشر امام حسین کا ہاتھہ آفتاب جیسے ہزاروں شہیدوں کے ہاتھہ میں ہوگا اورحضور کا دست شفقت انکے سروں پرہوگا توبھی تیرے جیسے بھڑوے یہی کہینگے کہ یہ دہشتگرد ہیں اور جہنم رسید ہوجائینگے-

    اس ملک کا وزیر داخلہ بے غیرت اور بے شرم جسکے ماتحت سیکورٹی کے سارے ادارے ہیں وہ تو ہے شاہ دولہ کا چوہا جسکی کھوپڑی میں کسی چوہے کا دماغ لگا ہوا ہے اور وہ حرام مغز سے سوچتا ہے اور صرف وہ کہتا اورکرتا ہے جو اسے ایجنسیاں کہتی ہیں ، اسکی زندگی کا محور یہ ہے کہ کسی طرح الطاف حسین کو عمران فاروق شہید کیس میں لٹکوداے

    کراچی کے وہ اہل دانش جو پہلے سیاست سے دوررہتے تھے وہ بھی اب تومجبور ہوگئے ہیں کہ میدان عمل میں آئین کہ اب پانی سر سے اوپر آگیا ہے - متحدہ آج جتنی مضبوط ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی لیکن ٹی وی دانشور یہ راگ الاپتے ہی رہینگے کہ اسپر برا وقت ہے - یا وہ ٹوٹ گئی ہے - انہیں تو برے وقت کی تعریف ہی نہیں پتہ - - متحدہ نہیں ٹوٹنی چاہے الطاف حسین ہو یا نہ ہو -- مرا ہوا الطاف تو انتہائی زیادہ خطرناک ہوگا جسکا ان بھڑوں کو اندازہ ہی نہیں

    دہشتگردوں اوربھتہ خوروں کا اہل کراچی کی معاشرت سے بڑا فرق ہے ، یہ تہذیبوں کا ٹکرائو ہے -- آنکھہ کان کاٹنا جنکا کلچرہے وہی یہ کرتے ہیں ، انہی کا کلچر ہے مخالفین کے گائوں اور فیکڑیوں کو آگ لگانا -یہ تو اہل کراچی کے تصور سے بھی باہر ہے - نہ یہاں عورتوں کو مارکر انکی لاشوں میں آگ لگائی جاتی ہے ، نہ انپر کتے چھوڑے جاتے ہیں اورفخریہ ایوانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ یہ توہمارا کلچر ہے - یہ توننگی عورتوں کے جلوس نکالتے ہیں اور نہ مجبوروں اور مزدوروں کو پابند سلاسل

    کرتے ہیں اورنہ ہی کسی کے سر سے فٹبال کھیلتے ہیں اورنہ ہی یہاں کوئی بے غیرت بھائی اپنی بہن کو چاقو سے مار کر اسکی لاش گھسٹتا ہوا سڑک پر کھیچ کر الااعلان پھینکتا ہے - نہ یہاں بے غیرتی کا کلہاڑی کلچر ہے - جو وہاں سے بھاگتا ہے سیدھا کراچی آکر ہی دم لیتا ہے کہ راستے ہر جگہ انکے لئِے موت ہی موت ہوتی ہے - جسطرح پورا ملک نو گو ایریا میں تقسیم ہے ایک وڈیرہ کے علاقے سے دوسرا وڈیرہ الیکشن نہیں لڑسکتا ہر ایک کا علاقہ مخصوص ہے اسی طرح یہ چاہتے ہیں کہ ہر تین میل بعد کراچی بھی تقسیم ہوجائے - لیکن اہلیان کراچی لیاری کے بھگوڑے نبیل گبول کو زبان اور نسل کی پرواہ کئیے بغیر اسے جتائیں تو پھر بھی یہ کہتا ہے ووٹ ڈالنے والے تو تھے نہیں پتہ نہیں مجھے اتنے ووت کیسے پڑ گئے -- بھڑوہ تو بھڑوہ ہی ہوتا ہے اسے انسان بنانے کی کوشش کرو وہ رہتا تو کنجر ہی ہے



  • Article by cricketer RASHID LATIF

    ویسے
    تو آفتاب روز نکلتا ہے اور روز ہی ڈوبتا ہے لیکن دو مئی کو جس آفتاب کو
    ڈبویا گیا وہ شاید دوبارہ نہیں نکلے گا لیکن کراچی سے آزاد کشمیر تک سب کو
    پاؤں سے سر تک ہلا کر چلا گیا اور یہ پہلا واقعہ نہیں اس طرح کے ان گنت
    ماورائے عدالت قتل ہوتے رہے ہیں کیونکہ انا پسند لوگوں کو ” نہ ” پسند نہیں
    ہوتیں چاہے وہ ” نہ ” بلوچستان میں ہو یا “مقبوضہ کراچی” میں۔

    اس
    طرح کہ تحقیقات تو وقاص شاہ کے قتل کی بھی ہونی چاہئے۔ ۱۱ مارچ ۲۰۱۵ سے آج
    سال ہو گیا لیکن اس کے دن دہاڑے قتل کا کوئ ذکر ہی نہیں۔ ٹی وی چینلز کا بس
    نہیں چل رہا تھا کے وہ کسی طرح ثابت کر دیں کہ اس کا قتل محافظوں نے نہیں
    کیا ہے بلکہ الطافیوں نے کیا ہے ، چلیں مان بھی لیں کے اس کا قتل الطافیوں
    نے کیا تھا تو محافظوں نے وہاں سے دوڑ کیوں لگا دی قاتلوں کو وہیں گرفتار
    کیوں نہیں کیا ؟ وقاص کے جو نام نہاد قاتل پکڑے تھے وہ کہاں ہیں اور اگر وہ
    قاتل نہیں ہیں تو وہ الٹے ہاتھ سے پستول اور سیدھے ہاتھ سے ڈنڈا چلانے
    والا نقاب پوش فرشتہ کہاں ہے؟

    ماورائے عدالت قتل کی ایک اور بھیانک
    مثال طارق محبوب صاحب کی ہے جنکے آخری الفاظ کورٹ میں یہ تھے ” یا اللہ یا
    رسول طارق محبوب بے قصور ” اور اسکے بعد ۹۰ دنوں کے ریمانڈ پر چلے گئے اور
    تھوڑے ہی دنوں میں دل کا دورہ پڑا اور خون سے لت پت لاش گھر روانہ کر دی
    گئی کیا اسکی بھی انکوائری ہوگی؟

    میڈیا کے توسط سے لوگوں کا کہنا یہ
    ہے کے یہ لوگ مظلومیت کا رونا کیوں روتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں
    نے کسی وجہ سے ہتھیار اُٹھایا تھا وہ بھی غلط تھا لیکن محافظ تو اوتھ لیتا
    ہے پاکستان کے لیئے اور ایمانداری سے کام کرنے کی قسمیں کھاتا ہے کیا وہ
    ساری قسمیں جھوٹی تھیں ؟ کیا قومیت کی بُنیاد پر لوگوں کو مارنے کی قسمیں
    کھائیں تھیں ؟ اب لواحقین تو بولنے پر مجبور ہیں کہ ہمارے محافظ کو اس مُلک
    کے محافظوں نے مار ڈالا ، کیا لواحقین اس پاک سر زمین سے محبت کریں گے؟
    محافظوں کا کام پاک سر زمین پارٹی بنانے کا ؟

    ایسا تو مقبوضہ کشمیر
    میں نظر نہیں آیا جو کراچی اور بلوچستان میں پچھلے تیس سالوں میں ماورائے
    عدالت قتل کی داستانیں ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جو لوگ بھتہ لیتے ہیں ،
    کھالیں چھینتے ہیں اور ” را ” سے پیسے لیتے ہیں اُنکے نام پانامہ پیپرز میں
    نہیں آ رہے ویسے انکے پاس تو سب سے زیادہ پیسہ ہونا چاہیے تھا ۔

    پاکستان
    میڈیا ہاوسز نے پچھلے تین سالوں سے ٹھیکہ اُٹھا رکھا ہے لیکن نہ بھتے والے
    پراپرٹی خرید رہے ہیں نہ کھالیں چھیننے والے کراچی میں اپنا مکان بنا پا
    رہے ہیں اور نہ ہی را” سے پیسے لیکر آف شور کمپنی” بنا پا رہے ہیں انکا
    پیسہ کیسا پیسہ ہے جس سے کچھ خرید نہیں سکتے ؟ ہاں وہ لوگ سب ننگے ضرور ہو
    رہے ہیں جو ان را کے ایجینٹوں کا پروپیگنڈہ مخصوص میڈیا ہاوسز کے توسط سے
    کیے جا رہے ہیں۔

    یکم مئی ۱۹۹۳ عظیم احمد طارق ، ڈاکٹر عمران فاروق ،
    ولی بابر ، ۱۲ مئی ، منی لانڈرنگ ، بلدیہ ٹاون فیکٹری ، حقیقی ، صولت مرزا،
    حکیم سعید ، جناح پور ، پاک سر زمین سب خیابان ( محافظ ) سے شروع ہو کر
    خیابان سحر میں آ کر دفن ہو رہے ہیں ۔۔

    ایک واقعہ بیان کرتا چلوں ایک
    کھلاڑی کے والد صاحب کو سادہ سے لوگ ڈبل کیبن میں بڑے پیار سے بٹھا کر لے
    گئے تھے ان لوگوں نے بہت ڈھونڈا لیکن ان کے والد صاحب کا کچھ پتا نہ چلا
    اور ۱۵ دنوں کے بعد انکی لاش ایدھی ٹرسٹ میں آئ اور انکو امانتاً دفنا دیا
    گیا لیکن ایک دو دنوں کے بعد انکی قبر کھود کر پہچانا جاتا ہے تو وہ بھی
    ایک مظلوم آفتاب کی مانند تھا جس کی لاش چیخ چیخ کر پُکار رہی تھی-

    ” وہ مجرم شاہی غنڈے تھے

    یہ کس کا لہو ہے کون مرا

    آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا

    کچھ ہم بھی سنیں، ہم کو بھی بتا

    یہ کس کا لہو ہے کون مرا”۔

    جی
    یہ اس کھلاڑی کے والد کی لاش تھی جسکو ابھی بھی نہیں پتہ کہ اسکے والد کو
    کیوں مارا گیا اور اسکے بعد اس کھلاڑی نے دوبارہ میدان میں قدم نہیں رکھا۔

    سلسلہ
    یہاں بند نہیں ہوتا، اور کافی لڑکوں کو ان کے دفتروں سے اُٹھا لیا جاتا ہے
    اگر آسامی تگڑی ہوتی ہے تو ایک رات کا کرایہ تین لاکھ دو راتوں کا کرایہ
    چھ لاکھ اور اسکے بعد رہائی ہو جاتی ہے ورنہ کوئی نا کوئی کیس ٹھوک دیا
    جاتا ہے ورنہ اسکو ہی ٹھوک دیتے ہیں ۔

    اب وقت آگیا ہے کہ حکومت وقت کو سوچنا ہو گا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے قتل سے آج تک کراچی اینٹی اسٹیبلیشمینٹ کیوں رہا ہے ؟

    اب
    اسکا حل کراچی آپریشن نہیں ہے کیونکہ یہ عارضی سکون ہے اسکے مُستقل حل
    کیلئے برابری کے حقوق دئیے جائیں کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے ، فوج میں نوکریاں
    دی جائیں ویسے بھی بھارت سے تربیت حاصل کی ہوئی ہے ، سرکاری نوکریاں
    برابری کی بُنیاد پر دیں جائیں ، شہری حکومتوں کو بحال کیا جائے کراچی ،
    حیدر آباد اور سندھ میں مردم شُماری کروائی جائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی
    ہو جائیگا کس بات کا خوف ہے سب کو ؟

    ان کو سوچنا ہو گا کراچی الگ
    کیوں سوچتا ہے ؟ وہ اس لیئے کہ کراچی کا شہری باشعور ہے سیاسی شعور رکھتا
    ہے اس ہی لیئے ہر پروپیگنڈے کو منہ کی کھانا پڑتی ہے اور ووٹ انکا ہی ہوتا
    ہے چاہے این اے دو چھیالیس ہو چاہے پینتالیس ہو چاہے بلدیاتی انتخابات ہوں ۔

    جتنی محنت ایک پارٹی کو ختم کرنے میں لگا دی اس سے آدھی محنت کشمیر میں کر لیتے تو شاید کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا ۔

    جاتے
    جاتے ایک سوال آپ کے سامنے رکھ کر جا رہا ہوں اسکا فیصلہ آپ لوگ کرینگے۔
    جو سلوک آفتاب احمد کے ساتھ ہوا، کیا صولت مرزا کے ساتھ بھی وہی سلوک نہیں
    ہوا ہوگا؟ کیا صولت کے ساتھ تشدد نہیں کیا گیا ہو گا؟ کیا اس طرح کرنٹ نہیں
    لگایا گیا ہو گا ؟اگر اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا ہو تو اُسکی پھانسی
    جائز تھی ؟ اور شاہد حامد کی اہلیہ نے پھانسی والے دن کاشف عباسی کے
    پروگرام میں کہہ ہی دیا کہ میں نے صولت کو مارتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اور
    ان کہ اہلیہ ہی پہلی اور آخری چشم دید گواہ تھیں جن کی گواہی پر پھانسی کا
    تختہ تیار کیا گیا تھا اور اس پروگرام کے بعد آج تک صولت کا ذکر دوبارہ کسی
    پروگرام میں نہیں کیا گیا ۔

    جنرل راحیل شریف صاحب ہمیں بھی شُکریہ
    کا موقع دیں اور صرف آفتاب کی نہیں بلکہ تمام ماورائے عدالت مارے جانے والے
    لوگوں کی انکوائری کروائیں ورنہ باشعور لوگ آپکو بھی شیر ایشیا ایوب خان ،
    مرد مومن ضیا الحق ، آصف نواز ، پرویز مُشرف اور کیانی کی صف والا ہی
    سمجھیں گے ۔

    اس شعر کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں

    کئی گھروں کو نگلنے کے بعد آتی ہے

    مدد بھی شہر کے جلنے کے بعد آتی ہے<



  • A Denial by Rashid Latif

    Rashid Latif has issued a denial that he ever wrote such an article. His good name is being abused by MQM



  • انجاں بھائی جان اداب بجا کے لاتا ہوں
    فورا٘ آگئے غلطیاں پکڑنے - راشد لطیف سے کسی نے پوچھا تھا کہ پسندیدہ سیاستدان کونسا ہے تو جواب کچھہ یوں تھا کہ اگر بتا دیا تو خارش زدہ باولے کتے کی طرح بھونکنے لگے گے
    اوروہ جو تمہارے بندوقچی روز ایک نئی اور جھوٹی جے آئی ٹی لیک کرتے ہیں اسپر کچھہ کہتے لیک ہوجاتی ہے جسپر گریڈ پچاس کے پچاس پچاس افسر دستکط کرتے ہیں --- کسی کی ہمت ہے جو اسمبلی میں بھی خالد شمیم کی ویدیو پر اف بھی کرے پھر کہتے ہیں کہ جمہوریت ہے اسکے برعکس اہلیان شہری سندہ کہتے ہیں کہ ابے یہ تو جھوٹے مکار ہیں ، پھاڑ کے پھینک دو جھوٹ اور نفرت کے ان صحیفوں کو اسکے جواب میں متحدہ ایک لائن کی جو پریس ریلیز جاری کرتی ہے اسے لوگ کہتے ہیں یہی ٹھیک ہے - آپ سے سنجید گی بیکار ہے اورسنائیں لوٹا جی آجکل کہاں ہیں بہت دن ان کی پرمغز تحریر نظرسے نہیں گذری



  • Wa-Alaikum Adaab Gulraiz

    I wish you would realise that although at times you have a very valid point to make but you do not get or even deserve the attention because of the language you use. Use civil language and try to persuade people with logic and rationale and not abusive language.



  • https://www.youtube.com/watch?v=p9LjyocQajc

    تہذیبوں کا ٹکرائو

    محمود غزنوی نے پرخچے اڑا دئیے سومناتھہ کے

    اور صادق خان پہنچ گئے آشیر باد لینے



  • Mahmood Ghaznavi was at war....Sadiq Khan was neither nor is at war!!! Only a peaceful person will understand the difference!



  • jan bhai jan

    yun na bun anjan

    who was at war with him

    did any power attack his soil



  • Mein hoon Anjaan aur who naddan
    Ya ilaahi ye majra kiya hai????



  • ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لو

    اسی کا نام سیاست ہے



  • @sulaiman-dar

    Absolute right you are. Should we then care about politicians? Are we not better off with dictators?



  • @anjaan

    Dictators aren't angel either.



  • ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لو

    @sulaiman-dar

    واہ سلو جی کیا اینڑی ماری ہے کہ دل چاہ رہا ہے کہ آپ کو باپ بنا لوں ---- ھاھا ھھھھا



  • Dictators aren't angel either

    True but they are lesser evil compared with politicians!.



  • ہاکہ ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد جماعت ہے جو 98 فیصد غریب ومتوسط طبقہ کی نمائندگی کرتی ہے اور ان کے جائز حقوق کیلئے عملی جدوجہد کررہی ہے ۔ملک وقوم پرمسلط فرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ ، سردارانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمہ اور غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کیلئے جدوجہدایم کیوایم کے منشور کاحصہ ہے لہٰذا ایم کیوایم نے جاگیرداروں اوروڈیروں کے ظلم وبربریت کے خلاف ہمیشہ ہر فورم پرآوازاحتجاج بلند کی ہے ۔ انہوں نے سندھ کے شہر نوشہروفیروز میں پیش آنے والے انسانیت سوز اور انتہائی لرزہ خیز واقعہ کی تفصیل بیان کراتے ہوئے کہاکہ مقامی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق نوشہروفیروز میں غلطی سے ایک وڈیرے محمد بخش مغیجوکی پجیروسے ایک گدھا گاڑی ٹکراگئی جس پر اس وڈیرے اور اس کے غنڈوں نے گدھاگاڑی چلانے والے دو مزدور بھائیوں ایازمیمن اور سہیل میمن کو وحشیانہ تشددکا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ یہ دونوں غریب مزدور بھائی ہاتھ جوڑ کر اس غلطی کی معافیاں مانگتے رہے لیکن سفاک وڈیرے کو ان پر زرہ برابر بھی رحم نہ آیا اور انہیں تشددکا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیاجہاں ان پرمزیدتشددکیاگیا ۔ غریب مزدوروں پر ظلم وتشدد کے باوجود وڈیرے محمد بخش مغیجو کی چنگیزیت کو قرارنہ آیا اور وہ غریب مزدوروں کو تھانے سے اپنی اوطاق میں لے آیا جہاں غیرقانونی جرگہ طلب کرکے جرگے میں موجودپچاس سے زائد افراد کے سامنے ان غریب مزدوروں کو انتہائی ذلت آمیز سزا سنائی گئی۔ ظالم وسفاک وڈیرے نے غیرقانونی وغیرآئینی جرگے کے ذریعہ یہ انسانیت سوز فیصلہ کرایا کہ وڈیرے کی گاڑی سے گدھاگاڑی ٹکرانے کی سزا کے طور پر دونوں غریب مزدور بھائیوں ایاز میمن اور سہیل میمن پورے جرگے کے سامنے وڈیرے محمد بخش مغیجو کے جوتے منہ میں اٹھاکر وڈیرے کے پاس جائیں اور اس کے قدموں پر گر کراوراس کے پیروں پرسررکھ کراس سے معافی مانگیں ۔ جرگے کے سفاکانہ اور ظالمانہ فیصلے کے سامنے غریب مزدورقطعی بے بس تھے اور انہیں اپنی جاں بخشی کیلئے اس ذلت آمیز سزا کوقبول کرتے ہوئے اس سفاک وڈیرے محمد بخش مغیجو کے جوتے منہ میں دباکر اس کے پیروں پر گر کر معافی مانگنی پڑی ۔ ڈاکٹرعبدالقادرخانزادہ نے اس واقعہ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہیہ واقعہ صرف دوغریب گدھاگاڑی چلانے والے نوجوانوں پر ظالم وڈیرے کے بہیمانہ تشددکاواقعہ نہیں ہے بلکہ جس طرح دونوں غریب بھائیوں کو جرگے کے ظالمانہ فیصلے کے تحت وڈیرے کے جوتے کومنہ میں لیکروڈیرے کے پاؤں پکڑنے اوراس کے پیروں پرسررکھوایاگیاہے اس سے نہ صرف انسانیت کی تذلیل ہوئی ہے بلکہ اس منظر کودیکھ کر زمین وآسمان لرزاٹھے ہیں۔ انسانیت کی تذلیل کے اس المناک واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ جیسے ہی یہ انسانیت سوز واقعہ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے علم میں آیااورہم نے انسانیت کی تذلیل کے ان افسوسناکمناظرکودیکھاتورابطہ کمیٹی نے فوراً اجلاس طلب کرکے اس واقعہ پرآوازاحتجاج بلندکرنے کا فیصلہ کیا۔رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق وڈیرے کی جانب سے غریب مزدوروں پرکئے جانے والے اس ظلم وتشدداورغیرانسانی سلوک کے خلاف کل بروز جمعہ شام 4بجے کراچی پریس کلب پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیاجائے گااوراس انسانیت سوزواقعہ پر بھرپوراحتجاج کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ظالمانہ واقعہ کے خلاف سندھ اسمبلی، قومی اسمبلی اورسینیٹ میں بھی آوازاٹھائی جائے گی۔ ڈاکٹرعبدالقادرخانزادہ نے حکومت سندھ سے پرزورمطالبہ کیا کہ غریب گدھاگاڑی والوں کے ساتھ انسانیت سوزسلوک کرنے والے ظالم وڈیرے محمدبخش مغیجوکو نہ صرف فی الفور گرفتارکیاجائے بلکہ غریب نوجوانوں پر وحشیانہ تشددکرنے پر ظالم وڈیرے کے خلاف تشدداور اقدام قتل کے مقدمات قائم کئے جائیں اوراسے جیل میں اے کلاس یابی کلاس دینے کے بجائے عام قیدیوں کے ساتھ رکھاجائے اورسخت سے سخت سزادی جائے۔ حکومت اورعدلیہ کے سامنے یہ مقدمہ بغیرکسی کانٹ چھانٹ کے حقائق کی روشنی میں پیش کیاجائے اورگواہ کے طورپراے آروائی نوشہروفیروز کے نمائندے کوبھی طلب کیاجائے جس نے اس سارے ظلم کی داستان میڈیاپر بیان کی ہے ۔ ڈاکٹرعبدالقادرخانزادہ نے کہاکہ جب ملک عدلیہ موجود ہے ، سپریم کورٹ ، ہائیکورٹس اورسیشن کورٹس موجود ہیں توپھرجرگہ کے نام پر قائم کی جانے والی اس قسم کی عدالتیں سراسرغیرقانونی ہیں لہٰذا ایم کیوایم سپریم کورٹ اورسندھ ہائیکورٹ سے بھی اپیل کرتی ہے کہ نوشہروفیروزمیں پیش آنے والے انسانیت کی تذلیل کے اس واقعہ کاازخودنوٹس لیا جائے، ظالم وڈیرے اوراس کے جرگہ میں شریک تمام افراد کوگرفتارکیاجائے ۔اس ظلم میں وڈیرے کاساتھ دینے والے مقامی پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اور سندھ سمیت پورے ملک میں اس قسم کے جرگوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے اوران غیرقانونی جرگوں کے نام پر وڈیروں اور جاگیرداروں کی جانب سے غریب ہاریوں، کسانوں اور مزدوروں پرڈھائے جانے والے مظالم کاسلسلہ بندکیاجائے ۔ قانون اورآئین کے تحت اس ظالم وڈیرے کوسخت سے سخت سزادی جائے اورکراچی شہرمیں اسکے داخلے پر پابندی لگائی جائے ۔اوراگراس سفاک اورظالم وڈیرے نے ضداورہٹ دھرمی کامظاہرہ کرتے ہوئے کراچی کارخ کیاتوردعمل کی ذمہ داری حکومت سندھ اور پولیس پر عائدہوگی۔ کراچی کے نوجوان، مائیں، بہنیں اوربزرگ غریبوں کے ساتھ اس ظالمانہ سلوک کوکسی بھی قیمت پربرداشت نہیں کریں گے اورشہرمیں ایسے ظالم وڈیروں کو داخل نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کارکنان و عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ظالمانہ واقعہ کے خلاف کل بروزجمعہشام چاربجے کراچی پریس کلب پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں بھرپورتعدادمیں شرکت کریں۔انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کہ وہ بھی ایم کیوایم کے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کریں اور اس ظالمانہ واقعہ کے خلاف آوازاحتجاج بلند کریں اور بیانات، مظاہروں اورسیمینارزکے ذریعے لوگوں کواس ظلم وبربریت سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نوشہروفیروزمیں ظالم وڈیرے کے انسانیت سوزسلوک کانشانہ بننے والے بھائیوں ایازمیمن اورسہیل میمن سے دلی ہمدردی کااظہارکرتے ہیں اورانہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس ظلم پر ہرسطح پر آوازاحتجاج بلندکریں گے۔