یوم اظہاریکجہتی کشمیر



  • چند باتیں وہ بھی مختصر انداز میں : تحریر:سردارساجدالرحمن خان
    1عام آدمی کو موقع دیااور یہ ایک اہم بات ہے کہ نئے لوگوں کو موقع فراہم کرنا کہ وہ اپنا اظہار خیال کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں
    اور ا سی طرح سے نئے آئیڈیاز پر کام شروع کیا جاسکتا ہے چونکہ کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان مہاجر بھی اسی وجہ سے کہلائے جارہے ہیں حالانکہ پوری دنیا میں پانچ سے دس سال اس ملک میں گزارنے والے مہاجر نہیں ہوتے وہ ان ملکوں کے درجہ اول کے شہری کہلائے جاتے ہیں ۔
    2۔ مہاجرین جموں وکشمیر دو طرح سے ووٹ کاسٹ کرتے ہیں ایک پاکستان میں اور دوسرا آزادکشمیر اسمبلی کے لئے پاکستان سے بارہ ایم ایل ایز کے لئے اور ہم کو اس بات کا بارہا جواب دینا پڑتا ہے کہ ہم دو ووٹ کیوں کاسٹ کرتے ہیں جس کا جواب دینا تھوڑا مشکل بھی ہے ۔ یہاں پر کچھ بات ان منتخب ایم ایل ایز کی ذمہ داریوں کی بھی ہے جو مہاجرین کے نمائندہ کہلائے جاتے ہیں ۔
    (الف) کیا بطور کشمیری مہاجرین ہم اپنی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ؟
    (ب) کیاہم یہ جانتے ہیں کہ ہماری ثقافت کیا تھی ؟کلچر کیاتھا؟کیا ہماری نئی نسل کو ایسی سہولیات میسر ہیں جن کے بل بوتے پر آنے والے
    وقت میں ہم یہ یقین کرلیں کے ہم نے ایک ایسی نظریاتی افرادی قوت تیار کرلیں گے جو کشمیر کی آزادی کے لئے وہ تمام ضروریات پوری
    ٍٍٍ کرسکتی جو قائدانہ صلاحیت کی مالک ہو ؟
    2۔ اگر ہم ان سوالوں کے جواب نہیں دے سکتے تو ہم مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان اس بات پر غور ضرور کریں کہ ہمیں ان بارہ سیٹوں کی ضرورت ہے یا نہیں جو ہماری نمائندگی کرتی ہیں جن کی وجہ سے ہم اپنی نئی نسل کو دوراہے پر کھڑا کررہے ہیں؟ یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں ایسی آوازیں اٹھ رہیں ہیں کہ ریاست سے باہر موجود کشمیریوں کی تیسری چوتھی نسل کو کشمیری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
    3۔ دنیا بھر میں گزشتہ تیس چالیس سالوں میں آنیوالی تبدیلیوں میں ہم کس مقام پر کھڑے ہیں مسلح جدوجہد سے لیکر پر امن تحریکوں کے باوجود اگر ہم ہندوستان سے آزادی حاصل نہیں کر سکے تو اس میں ایک اہم بات ہماری آپسی اتحاد کا نہ ہونا سب سے اہم وجہ ہے جو قومیں آزادی کے جدوجہد کرتی ہیں انکو سٹڈی کرنا بہت ضروری ہے ۔
    4۔ جذباتی تقریریں اپنے ہی ملک میں روڈز بلاک کر کے اپنی ملک کے شہریوں کے لئے مشکلات کھڑی کرنا، اشتعال انگیز نعرہ بازیاں،ماردھاڑ، توڑ پھوڑ اور دنیا کی ان طاقتوں کو جو آزادی کشمیر پر اثر انداز ہوسکتی ہیں کو دھکمانہ جیسے پہلے روس توڑا اب امریکہ کی باری جیسے عزائم رکھ کر ہم آزادی حاصل کرسکتے ہیں کیا ہمارے سیاسی عزائم کھلے عام ہونے چاہیے یا سیاست کو سیاسی انداز میں سرانجام دینا چاہیے ؟ میں کھلے الفاظ میں کہتاہوں کہ امریکہ یا کوئی وہ ملک جو اپنے سیاسی بصیرت سے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ترقی کی راہیں کھولتا ہے دنیا کے وسائل اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اکھٹی کرتاہے و ہ بالکل ٹھیک کرتے ہیں وہ سیاست کرتے ہیں نعرہ بازیاں ،اشتعال انگزیاں نہیں کرتے عملی سیاست کرتے ہیں ہمیں بھی سیاست کرنی چاہے ہمیں سیاسی انداز میں اپنی آنے والی نسلوں کے لئے وسائل اکھٹے کرنے چاہیے جب آپ کسی کو آنکھیں دکھائیں گے وہ بھی کمزور پوزیشن میں تو وہ آپ کیلئے کبھی ترقی کی راہیں نہیں کھلنے دیں گے ۔آخری بات اقبال شعر کے مصرعے پر ۔
    جدا ہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.