Supreme Court wants a list of those handed over to US in Musharraf Era



  • Assalam-o-Alaikum-Warahmat-ULLAH ALL,

    سپریم کورٹ نے حکومت سے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کے حوالے کیے جانے والے افراد کی فہرست طلب کرلی ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کو دوسرے ملکوں کے حوالے کیا جانا ایک المیہ ہے۔

    یہ ریمارکس جمعرات کے روز جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی لاپتہ افراد کے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے گئے۔

    جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ سابق صدر نے اپنی کتاب میں بھی ان افراد کا ذکر کیا ہے کہ انہیں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہونے کی بنا پر دوسرے ملکوں کے حوالے کیا گیا ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملکی عدالتیں موجود ہیں اور ایسے افراد کے خلاف پہلے ملکی قوانین کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تھی۔

    اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت تک ملک بھر سے سولہ سو افراد لاپتہ ہیں اور اگر عدالت چاہے تو لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک تشکیل دیا جائے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر خفیہ ادارے اس کمیشن سے تعاون نہیں کریں گے تو پھر اس کی کمیشن کی حثیت کیا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اداروں نے کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔

    پاکستانیوں کو تو بڑی آسانی سے غیر ملکی جیلوں مں ڈال دیا جاتا ہے اور کوئی شور نہیں مچتا جبکہ اس کے برعکس اگر پاکستان میں کسی غیر ملکی کو ایک منٹ کے لیے بھی روکا جائے تو ردعمل سامنے آجاتا ہے۔

    جسٹس جاوید اقبال

    عدالت کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد سے متعلق پیش کیے گئے اعدادوشمار میں تضاد پایا جاتا ہے اور حکومت اس ضمن میں ایک مفصل رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

    جسٹس جاوید اقبال نے حکومت سے بیرون ملکوں میں قید پاکستانیوں کی فہرست بھی طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو تو بڑی آسانی سے غیر ملکی جیلوں مں ڈال دیا جاتا ہے اور کوئی شور نہیں مچتا جبکہ اس کے برعکس اگر پاکستان میں کسی غیر ملکی کو ایک منٹ کے لیے بھی روکا جائے تو ردعمل سامنے آجاتا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سنہ دو ہزار چھ اور سات میں تیرہ سو افراد لاپتہ ہوئے جس کی بڑی وجوہات بلوچ رہنما اکبر بُگٹی کا قتل اور لال مسجد آپریشن تھا۔ بینچ کے سربراہ نے ان افراد کی بازیابی سے متعلق اداروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو ادارے کام نہ کریں اُن سے کام لینا پڑے گا۔ انہوں نے کہ عدالت نے لاپتہ افراد کا معاملہ چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے اور عدالت اس کے نتائج کی پرواہ نہیں کرتی۔

    بینچ میں شامل جسٹس راجہ فیاض نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خفیہ ادارے لاپتہ افراد سے متعلق جھوٹ بول رہے ہیں اور اس حوالے سے پولیس بھی ڈری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں کس کی ہمت ہے کہ وہ لاپتہ افراد سے متعلق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ راجہ فیاض کا کہنا تھا کہ ایسے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

    ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خفیہ ادارے لاپتہ افراد سے متعلق جھوٹ بول رہے ہیں اور اس حوالے سے پولیس بھی ڈری ہوئی ہے

    جسٹس راجہ فیاض

    راولپنڈی سے لاپتہ ہونے والے مسعود جنجوعہ کی بازیابی سے متعلق اٹارنی جنرل نے ایک سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص خفیہ ایجنسیوں کے پاس نہیں ہے۔ عدالت نے مسعود جنجوعہ کی عدم بازیابی سے متعلق مقدمے کی تفتیش مکمل نہ ہونے پر راولپنڈی پولیس کے ایس پی کامران عادل کی سرزنش کی اور کہا کہ مذکورہ شخص کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

    عمران منیر نامی شخص جو اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں انہوں نے اپنی ڈائری میں اس بات ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مسعود جنجوعہ کو خفیہ اداروں کی تحویل میں دیکھا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عمران منیر پر بھارت کے لیے جاسوسی کا الزام ہے اور اس کا مقدمہ فوجی عدالت میں دوبارہ چلے گا جس پر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت یہاں پر ملک دشمن عناصر کو تحفظ دینے کے لیے نہیں بیٹھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی تو عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔

    مسعود جنجوعہ کی اہلیہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے عدالت میں درخواست دی کہ عمران منیر کو فوجی حکام کے حوالے نہ کیا جائے تاہم عدالت نے اس درخواست پر کسی قسم کی کارروائی کا حکم نہیں دیا۔

    ایبٹ آباد سے لاپتہ ہونے والے عتیق الرحمن کے بارے میں پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ مذکورہ شخص سنہ دوہزار چار میں لاپتہ ہوا تھا اور اُن کی اطلاعات کے مطابق عتیق الرحمن خفیہ اداروں کی تحویل میں ہے۔ اس پر عدالت نے ڈی آئی جی ایبٹ آباد کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کرلیا۔

    عدالت یہاں پر ملک دشمن عناصر کو تحفظ دینے کے لیے نہیں بیٹھی ہوئی۔کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی تو عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔

    جسٹس جاوید اقبال

    جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت تفتیش کے لیے وقت دینا چاہتی ہے اس لیے وہ ان معاملات کو آہستہ آہستہ لیکر چل رہی ہے لیکن اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ عدلیہ کمزور ہے۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اگر عدالت نے اس وقت کوئی سخت احکامات جاری کیے تو ہو سکتا ہے کہ اس سے لاپتہ افراد کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں۔

    اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے لاپتہ افراد سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک سیل قائم کردیا ہے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ خود اس سیل کی کارکردگی کو مانیٹر کریں گے۔کراچی سے لاپتہ ہونے والے معطفی اعظم کے مقدمے کی سماعت کے دوران فرنٹیئر کانسٹیبلری کے آئی جی عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی سے متعلق تفتیشی افسر نے عدالت سے مہلت مانگ لی۔

    ان درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ طے ہوا کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت ہر ہفتے یعنی دو دن بدھ اور جمرات کو ہوا کرے گی۔



  • SC seeks details of Pakistanis handed over to US

    • AG suggests judicial commission to look into disappearances

    • Says 1,600 people had gone missing by 2008

    • Court asks DAG to submit list of Pakistanis detained abroad

    Very commendable. Hope they get somewhere.



  • I hope Supreme Court also orders to prepare list of money received in return for selling Pakistanis.



  • Assalam-o-Alaikum-Warahmat-ULLAH ALL,

    Not just that, I hope ALL of those who sold Pakistanis', who are found to have done this, that the court of law order for them to be HANGED!!! IN OPEN!!! PUBLIC!!! in-front of ALL the nation, for this nation and the entire world to see!!!, so no! one in the world dares to do this with any Pakistani EVER!!! AGAIN.

    Pakistan, its people, its justice system need to send crystal clear signals to this nation, and to ALL the nations of this world, to not dare torment any Pakistani.



  • Missing persons in a sense those that ended up in american secret prisons held in places all over the world, were handed over to the americans during the Musharraf era. Some of them went missing during post Musharraf times and it is still happening.

    Somewhere (agencies) there is a record of these unfortunates and that should be made available to the courts as demanded.



  • When are all these hundreds of NGOs on civil rights in Pakistan going to rally on this issue? Or they fear to lose their 'donors'?



  • @Salam

    Correct and where is Imran's Khan's Tehreek-e-Insaf doing on this issue. Relatives of those missing are demanding justice. PTI can certainly initiate a movement on this. Or he fears ISI more than God?



  • the number of Pakistanis ,Musharraf handed over to USA ...in return Musharraf should be handed over to Pakistan .

    and we will hang him ,the same number of times ,as much number of ppl being hnaded over to US .



  • SC should award death sentence to Musharraf ...