ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو سے متعلق بیان پر پاکستان کی چپ



  • مریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عملے کی جانب سے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی وضاحت اور گفتگو کا مختلف متعن سامنے آنے کے بعد سے پاکستان نے چپ سادھ لی ہے۔
    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
    ان کا کہنا تھا ’ہمارے پاس ان (ٹرمپ کے انتقال اقتدار کے عملے ) کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے اس لیے میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔‘
    وزیر اعظم پاکستان نے دو دن قبل یعنی بدھ کو امریکہ کے منتحب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد دینے کے لیے ٹیلی فون کیا تھا۔ جس کے بعد وزیرِ اعظم ہاؤس نے روایت کے برعکس دونوں سربراہان کے درمیان ہونے والی گفتگو کا تمام متن پریس ریلیز کے ذریعے جاری کر دیا۔

    اس کے نتیجہ میں امریکی میڈیا اور سابق امریکی حکومتی اہلکاروں نے پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سفارتی آداب کی خلاف وزری قرار دیا۔
    اس سلسلے میں پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے ’وہ کسی اور حکومتی ادارے کی کارروائی سے متعلق تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘

    More...

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan-38183370



  • During such congratulation calls, leaders exchange pleasantries and say nice things to each other. Nawaz Sharif should have known that Trump was just being nice, otherwise, we all know that Trump doesn't think Pakistanis are terrific people or he didn't mean it when he said that he couldn't wait to visit Pakistan. It was wrong of PM office to issue the details of the call to media and put Trump in an embarrassing position.



  • ساڈھے سادے میاں صاحب
    وسعت اللہ خان

    جب کوئی اجنبی آپ کو کال کر کے اچھی اچھی خوشگوار باتیں کرتا ہے تو کیا آپ جواباً یہ نہیں کہتے کہ جنابِ والا خدا آپ کو بھی زندگی بھر کامران کرے۔ آپ جب بھی کراچی تشریف لائیں تو ملاقات کا شرف بخشیے گا، آپ جب چاہیں مجھے فون کر سکتے ہیں، خدا آپ کو اور آپ کے شاندار خاندان کو سلامت رکھے، اپنے باصلاحیت احباب کو بھی میرا سلام کہیے گا۔
    اگر وہ اجنبی آپ کے مروتی جذبات کے ایک ایک لفظ کو حقیقی سمجھتے ہوئے کبھی صبح چھ بجے، کبھی رات دو بجے کال کرنا شروع کر دے اور آپ سے کہے کہ جناب آپ ہی نے تو کہا تھا کہ میں جب چاہے کال کرسکتا ہوں۔ کیسا لگے گا آپ کو ؟
    جب آپ کے گھر کوئی مہمان آتا ہے تو کیا اسے دروازے تک رخصت کرتے ہوئے اخلاقاً یہ نہیں کہتے کہ حضور یہ غریب خانہ آپ ہی کا ہے، جب چاہیں تشریف لا سکتے ہیں۔
    اگر وہ مہمان آپ کی اس خوش خلقی کو لفظ بہ لفظ لے کر ہر دوسرے تیسرے روز آپ کے گھر کی گھنٹی بجانا شروع کر دے اور آپ کے ماتھے پر ناگواری کی شکنیں دیکھ کے کہے کہ جنابِ والا آپ ہی نے تو کہا تھا کہ یہ غریب خانہ میرا بھی ہے۔ مجھے کیا معلوم کہ آپ ایسے ہی عادتاً کہہ رہے تھے؟
    کوئی جازبِ نظر خاتون بس سٹاپ پر کھڑی اپنے خیالات میں منہمک تھیں۔ ایک سردار جی دو بار ان کے قریب سے گزرے اور تیسری بار گزرتے ہوئے پوچھا ’مینوں پہچائیا‘؟ خاتون نے کہا نہیں تو ؟ سردار جی نے کہا ’کمال اے۔ دو واری تہاڈے سامنے توں لنگیہا واں۔ فیر وی بیگانے ہو‘۔۔۔۔
    پشتو کی ایک مثال ہے کہ کاش مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ تیرے تو تین دانت مستقل ہی منہ سے باہر نکلے رہتے ہیں تو میں تیری مروت میں ہنستے ہنستے یوں بے حال نہ ہوتا۔
    سفارت کاری میں تو اور بھی زیادہ مروتی آداب برتے جاتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو اور ہر بات کو ہو بہو لے لیا جائے تو سوچیے کیسے کیسے مسائل کھڑے ہو جائیں۔
    مثلاً ہر سعودی بادشاہ کہتا ہے کہ پاکستان سگہ بھائی ہے۔ اگر کوئی پاکستانی وزیرِ اعظم یہ سوچنے لگے کہ سگہ ہونے کے ناطے تیل کے آدھے کنوئیں ہمارے ہیں تو اندازہ لگایے کہ سعودیوں پر کیا گزرے گی۔
    ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان کی صدر سائی اینگ وین کی مبارک بادی کا فون وصول کرتے ہوئے ان سے دو طرفہ دفاعی، اقتصادی اور سیاسی تعاون بڑھانے کی بات کی۔ تو کیا صدر سائی وین اس گفتگو کی بنیاد پر یہ سوچنے لگیں کہ امریکہ نے 40 برس سے جاری اپنی ون چائنا پالیسی ترک کر دی؟
    ٹرمپ نے میاں نواز شریف کی تہنیتی کال وصول کرتے ہوئے یقیناً میاں صاحب کو ایک شاندار لیڈر قرار دیا ہوگا۔ ٹرمپ کے نزدیک یقیناً پاکستانی عوام اعلیٰ ترین صلاحیتوں سے مالامال ہوں گے اور ٹرمپ یقیناً پہلی فرصت میں پاکستان کا دورہ کرنے کے لیے بے تاب ہوں گے۔ مگر اب سے پہلے وزیرِ اعظم ہاؤس کے میڈیا سیل نے کتنے عالمی رہنماؤں سے ٹیلی فونک گفتگو کا پورا متن شائع کیا؟

    اس متن کی ڈرامائی اشاعت کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات ایک پیچیدہ معاملہ ہیں۔ مناسب ہوگا کہ ٹرمپ یا ان کی عبوری ٹیم غیر ملکی رہنماؤں سے رابطے سے پہلے محکمہ خارجہ سے رابطہ کر لیا کرے۔
    اب وزیرِ اعظم کے معتمد برائے امورِ خارجہ طارق فاطمی واشنگٹن جا رہے ہیں۔ وہ ٹرمپ کی ٹیم سے بھی ملیں گے۔ شاید یہ تصدیق بھی کریں کہ ٹرمپ نے میاں صاحب کو جس طرح ایک اچھی شہرت کا حامل ایسا شاندار شخص کہا ہے جس کی کامیابیوں کے چرچے ہر طرف ہیں، تو کہیں یہ طنز تو نہیں ؟ کیا واقعی ٹرمپ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔
    کیونکہ میاں صاحب پاکستانیوں کے منہ سے تو ایسے ’شاندار، جاندار، زبردست‘ جملے سننے کو ایک عرصے سے ترس رہے ہیں۔
    شاید فاطمی صاحب ٹرمپ ٹیم سے یہ درخواست بھی کریں کہ جو گفتگو ٹرمپ نے فون پر کی اگر ہو بہو نہیں تو کم ازکم اس کا خلاصہ ہی ٹویٹ کر دیں۔ تاکہ یہ خلاصہ ازقسمِ عمران خان و بلاول بھٹو کے منہ پر مارا جا سکے اور پاکستانی محکمہ خارجہ کے ریکارڈ کا بھی حصہ بن سکے۔
    گاؤں کے مراثی نے نمبردار کے دیوان خانے میں داخل ہو کر حسبِ دستور زمین پر بیٹھنا چاہا تو نمبردار نے اسے ہاتھ سے پکڑ کے عزت کے ساتھ صوفے پر اپنے برابر بٹھا لیا۔ مراثی کو خاصا حوصلہ ہوا اور اس نے باتوں باتوں میں پراعتماد بے تکلفی برتتے ہوئے اپنے بیٹے کے لیے نمبردار کی بیٹی کا رشتہ مانگ لیا۔۔۔۔کالم طویل ہو رہا ہے باقی قصہ جانے دیں۔۔۔۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan-38199295