جماعت اسلامی اور حزب تحریر کے وفد نے شمالی وزیرستان کا دورہ



  • <p>جماعت اسلامی اور حزب تحریر کے وفد نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا اور طالبان اور القاعدہ کے لیڈروں سے ملاقات کی اور یہ یقین دلایا کے آپ کی اس مشکل گھڑی میں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے شانہ با شانہ لڑنے کا عزم کرتے ہیں ،

    طالبان کے لیڈروں نے جب اپنی کاروایاں اور خودکش دھماکوں اور سر کاٹنے کی ویڈیو دھکھائیں جنھیں دیکھ کر جماتوں اور حزب پر کپکپی چڑھ گئی اور انہوں نے طالبان قیادت کو اسس بات پر قائل کرنے کی پوری کوشش کی کے یہ دہشت گردی آپ نے نہیں کی پر طالبان تھے کے مناتے ہی نہیں اور اسس بات مر اسرار کرتے رہے کے یہ ہم ہی ہیں

    جماعت اسلامی اور حزب تحریر والوں سے طالبان بوہت ناراض بھی تھے وہ کہ رہے تھے کے جب ان کے لیڈر شہید ہوتے ہیں تو وہ احتجاج کیوں نہیں کرتے ہیں ؟ اور جب سوات میں ہم لڑ رہے تھے تو یہ جماعتی ہماری مدد کو کیوں نہیں آے ؟ اور طالبان کو انڈیا کا ایجنٹ کہنے پر بھی وہ بہت خفا ہوئے .

    وفد نے یہ بتایا کے ہم اسلامی نظام اور خلافت چاہتے ہیں جس پر طالبان کی قیادت نے کہا کے خلفت تو صرف ملّا عمر اور حکیم الله محسود ہی کی ہوگی اور اسلامی نظام فضلاللہ کی طرز پر ہوگا اسس کے علاوہ ساری جماعتیں اور نظریہ باطل ہیں اور ہم ان کو قتل کریں گے .(یہ بات سن کر وفد کا منہ حلق میں آگیا )

    حکیم الله محسود بہت ہی طیش میں آچکے تھے انہوں نے اپنی کلاشنکوو سے فائر کِیےہ اور اپنی sathi کی churee کی teraf اشارہ کیا اور پورے وفد کو طالبان کی عدالت میں پیش کرنے کو کہا

    طالبان کی اسلامی عدالت نے جماعت اسلامی اور حزب پر یہ الزامات آ ید کے اور پورے وفد کے سر اور دھڑ الگ کرنے کا حکم جاری کیا .

    طالبان کے جماعت اسلامی اور حزب تحریر پر یہ الزامات تھے

    ہمارے کِیےہ ہوئے دھماکوں اور قتل کو انڈیا اور امریکہ کے کھاتے میں ڈالنا طالبان کو کمزور کرنا

    طالبان کو انڈیا کا اجنٹ کہنا

    ملّا عمر سے بیعت نہ کرنا

    امیر مومنین بیت الله محسود اور دوسرے طالبان لیڈروں کی شہادت پر احتجاج نہ کرنا

    طالبان کا مسلّح کاروایوں میں ساتھ نہ دینا اور دور بیٹھ کر حمایت کرنا

    کبھی طالبان کی حمایت اور کہبھی مخالفت کرنا

    عدالت نے پران ہی چھریاں تیز کرنے والے کو حکم دیا اور جلد از جلد ان کو حلال کرنے کا حکم جاری کیا .

    جماعت اسلامی اور حزب تحریر کا وفد ہاتھ جوڑتا رہ گیا پر حکم جاری ہو چکا تھا اب رحم صرف حکیم الله ہی کر سکتے تھے .

    اسس سانحے کے بعد حزب تحریر اور جماعت اسلامی کی لاہور ،کراچی اور لندن میں باقی رہ جانی والی قیادت نے فیصلہ کیا کے ابّ تو کبھی نہیں جائیں گے طالبان کے علاقے میں ،جس ٹیڑھا وہ فضلاللہ کے سوات میں نہیں گایہ تھے .اپپ وہ صرف اور صرف لندن ،نیو یارک ،لاہور اور کراچی میں بیٹھ کر ہی طالبان کی حمایت میں بولتے rahain گے </p>



  • This post is deleted!


  • This post is deleted!