کراچی میں تشدد کیوں؟



  • I think this is the good analysis what is happening in Karachi .These were not the "lisaani fasadaat " .Group of people not fighting with each others not even you can find hatred as it was in 80s .now this is the political game by MQM,ANP,PPP .

    http://x.pkpolitics.com/discuss/?new=1

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کراچی پولیس

    کراچی میں تشدد پاکستان میں حکومتی عملداری کے بارے عالمی بےچینی کو مزید ہوا دینے کے لیے ہے: مبصرین

    کراچی میں پچھلے کئی مہینوں کے امن و سکون کے بعد بدھ کو ہونے والے تشدد کے واقعات نے ایک بار پھر شہر کے اس روایتی سیاسی مزاج کو تازہ کردیا جو چند ہی لمحوں میں برہم ہونے اور ریاستی نظام کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    تشدد کی اس نئی لہر کی وجوہات کے بارے میں شہر کی دو بڑی نمائندہ سیاسی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے مؤقف میں قدرے یکسانیت ہے۔دونوں جماعتیں اس خونی کھیل کے پیچھے لینڈ مافیا، منشیات فروش اور ان جیسے دوسرے جرائم پیشہ عناصر کا ہاتھ دیکھ رہی ہیں البتہ ایم کیو ایم ایک اور بات بھی کہتی ہے۔

    ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ ان جرائم پیشہ عناصر کو ان شدت پسندوں کی حمایت بھی حاصل ہے جنہیں عرف عام میں طالبان یا عسکریت پسند کہا جاتا ہے اور وہ کراچی میں ڈنڈے کے زور پر شریعت لانا چاہتے ہیں۔

    البتہ اپنی حلیف ایم کیو ایم کے ان خدشات کو حکومتی اتحاد کی سربراہ جماعت پیپلز پارٹی بے بنیاد قرار دے کر رد کرتی آئی ہے۔

    اسی طرح شہر کی تیسری نمائندہ قوت عوامی نیشنل پارٹی بھی جسے پچھلے انتخابات میں پہلی بار سندھ اسمبلی میں دو نشتیں حاصل ہوئیں۔ ایم کیو ایم کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔

    اے این پی کا کہنا ہے کہ کراچی میں طالبان یا عسکریت پسندوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور اس بارے میں ظاہر کئے جانے والے خدشات بدنیتی پر مبنی ہیں۔

    اے این پی یہ بھی کہتی ہے کہ قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ ڈویژن میں فوج اور عسکریت پسندوں کی لڑائی کے نتیجے میں جن ہزاروں لوگوں نے محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کی ہے ان میں سے کئی لوگ کراچی بھی آئے ہیں جنہیں طالبان یا شدت پسند نہیں کہا جاسکتا۔

    سوال یہ ہے کہ کیا بات صرف یہی ہے کہ ان واقعات کے پیچھے جرائم پیشہ یا شدت پسند عناصر کا ہاتھ ہے یا اسکی کچھ اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

    امریکی خبر رساں ادارے سے وابستہ سینئر صحافی اشرف خان کہتے ہیں کہ اس قتل و غارت کے محرکات سیاسی ہیں۔’پچھلے ہفتوں میں ہم دیکھ رہے تھے کہ ٹارگٹ کلنگ ہو رہی تھیں اور شہر میں تناؤ کی ایک فضاء تھی اور یہ تناؤ نہ صرف لسانی بنیادوں پر تھا بلکہ شہر میں کچھ فرقہ وارانہ بنیاد پر قتل کے واقعات بھی ہوئے۔ تو بدھ کو لوگوں کو لسانی بنیادوں پر مارا گیا جسے حکومتی نمائندے اور سیاسی جماعتیں یہ کہنے سے گریز کررہے ہیں کہ یہ لسانی تشدد تھا۔‘

    اشرف خان نے کہا کہ انہیں حکومتی جماعتوں کے مؤقف پر تعجب ہے کہ تشدد کے واقعات میں لینڈ مافیا کا ہاتھ ہے۔ 'اگر لینڈ مافیا بھی ہے تو ان جماعتوں کے کارکنان اس معاملے کو خود کیوں طے کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جماعتیں اقتدار میں ہیں اور یہ ریاستی مشینری استعمال کرسکتے ہیں اور لینڈ مافیا کو نکال باہر کرسکتے ہیں تو ایسا کیوں نہیں کرتے۔‘

    ان کے بقول لگتا یہ ہے کہ لینڈ مافیا کی آڑ میں ایجنڈا کچھ اور ہے جو لینڈ مافیا اور دوسرے عناصر کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

    سینئر تجزیہ کار پروفیسر توصیف احمد بدھ کی ہنگامہ آرائی کو لسانی فسادات ماننے کے لیے تیار نہیں۔

    ’لسانی فسادات اسے کہہ سکتے ہیں جب عوام کے مختلف گروہ لڑیں۔ یہ صحیح ہے کہ مرنے والوں کا تعلق دو کمیونٹیز سے ہے مگر اس تشدد میں دونوں طرف کے عوام کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ سب کچھ ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے لیکن عوام کہیں بھی اس میں حصہ نہیں لے رہے۔‘

    پروفیسر توصیف احمد نے بتایا کہ جب کچھ مہینے پہلے اسی نوعیت کے پرتشدد واقعات ہوئے تھے تو ان کے محلے میں مونگ پھلی فروخت کرنے والا ایک شخص غائب ہوگیا تھا اور جب حالات معمول پر آنے کے بعد وہ واپس آیا تو علاقے کے بہت سارے لوگ جو دوسری زبان بولتے ہیں اسکی خیریت معلوم کررہے تھے۔‘

    توصیف احمد نے کہا کہ تشدد کے حالیہ واقعات شہر میں لسانی فسادات کرانے کی کوشش تو ہوسکتی ہے لیکن ان کے بقول لوگوں کے درمیان جو سماجی اور معاشی رشتے قائم ہیں اس کی بنیاد پر یہ کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔

    ان کے بقول ان واقعات سے حکومت کی انتظامی ناکامی زیادہ ابھر کر سامنے آئی ہے اور اس کے نتیجے میں غیرملکی دنیا میں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کا حکومتی ڈھانچہ اپنے سب سے بڑے صنعتی شہر کا انتظام بھی صحیح طور پر نہیں چلا پا رہا۔



  • I met some Pukhtoons on my recent visit in karachi. According to them they have been targeted by MQM as they won't them to leave karachi. They have been threatened toleave karachi for over a year now. Every day there is one or two random pukhtoons killed with a sniper firing.

    According those Pukhtoons that we had it enough now. We are not safe in Pukhtoonkhwa due to Talibaan and Army and here due to MQM.

    He said that it will be difficult for us to fight Talibs and Army together but we will very well fight MQM in their own Muhallas if this continue like this.

    I won't be surprise if some day the MQM top brass is wiped out by a sucide bomber in Karachi!



  • MQM = mamuli keray makoray

    aur keray makoroin ko marnay kay leye spray karna hee kafe hay....


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.