طالبان کا امیر کوئٹہ میں ڈرون حملے میں ہلاک



  • افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے دالبندین میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
    افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے حوالے سے یہ سرکاری سطح پر کی جانے والی پہلی تصدیق ہے۔
    ملا منصور گذشتہ سال ملا عمر کی ہلاکت کی خبر آنے کے بعد جولائی 2015 میں طالبان کے امیر بنے۔ تاہم طالبان کے بعض دھڑوں نے انھیں اپنا امیر ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

    اتوار کو افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے بھی کہا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
    خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور پر فضائی حملہ کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق وہ ابھی معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن ان کے خیال میں اس بات کا ’غالب امکان ہے کہ ملا منصور اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

    BBC Urdu



  • ڈرون حملے پاکستانی سالمیت کے خلاف ہیں: نواز شریف کا مزاحیہ بیان



  • فاٹا کے بعد کوئٹہ میں ڈرون حملوں کا آغاز ....سوال یہ ہے کہ لاہور کراچی وغیرہ کی باری کب آئے گی .....امریکیوں سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی لال مسجد کو بھی اپنی ہٹ لسٹ میں شامل کرلیں



  • "
    فاٹا کے بعد کوئٹہ میں ڈرون حملوں کا آغاز ....سوال یہ ہے کہ لاہور کراچی وغیرہ کی باری کب آئے گی ....."

    With either Clinton or Trump in the wings, who are much more hawkish than Obama, not too far in distant future unless Pakistani administration / establishment is willing to give up on its good terrorists and bad terrorists policy.



  • This is the second time the most wanted Jihadi leader was traced out and killed by Americans on Pakistani soil, the first being Osama Bin Laden. The reliance and integrity of Pakistan Armed Forces has become question mark for West one more time. Under Gen. Raheel Sharif Pak forces image was elevated in the Western eyes, but this incident has created doubts. In the meanwhile, politicians are raising their voices on drone/air attacks on Pakistani soil by non-Pakistani forces and that it is in violation of UN Charter. But might is right is bitter but true maxim.



  • ’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے‘

    پاکستان ابھی تک سرکاری طور پر افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہ کر سکا۔ یہ خبر بین الاقوامی اور مقامی میڈیا پر موجود ہے، تاہم حکومت کی جانب سے مکمل خاموشی ہے۔

    ملااختر منصور کی ہلاکت کے کئی گھنٹوں بعد بھی پاکستانی حکام باضابطہ طور پر اس ہلاکت کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں۔ ملکی وزیرِ اعظم نواز شریف برطانیہ میں تشریف فرما ہے جب کہ قومی سلامتی کے مشیر بھی بیرونِ ملک ہیں۔

    بلوچستان حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ،’’اس معاملے کو براہ راست اسلام آباد دیکھ رہا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے کوئی علم نہیں ہے۔ آپ وزارت خارجہ یا وزراتِ داخلہ سے اس سلسلے میں رابطہ کریں۔‘‘وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیزسے متعدد بار فون پر رابطہ کرنی کی کوشش کی گئی، جو کارگر ثابت نہ ہوئی جب کہ دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کسی اجلاس میں مصروف ہونے کی وجہ سے اس مسئلے پر بات نہیں کر سکے۔

    پاکستان کے ذرائع ابلاغ نے کل رات اورآج دن میں بھی کئی مرتبہ ملا منصور کی ہلاکت پر بحث کی جب کہ آج متعدد اخبارات نے اس پر اداریے بھی لکھے ہیں۔ حکومتی حلقوں میں ملا منصور کی ہلاکت کے حوالے سے خاموشی ہے اور بظاہر ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آتی کہ نوشکی سے ملنے والی دوسری لاش جو ممکنہ طور پر ملا منصور کی ہوسکتی ہے، اس کا کوئی ڈی این اے کرایا جائے۔ دوسری لاش کی حوالگی کے لیے بھی کسی نے ابھی تک رابطہ نہیں کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم نواز شریف نے اتوار کو لندن میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا تو اعتراف کیا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انہیں فون کر کے ڈرون حملے کی اطلاع دی تھی لیکن ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق میاں صاحب نے بھی نہیں کی۔ تاہم انہوں نے حسب روایت ڈرون حملوں کو پاکستان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے ایک حصے نے دعویٰ کیا ہے کہ مرنے والا دوسرا شخص ولی محمد تھا۔ جس نے کراچی میں ایک فلیٹ بھی خریدا ہوا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ولی محمددو ہزار دس میں اس فلیٹ میں رہا اور بعد میں اسے کرائے پر دے دیا گیا۔ ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حسا س اداروں نے اس اسٹیٹ ایجنٹ کو حراست میں لے لیا ہے، جس نے ولی محمد کو یہ فلیٹ دالوایا تھا۔

    تجزیہ نگارورں کا خیال ہے کہ ملا منصور کی ہلاکت سے پاکستان مشکلات میں گھر سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’امریکا اس بات پر خفا ہو سکتا ہے کہ ملا منصور پاکستانی علاقے میں مارا گیا جب کہ طالبان اس شک میں مبتلا ہوسکتے ہیں کہ ملا منصورکی مخبری کی گئی ہے۔ اب ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ ہم طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کریں اور اگر وہ راضی نہ ہوں تو پھر ہمیں بین الاقوامی برادری کے ساتھ جانا چاہیے۔ ہم پہلے ہی بہت سی مشکلا ت کا شکار ہیں۔ ایران، بھارت اور افغانستان پہلے ہی ہم سے نا خوش ہیں۔ امریکا سے تعلقات بھی کشید ہ چل رہے ہیں۔ ایسے مرحلے پر ہمیں بہت سوچ بچار کے بعد موثر پالیسی بنانی چاہیے۔‘‘

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملا منصور کی ہلاکت کا ردِ عمل افغانستان میں ہوسکتا ہے لیکن پاکستان میں ایسے کسی ردِ عمل کا امکان نہیں ہے۔

    وفاقی اردو یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر توصیف احمد نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اب امریکا پاکستان پر ڈاکڑ شکیل آفریدی کی رہائی اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے مذید دباؤ ڈالے گا۔ پاکستان کی آرمی پر بھی اب دباؤ ڈالا جائے گا۔ میرے خیال میں پاکستان کا ملا منصور کی ہلاکت میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ امریکا کا اپنا خفیہ اطلاعات کا نیٹ ورک ہے۔ وہ اسلام آباد پر بھروسہ نہیں کرتا۔ اسی لیے واشنگٹن نے حملے کے بعد پاکستان کو اطلاع دی۔‘‘

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر طالبان نے سراج الدین حقانی کو امیر منتخب کیا تو پاکستان کے لیے اور زیادہ مسائل کھڑے ہو جائیں گے کیوں کہ سراج الدین حقانی کو اسلام آباد کے قریب سمجھا جاتا ہے جب کہ امریکا اسے دہشت گرد قرار دیتا ہے۔‘‘

    http://www.dw.com/ur/جانے-نہ-جانے-گل-ہی-نہ-جانے-باغ-تو-سارا-جانے-ہے/a-19277495



  • ملا منصور کی ’ہلاکت‘، سینیٹ میں تحریک التوا

    حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت، ملکی سلامتی اور علاقائی صورت حال کو زیر بحث لانے کے لیے پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایک تحریک التوا جمع کروائی ہے۔

    سینیٹ سیکریٹیریٹ میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے جمع کروائی گئی اس تحریک میں کہا گیا ہے کہ اگر ملا منصور کی ہلاکت کی خبر درست ہے تو پھر یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر دنیا کو مطلوب دہشت گرد مارا گیا ہے۔

    اس سے پہلے پانچ سال قبل القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔

    فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے پاکستانی حکام ملا اختر منصور کی پاکستان میں موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔

    اس تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ یہ تاثر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ بعض ریاستی عناصر شدت پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔

    تحریک التوا میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں ہلاک نہیں بھی ہوئے تو پھر بھی صوبہ بلوچستان میں ڈرون حملہ ہی ایک خطرناک عمل ہے۔

    فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ جو لوگ شدت پسندوں کے لیے ہمدردی کا کوئی جذبہ نہیں رکھتے ان کو بھی اس ڈرون حملے پر شدید تشویش ہے۔

    اس تحریک التوا میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں بلوچستان میں کارروائی نہ کرنے کے حوالے سے طے شدہ مبینہ ’ریڈ لائن‘ بھی عبور کر لی گئی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی مشابہت ملا اختر منصور سے ہے جبکہ کاغذات میں اس کی شناحت محمد ولی کے نام سے ہوئی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس شخص کی ایران سے واپسی کے بارے میں بھی مختلف سوالات جنم لیتے ہیں۔

    ان کے مطابق مذکورہ شخص کی لاش کو جلد بازی میں اس کے بھانجے کے حوالے کردیا گیا اور ان سے جائے حادثہ سے ملنے والے کاغذات کی جانچ پڑتال بھی نہیں کروائی گئی۔

    اُنھوں نے کہا کہ خارجہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے اس بیان سے بھی کافی سوالات جنم لیتے ہیں جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ پاکستان طالبان کمانڈرز کو پناہ اور معاونت فراہم کرتا ہے۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160523_adjournment_motion_killing_mulla_mansoor_zh



  • ایجنسیوں والے لاش کو کسی کنواری دلہنیا کی طرح کیوں لے گئے - کیا سہاگ رات منائینگے -
    ہمیں تو کچھہ سمجھہ میں ہی آتا جیسے



  • hahahahahah

    بھائی کو پتہ ہی نہیں کہ کے کے ایف اور نذیر حسین اسپتال پر حملہ کرکے ڈروں حملہ میں ہلاک ہونے والے ملا منصور کی لاش برآمد کرلی گئی ہے

    بھائی باز نہ آئینگے

    =========================================================
    مجھے غدارکہنے والے پاکستانی سوُ رما لیڈر پاکستان کی جغرافیائی حدود میں ڈرون حملے میں ملااخترمنصور کی ہلاکت کے واقعہ پر کیوں خاموش ہیں؟ الطاف حسین
    پاکستان آزاداورخودمختار ملک ہے پھرامریکی طیارے پاکستان کی حدودمیں کیسے داخل ہوئے ؟الطاف حسین
    امریکی طیارے بہت آرام سے اپنے ہدف کونشانہ بناکر ساتھ خیریت کے کیسے چلے گئے ؟ الطاف حسین
    ہم پر توغداری کاالزام ہے لیکن آج محب وطن خاموش تماشائی کیوں بنے بیٹھے ہیں؟الطاف حسین
    لندن ۔۔۔ 23 مئی 2016ء
    متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے امریکی ڈرون حملے میں طالبان کے سربراہ ملااخترمنصور کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مجھے غدارکہنے والے پاکستانی سوُ رما لیڈر پاکستان کی جغرافیائی حدود میں ڈرون حملے میں ملااخترمنصور کی ہلاکت کے واقعہ پر کیوں خاموش ہیں؟ پاکستان ایک آزاداورخودمختار ملک ہے پھرامریکی طیارے پاکستان کی حدودمیں کیسے داخل ہوئے ؟ اورامریکی طیارے بہت آرام سے اپنے ہدف کونشانہ بناکر ساتھ خیریت کے کیسے چلے گئے ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چلیں ہم پر توغداری کاالزام ہے لیکن آج محب وطن خاموش تماشائی کیوں بنے بیٹھے ہیں؟



  • ڈرون حملہ ، گاڑی سے پاکستانی پاسپورٹ برآمد، نام ولی محمد لکھا ہے

    بلوچستان میں امریکا کے مبینہ ڈرون حملے میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہ ہوسکی، تباہ گاڑی سے ایک پاکستانی پاسپورٹ برآمد ہوا جس میں نام ولی محمد لکھا ہے اور پتہ قلعہ عبداللہ کا درج ہے ، پاسپورٹ ایرانی ویزا لگا ہے اور 21؍ مئی کو ایران سے پاکستان میں داخل ہونے کی مہر چسپاں ہے جبکہ ٹیکسی کےڈرائیور کی شناخت محمد اعظم کے نام سے ہوئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کےصوبہ بلوچستان میں احمد وال کے علاقے میں ڈرون حملے میں طالبان امیر ملا محمد اختر منصور اپنے ایک ساتھی مارے گئے ہیں اور ان کا گاڑی تباہ کر دی گئی ہے تاہم ابھی تک ملا منصور کی ہلاکت کی باضابطہ سفارتی یا عسکری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکی ڈرون حملے میں ملا منصور نہیں ایک ٹیکسی ڈرائیور اور مسافر جاں بحق ہوئے ۔ڈرائیور کا تعلق ٹرا نسپو رٹ کی ایک نجی کمپنی سے تھا۔ان دونوں افراد کی لاشیں احمد وال کے قریب نوشکی اسپتال لائی گئی ہیں ۔ ڈرائیور کی شناخت محمد اعظم کے نام سے ہوئی ہے تاہم دوسرے شخص کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر چاغی کے مطابق نوشکی میں تباہ ہونیوالی گاڑی میں سامان سے ایک شخص کا پاسپورٹ ملا ہے، جو ولی محمد نامی شخص کا ہے، پاسپورٹ کیمطابق ولی محمد قلعہ عبداللہ کا رہائشی تھا۔

    Jang



  • @Qarar
    قرار جی پاسپورٹ وہاں پر موت کے فرشتے بعد میں لائے تھے



  • @gulraiz55
    گلریز صاحب ....یہاں دو ہی ممکنات ہیں ...ایک کہ سیکورٹی اداروں نے ملا منصور کو پناہ دی ہوئی تھی اور اسے شناختی کارڈ بھی جاری کیا تھا ...اس سے ان کی ناہلی ایک بار پھر ثابت ہوتی ہے کہ ڈھنگ سے کسی کو چھپا بھی نہیں سکتے

    دوسری ممکن بات یہ ہوسکتی ہے کہ پاسپورٹ بعد میں رکھا گیا ہے تاکہ ثابت ہو سکے کہ وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا اور فوج نے اسے نہیں چھپایا تھا ...لیکن کوئی پوچھے کہ اسے شنختی کارڈ تو نادرا نے ہی جاری کیا ہے ..یہ انھانی کیسے ہو گئی کہ طالبان کا امیر سرخی پاوڈر لگا کے ...سوہنی سی تصویر کچھوا کے پاکستانی پاسپورٹ لیے گھوم پھر رہا ہے اور کسی کو کوئی شک نہیں ہوا اور آرام سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری ہوگئے



  • @Qarar
    قرار صاحب یہ بھی ممکن ہے کہ ولی محمد کی شکل ملا سے ملتی ہو اسکے پاسپورٹ پر اس نے اپنی تصویر لگادی ہو یا ایجنسیوں نے اسکی تصوہر لگا کر کہہ دیا کہ پاسپورٹ وہاں سے ملا ہے - وہاں کوئی دیکھنے والا تو تھا نہیں - ہوسکتا ہے ایرانیوں نے اسے پہچان لیا ہو اورامریکہ کو بتا دیا ہو کہ یہ بھاگ رہا ہے - آخر ملا کو ایران سے اکیلا بھاگنے کی کیا ضرورت تھی اسک ساتھہ کوئی اور کیوں نہ تھا =

    یہ بات تو ممکن ہی نہیں کہ جس بری طرح گاڑی جلی ہے اسمیں سے پاسپورت کا زندہ سلامت نکل آنا ایسا ہی ہے جیسے مریخ پر آدمی مل جائے

    ایجنسیوں کو ڈیڑھہ ہوشیاری دکھانے کی کیا ضرورت ہے ، ایکطرف بمباری کرتے ہیں دوسری طرف ملا اور اسامہ جیسوں کو پناہ میں رکھتے ہیں - ایکطرف امیریکہ سے پارٹنر شپ کرتے ہیں دوسری طرف اسپر حملے کراتے ہیں - اوپر سے بہادروں نے ایرانی صدر کو دورے کے دوران اتنی تڑیاں لگائیں کہ اچھا بھلا دوست دشمن بن گیا - ابے انکو عقل کب آئیگی ، آئیگی بھی یا نہیں



  • alt text

    پاسپورٹ کی یہ تصویر جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے غالبا اس حملے سے پہلے لی گئی ہے اور سب سے پہلے یہ تصویر افغانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ کی گئی تھی۔

    کچھ لوگ شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ تصویر گاڑی پر حملے کے بعد وہاں سے پاسپورٹ کی برآمدگی کے وقت لي گئی ہے۔ جس کی ابھی تک تصدیق با تردید کسی نے نہیں کی۔

    یہ تصویر غالبا تفتان بارڈر پر ایرانی حکام کی جانب سے لی گئی ہے اور افغانیوں کی طرف سے اسکا منظر عام پر آنا کافی معنی خیز اس لیے بھی ہے کہ اس میں ایرانی اور افغانی ملی بھگت پوری طرح شامل ہے۔



  • Frequent flyer ‘Mansour’ used Pakistan airports

    QUETTA: Afghan Taliban chief Mullah Akhtar Mansour, believed to have been killed in a US air strike in Balochistan on Saturday, was a frequent traveller and over the past nine years used at least two Pakistani airports for his visits abroad.

    Mansour was coming to Quetta from Taftan when his car came under the drone attack, killing him and his driver.

    A passport and a computerised national identity card found near the burnt car bore the name of Muhammad Wali. It’s suspected that Mansour carried fake travel papers.

    According to a senior official of an investigation agency, Wali frequently travelled between Karachi and Dubai, and Iran via the Pakistani border town of Taftan. He had returned to Taftan from Iran on May 21 and was killed the same day at around 3pm by the US drone in the Kochki area of Nushki district.

    “Wali had a Pakistani passport and was travelling on it with a valid visa of Iran and Dubai,” the official told Dawn on condition of anonymity, adding that the passport was twice issued to him from the Quetta passport office — first in 2006 and then in October 2011, after the previous one had expired. “The passport was valid up to October 2016.”

    The national identity card, too, was issued to Wali from Quetta in 2002 and after completion of its 10 years’ validity it was renewed from Karachi.

    The official claimed that Wali was a frequent flyer and 70 per cent of his travel originated from Karachi airport; once he flew from Quetta airport.

    He started travelling abroad on Mach 12, 2006, and flew to Dubai from Karachi airport. His last travel on March 31, 2015 was also from Karachi to Dubai.

    “He visited Dubai 18 times using Karachi airport on valid visas and once from Quetta airport,” said a senior government official. “We have no idea what the purpose of his frequent visits to Dubai was.”

    As regards his visits to Iran, he travelled to Iran twice through the Taftan border crossing.

    “He first went to Iran on Feb 19, 2016, and returned to Pakistan through the Taftan border town on March 10, 2016,” the official said, adding that he again travelled to Iran on April 25 this year and returned to Pakistan through the same route on May 21.

    “Wali reported at the FIA immigration checkpost at Taftan 9.7am on May 21,” he said.

    Sources said that he hired a car at Taftan to travel up to Quetta. He had lunch at Padak near the Dalbandin area of Chagai district before resuming the journey. However, before reaching Quetta his car came under the drone attack.

    http://www.dawn.com/news/1260344/frequent-flyer-mansour-used-pakistan-airports



  • As per the records he made total of 2 visits to Iran and that too in this year, first in Feb-March and the second in Apr-May.

    So what was the purpose of his visits to Iran?

    He might have been negotiating with Afghan government secretly in Iran and his negotiations may have been fallen during his last visit upon which Afghans would have asked the Americans to eliminate him before he spill any beans. Plausible?



  • شاہ دولہ کا چوہا پریس کانفرنس میں کہہ رہا ہے کہ پاسبورٹ ملا ہے



  • یہ بات تو ممکن ہی نہیں کہ جس بری طرح "گاڑی جلی ہے اسمیں سے پاسپورت کا زندہ سلامت نکل آنا ایسا ہی ہے جیسے مریخ پر آدمی مل جائے"

    I don't know why some people think that Pakistanis are not talented. They have time machine by which they were able to recover from the burnt vehicle, what might have been destroyed with the drone attack.