Qandeel murdered



  • very sad



  • 0_1468771263103_Me too.jpg



  • Pakistani men only display selective 'ghairat', which only applies to women. I'm saddened by the fact that on social media, people are openly expressing their opinion that "something had to be done", so basically a segment of our society is not only condoning the act but is also giving a cold blooded murderer a clean chit.

    I would like to ask both the loser brothers where was their ghairat when they accepted money from their sister for opening up their mobile phone shop. Where was their so-called ghairat when they saw the sister supporting their parents financially. These good for nothing brothers were fine accepting money from their sister but saw a big 'objection' in her life style - yeah that's ghairat.

    I wouldn't be surprised if the molvi has something to do with this.



  • ’وہ قاتل بھائی سمیت سب کی کفالت کرتی تھی‘

    قندیل بلوچ کے والد نے اپنی بیٹی کے قتل کے بعد ان کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ اپنے قاتل بھائی سمیت پورے گھرانے کی کفالت کیا کرتی تھیں۔‘
    قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم نے مقامی میڈیا کو بتایا: ’وہ میرے اس بیٹے سمیت سب کی کفالت کرتی تھی جس نے اسے قتل کیا۔‘
    قندیل بلوچ کے بھائی نے خاندان کی عزت اچھالنے کے الزام میں انھیں غیرت کے نام پر نشہ آور دوا دینے کے بعد قتل کر دیا تھا۔
    قندیل بلوچ سوشل میڈیا پر مقبول متنازع شخصیت تھیں۔
    26 سالہ قندیل کا اصل نام فوزیہ عظیم تھا اور انھیں سوشل میڈیا پر بےباک بیانات، تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرنے سے شہرت ملی۔ حال ہی میں ان کی مفتی عبدالقوی کے ساتھ تصاویر نے ہلچل مچائی تھی۔
    ان کی موت نے پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے بحث چھیڑ دی کہ ’عورت کا کون سا رویہ قابلِ برادشت ہے؟‘
    ماڈل اور اداکارہ قندیل بلوچ کو ملتان میں ان کے والدین کے گھر میں قتل کیا گیا۔ ان کے 25 سالہ بھائی وسیم کو گرفتار کیا گیا اور انھوں نے اعترافِ جرم بھی کر لیا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ قتل سوشل میڈیا پر قندیل کی تصاویر پوسٹ کیے جانے کی وجہ سے کیا۔
    قندیل بلوچ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں خود کو حقوق نسواں کی علم بردار کہا تھا۔
    14 جولائی کو انھوں نے فیس بک پر لکھا: ’میں ایک ماڈرن حقوق نسواں کی حامی ہوں۔ مجھے یہ انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں کہ عورت کو کس طرح کا ہونا چاہییے۔ اور میرا نہیں خیال کہ ہمیں معاشرے کے لیے خود پر کوئی لیبل لگانے کی ضرورت ہے۔ میں آزاد سوچ اور آزاد ذہن والی ایک عورت ہوں اور مجھے ایسا ہی رہنا پسند ہے۔‘
    اس سے پہلے تین جولائی کو قندیل نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا: ’مجھ سے محبت کرو یا نفرت، دونوں ہی میرے حق میں جاتے ہیں۔ اگر آپ مجھ سے محبت کریں گے تو میں آپ کے دلوں میں ہمیشہ رہوں گی اور اگر نفرت کریں گے ہمیشہ آپ کے ذہنوں میں رہوں گی۔‘
    قندیل کے والدین نے ان کی قتل کی رپورٹ میں اپنے دو بیٹوں کو نامزد کیا ہے۔
    ان کے بقول ان کے بیٹے قندیل کی کامیابیوں پر ناخوش تھے اور اس کے خلاف ہو گئے تھے حالانکہ وہ ان کی بھی کفالت کرتی تھی۔
    ان کے علاقے کے لوگوں نے بھی اس قتل کی مذمت کی ہے۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160718_qandeel_baloch_father_tk



  • پاکستان اور ترکی میں بس اتنا سا فرق ہے کہ قندیل اگر وہاں ہوتی تو محفوظ ہوتی، اور فوجی بغاوت یہاں ہوتی تو کامیاب ہوتی ۔