حکومت ہی عقل کو ہاتھ مارے



  • کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں ، دیکھنا انہیں غور سے
    جنھیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے ( سلیم کوثر )
    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے پاناما پیپرز کی چھان بین کے لیے حکومت کے تھمائے ہوئے ’لامحدود ضابطہ کار‘ کی روشنی میں 1956 کے پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت پاناما ایک بے جان پوپلے کمیشن کی تشکیل سے معذوری کے باوجود ابھی دیر نہیں ہوئی۔
    سپریم کورٹ کے رجسٹرار ارباب محمد عارف کی طرف سے وفاقی سیکرٹری قانون کے خط میں حکومت کے لیے ’لائف لائن‘ موجود ہے اگر اس کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
    اول یہ کہ ضابطہِ کار کا دائرہ لامحدود سے گھٹا کر محدود کیا جائے۔ ایسا اپوزیشن کے ساتھ بیٹھے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔
    اس کے لیے ضروری ہے کہ فریقین چوک میں کھڑے ہو کر سانڈے کا تیل بیچنے کے انداز میں اپنی اپنی تجاویز ایک دوسرے کے منہ پر مارنے، الٹی میٹم و دھمکیاں دینے اور فارمولوں کے نام پر ایک دوسرے کو خاک چٹوانے کی نیت پر توانائی صرف کرنے کے بجائے کسی ٹھنڈے کمرے میں آمنے سامنے بیٹھ کر بالکل اسی طرح ایک دوسرے کو تحمل سے سنیں جیسا تحمل 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی چھان بین کے لیے ایک عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے دکھایا گیا تھا۔
    دوم یہ کہ حکومت 1956 کے ایکٹ کے تحت ایک بے جان کمیشن کی تشکیل کے بجائے سپریم کورٹ کی اس تجویز پر دھیان دے کہ پارلیمنٹ بدلے ہوئے حالات کی روشنی میں ایک موثر قانون بنانے کی کوشش کرے، جس کے تحت قائم ہونے والا کمیشن بار آور و نتیجہ خیز ثابت ہو سکے۔ یہ کام بھی اپوزیشن کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

    اس بابت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی ظفر کی یہ تجویز معقول نظر آتی ہے کہ بار متفقہ تحقیقاتی دائرہ کار کی تشکیل اور ضروری قانون سازی کے لیے اپنی قانونی و تکنیکی مہارت و مشاورت پیش کرنے اور اپوزیشن اور حکومت کے درمیان پل بننے کو تیار ہے۔
    سپریم کورٹ کے خط میں کیے گئے اس مطالبے پر بھی حکومتی ٹویٹر بازوں اور کورس کے انداز میں پریس کانفرنسوں کے شوقینوں کو اپنا قیمتی وقت لگانے کی ضرورت ہے کہ جن افراد، کمپنیوں، گروہوں اور خاندانوں کی چھان بین مقصود ہے ان کے ضروری کوائف عدالتی ملاحظے کے لیے یکجا کیے جائیں۔
    یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب نیب کی شکل میں ایک خودمختار ادارہ بدعنوانی و بے قاعدگیوں کے معاملات کی چھان بین کے لیے باقی پاکستانیوں کے لیے حلال ہے تو اسے حکومت وزیرِ اعظم کے اہلِ خانہ پر عائد الزامات کی چھان بین کے لیے حرام کیوں سمجھ رہی ہے؟
    اگر وہ تمام آف شور کمپنیاں جن کے سرمائے کی آمد و رفت کا قانونی ریکارڈ اور ٹریل مستسنیات سمیت موجود ہے تو پھر اسے پیش کر کے معاملے کو طول دینے سے کیوں نہیں بچا جا رہا ؟ ویسے بھی وزیرِ اعظم کو کیا خوف ہے ؟ ان کا نام تو پاناما لیکس میں ڈائریکٹ بینیفشری کے طور پر کہیں بھی نہیں۔
    جب ایف بی آئی کلنٹن سے ’ذاتی جنسی سکینڈل‘، اسرائیل پولیس اس وقت کے وزیرِ اعظم ایریل شیرون سے ان کے بیٹے کی مبینہ بے قاعدگی کے بارے میں پوچھ گچھ کرسکتی ہے۔ بھارت کی سی بی آئی کی قانونی رسائی ہر سرکاری عہدے دار اور سرکاری ریکارڈ تک ہو سکتی ہے تو پاکستان میں اس مقصد کے لیے بنائے گئے اداروں کی خدمات ’فرسٹ فیملی‘ کے لیے حاصل کرنے سے اتنی ہچکچاہٹ کیوں ؟
    بحران کے غبارے سے ہوا نکالنے کا ایک مثالی طریقہ ’پنجاب ماڈل‘ بھی ہو سکتا ہے۔ جب شہباز شریف کی اہلیت بحال ہونے تک کے درمیانی عرصے میں دوست محمد کھوسہ کو وزارتِ اعلی عارضی طور پر سونپی گئی۔
    وزیرِ اعظم اگر آج یہ اعلان کر دیں کہ جب تک ان کے خاندان کی مالیاتی ایمانداری کے دامن پر لگنے والے دھبے کسی عدالتی و ادارتی تحقیقات کے نتیجے میں دھل نہیں جاتے تب تک ان کے بھائی شہباز شریف مسلم لیگ کے پارلیمانی قائد کے طور پر وزارتِ عظمی چلائیں گے اور حمزہ شہباز وزیرِ اعلی پنجاب ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں وزیرِ اعظم کو ایک اخلاقی و سیاسی سبقت اب بھی حاصل ہو سکتی ہے جبکہ بیشتر اپوزیشن ان کے خلاف صف آرا ہے۔
    بصورتِ دیگر الزامیہ سیاست کا میچ تو چل ہی رہا ہے۔ مگر کوئی بھی میچ غیر معینہ وقت تک نہیں کھیلا جاسکتا۔ اس سے پہلے کہ باقی ٹورنامنٹ بھی گڑبڑا جائے ہر ٹیم کے کھلاڑیوں کو کامن سنس سے کام لینا ہوگا۔
    اپوزیشن کا تو کام ہی حکومت کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا ہے۔ کم از کم حکومت تو عقل کو ہاتھ مارے

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160514_tors_panama_sc_zh



  • Friend Ayatullah Adnak

    Agar Aql ho hi na tou kiya kiya jaye?



  • I see many similarities between a seventh century Arabian ruler, the “savior of the Ummah” Amir Muawiya, and Nawaz Sharif.

    Both had a protruding stomach, bulging eyes, and feet swollen by gout. Both had ruled their dominions for twenty years. Both had more political networking outside of their native land than in the home base. Both had rampart nepotism and an army of adulatory. But here is what they differ at:

    “How far does your cunning reach?” Muawiya once asked his top general. The proud reply—“I have never been trapped in any situation from which I did not know how to extricate myself”. Muawiya countered triumphantly: “I have never been trapped in any situation from which I needed to extricate myself.”

    Centuries from today, a different quote from Nawaz, —who he did not have the guts to ask a question to his top general, will be written “I have repeatedly trapped myself in situation from which I did not know to extricate myself. Always I needed help from others. But Alhamdulillah, Summa Alhamdulillah, this servant of Pakistani people survived again and again”.